عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر کے وزیر برائے امور صارفین ستیش شرما نے کہا ہے کہ اگرچہ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال آنے والے دنوں میں ایندھن کی سپلائی چین اور بازاروں کو متاثر کر سکتی ہے۔جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ستیش شرما نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ فی الحال ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے۔انہوں نے کہا ’’اس وقت ہمارے پاس ایل پی جی کے مناسب ذخائر موجود ہیں، لیکن ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ عالمی حالات سازگار نہیں ہیں۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات ضرور مرتب ہوں گے‘‘۔
وزیر نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے بیانات اور اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’آج امریکہ جو بھی کرتا ہے، خواہ صدر ٹرمپ جمعہ کے روز حملے کی بات کریں یا منگل کو تاجر یہ کہیں کہ صورتحال معمول پر ہے، یہ دراصل ایک قسم کی تجارتی جنگ کا حصہ ہے‘‘۔ستیش شرما نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال پوری دنیا کی معیشتوں اور سپلائی نظام کو متاثر کرتی ہے اور بھارت بھی اس سے الگ نہیں رہ سکتا۔انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ عالمی چیلنجوں کو سمجھنے کے بجائے اب بھی فرقہ وارانہ اور ذات پات کے تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا ’’ہم ابھی تک ان معاملات کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ایک لحاظ سے ہم سو سال پیچھے ہیں۔ برطانوی دور کے خاتمے کے تقریباً اسی سال بعد بھی ہم ہندو مسلم اختلافات اور ذات پات کی تقسیم جیسے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، جبکہ ہمیں ان تنازعات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے‘‘۔وزیر نے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں سماجی ہم آہنگی، اتحاد اور عوامی بیداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ممالک کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی اور تجارتی تنازعات کا اثر براہ راست توانائی کی فراہمی، قیمتوں اور معاشی استحکام پر پڑ سکتا ہے، اس لیے عوام اور حکومت دونوں کو محتاط اور باخبر رہنے کی ضرورت ہے