جموں//مختلف طبقوں کے لوگوں کے ایک گروپ نے جموں وکشمیرمیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اوربھائی چارے کی قدروں کوبنائے رکھنے اوران کی آبیاری کرنے کاعہدکیا اورضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اورقتل کی وحشیانہ قتل میں ملوث درندہ صفت افرادکوکیفرکردار تک پہونچانے کی زوردارمانگ کی ہے ۔ہندوﺅں، سکھووں،بودھوں اورمسلمانوں کاایک گروپ ہاتھوں میں پرچم لئے ہوئے شام کوباہوپلازہ پارک میں جمع ہوا ۔اس گروپ کاپیغام ”ہم مختلف مذہب اورخطوں سے آئے ہوئے ہیں اورسماجی جرائم کے خلاف ہم سب ایک ہیں“تھا ۔لوگوں کایہ گروپ بھارت کے حق میں نعرے بلندکررہے تھے۔اس موقعہ پر مقررین نے کہاکہ جرائم چاہے کسی بھی علاقہ یاخطہ میں ہو،اس کے خاتمہ اوراس کے خلاف ہم سب یک جٹ ہوکرآوازاٹھائیں گے۔ اورہم خطہ کی بنیادوں پر لوگوں کوتقسیم کرنے کی کسی کوہرگزاجازت نہ دیں گے۔یہ بات فہدمیرفاﺅنڈیشن کی بانی رُچی چوہان خان نے بتائی۔انہوں نے کہاکہ مجرم کاکوئی مذہب نہیں ہوتاہے۔انہوں نے بچی کی عصمت ریزی اورقتل میں ملوث مجرموں کوعبرتناک سزادینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے وحشیانہ جرائم میں ملوث مجرموں کوپھانسی کی سزا ہونی چاہیئے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔خان نے کہاکہ جموں وکشمیررنگ برنگے پھولوں کاایک خوبصورت گلدستہ ہے اورہم مختلف زبانیں بولنے والے اورمختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے بھائی چارے اورآپسی پیار ومحبت سے رہتے آرہے ہیں۔