سرینگر//انتظامیہ نے غیر منظم محنت کشوں کی قومی ڈاٹا بیس پورٹل’ای شرم‘ پر رجسٹریشن کیلئے نگران کمیٹیوں کا قیام لانے کا اعلان کیا ہے۔سرکاری حکم نامہ کے مطابق مرکزی زیر انتظام خطے پر اس نگران کمیٹی کی کمان چیف سیکریٹری کو سونپی گئی ہے ۔ کمیٹی میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کے فائناشل سیکریٹری(ایڈیشنل چیف سیکریٹری) محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے پرنسپل سیکریٹری،محکمہ شہری ترقی و مکانات کے پرنسپل سیکریٹری، محکمہ زرعی پیداوار و بہبود کاشتکار کے پرنسپل سیکریٹری، محکمہ اطلات و تعلقات عامہ کے پرنسپل سیکریٹری، محکمہ صنعت و حرفت کے پرنسپل سیکریٹری، محکمہ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری، محکمہ محنت و روزگار کے کمشنر سیکریٹری،محکمہ سماجی بہبود کے سیکریٹری، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انتظامی سیکریٹری، لیبر کمشنر، مرکزی وزارت برائے محنت و روزگار کی طرف سے نامزد ویلفیئر کمشنر،سی ایس سی ریاستی کارڈینٹر،یوٹی سطح غیر منظم محنت کشوں، بلڈنگ اینڈ اتھر کنسٹریکشن ورکرس ،گھریلو ورکروں،آشا وکروں،آنگن واڈی ورکروں، پٹری فروشوں،ریڑہ بانوں،منریگا ورکروں،اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں،ماہی گیروں اور چھوٹے دکانداروں کی انجمنوں،ایسوسی ایشنوں،فیڈریشنوں کے صدر و سیکریٹری اس کے ممبران ہونگے۔ اس کمیٹی کو ضلع ترقیاتی کمشنروں کے پاس غیر منظم محنت کشوں کی رجسٹریشن کا جائزہ اور نگرانی کے علاوہ ضلع وارفیلڈ سطح کے عمومی سہولیاتی مراکز کو دئیے گئے اہداف کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔حکم نامہ کے مطابق یہ کمیٹی غیر منظم محنت کشوںکے سب گروپوں کو متعلقہ محکموں(ضلع سطحی) کے ذریعے’ای شرم‘ کے تحت رجسٹریشن کرنے کیلئے متحرک کرے گی۔کمیٹی کو غیر منظم محنت کشوں کی بہبود کیلئے انجمنوں سے رابطہ قائم کرکے ان کے ممبران کو رجسٹریشن کیلئے قائل کرنے کیلئے متحرک کرنا بھی ہوگا۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ یوٹی سطح کی کمیٹی غیر منظم محنت کشوں کیلئے ضلعی سطحوں پر رجسٹریشن کیمپوں کا انعقاد کرے گی جبکہ ’ای شرم ‘ کے ممکنہ مستحقین کیلئے معلومات ،علم اور مواصلات کے پھیلائو اور محکمہ محنت و روزگار کے علاوہ دیگر سرکاری ذرائع کے ذریعہ اس کے نفاذ کیلئے حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی کو غیر منظم محنت کشوں کی جانب سے ’ای شرم‘ میں یکمشت رجسٹریشن کی نگرانی اور مرکزی زیر انتظام سطح پر ضلع لیبر دفتروں،فروغ ہنر مراکز،اہم مقامات اور دیگر ان جگہوں پر جہاں مزدور ہوتے ہیں،میں بحث و مباحثہ،سمینار،عوامی میٹنگیں،طلاب کی شمولیت،یونیورسٹیوں،کالجوں،میڈیا چینلوں، کتابچوں،پوسٹروں،اشتہاروں، بینروں،کتبوں،مہموں و غیر کے بیداری پروگراموں کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔کمیٹی کو ہر سہ ماہی میٹنگ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی سطح پر ان کمیٹیوں کی ذمہ داری متعلقہ ضلع مجسٹریٹوں کو دی گئی ہے،جبکہ ان کمیٹیوں میں ضلع ترقیاتی کونسل کے چیئرپرسن،بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے چیئرپرسن، مونسپلٹیوں و دیگر بلدیاتی اداروں کے کمشنر،چیف ایگزیٹوں افسراں،ضلعی صنعتی مراکز کے جنرل منیجر، آئی سی ڈی ایس کے پروگرام آفسر، چیف ایجوکیشن افسراں،چیف ایگریکلچر افسراں،اسسٹنٹ لیبر کمشنر، بلاک ڈیولپمنٹ افسراں،ضلع سوشیل ویلفیئر افسر،ضلع انفارمیشن افسر،اسسٹنٹ ڈئریکٹر فشرئز،،این ایچ ایم، ایس ایس اے،ایس آر ایل ایم اور ایس ایل یو ایم کے ضلع سطح کے افسراں،سی ایس سی کے ضلع کارڈنیٹر اور محکمہ انفارمیشن،و این آئی سی کے علاہ غیر منظم محنت کشوں کی ضلع سطح کی انجمنوں کے صدور و سیکریٹری اس کے ممبران ہونگے۔ ضلع سطح کی کمیٹیاں ضلع سطح پر غیر منظم محنت کشوں کی راجسٹریشن کا جائزہ لے گی۔ کمٰٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ماہانہ میٹنگوں کا انعقاد بھی کرے۔