عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی //وزیر اعظم نریندر مودی 17 فروری کو ممبئی میں فرانسیسی جمہوریہ کے صدر ایمینوئل میکرون سے ملاقات کریں گے، جہاں دونوں رہنما ہند-فرانس اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ علاقائی و عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ ملاقات لوک بھون، ممبئی میں سہ پہر تقریباً 3:15بجے متوقع ہے، جبکہ شام 5:15 بجے دونوں قائدین ہند،فرانس سالِ اختراعات 2026 کا باضابطہ افتتاح بھی کریں گے اور کاروباری رہنماو ¿ں، اسٹارٹ اپس اور محققین کے اجتماع سے خطاب کریں گے۔صدر میکرون 17 تا 19 فروری بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ بھارت کی میزبانی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے ساتھ ممبئی میں دوطرفہ سربراہی اجلاس میں بھی حصہ لیں گے۔ یہ ان کا بھارت کا چوتھا اور ممبئی کا پہلا دورہ ہوگا۔ مذاکرات میں دفاع، نئی و ابھرتی ٹیکنالوجیز، تجارت، اختراع اور باہمی تعاون کے نئے شعبوں تک شراکت کو وسعت دینے پر توجہ دی جائے گی۔ادھر وزیر اعظم نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں عالمی رہنماو ¿ں، صنعت کاروں اور اختراع کاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 1.4 ارب عوام کی طاقت، مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی بدولت بھارت مصنوعی ذہانت کی عالمی تبدیلی میں صفِ اول میں ہے۔ سمٹ کا موضوع “سروجن ہتائے، سروجن سکھائے—سب کی فلاح و بہبود، سب کی خوشی” ہے، جو انسان پر مرکوز اور جامع ترقی کے لیے اے آئی کے استعمال کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے سنسکرت سبھاشتم شیئر کرتے ہوئے نوجوانوں کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی میں ملک کی تیز رفتار پیش رفت پر فخر کا اظہار کیا۔ایک اور پیش رفت میں وزیر اعظم نے راجستھان کے بھیواڑی میں آتشزدگی کے واقعے میں جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کے ساتھ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔دریں اثنا، پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم مودی نے مرکزی بجٹ، “ریفارم ایکسپریس” کی رفتار، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کے فروغ، دفاعی شعبے پر زور اور عالمی معیشت میں بھارت کے بڑھتے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت، کارکردگی اور مسابقت بڑھانے والی ساختی اصلاحات کے ذریعے جامع ترقی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور دنیا بھارت کے ساتھ کاروبار میں دلچسپی لے رہی ہے۔مجموعی طور پر آئندہ دنوں میں ممبئی اور نئی دہلی میں ہونے والی مصروفیات کو بھارت-فرانس تعلقات کی مضبوطی، اختراع و ٹیکنالوجی میں تعاون کے فروغ اور داخلی ترقیاتی ایجنڈے کی پیش رفت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔