ایجنسیز
ایتھنز//غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد پہنچانے اور اسرائیل کی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کرنے والے درجنوں کشتیوں پر سوار کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ان کے قافلے کو روک لیا اور عملے کو حراست میں لے لیا، جب یہ فلوٹیلا یونان کے جنوبی جزیرے کریٹ کے قریب سفر کر رہا تھا۔گلوبل صمود فلوٹیلا اس ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس مہم میں 70 سے زائد کشتیاں اور دنیا بھر سے تقریباً 1000 افراد شامل تھے، جبکہ مزید جہاز بحیرہ روم کے مشرق کی جانب سفر کے دوران اس قافلے میں شامل ہوتے گئے۔یہ کوشش اس واقعے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد کی گئی ہے جب اسرائیلی حکام نے اسی گروپ کی ایک اور مہم کو ناکام بنا دیا تھا۔
گروپ نے ایک بیان میں کہا، ’’اسرائیل کے اقدامات ایک خطرناک اور بے مثال اضافہ ہیں، یعنی بحیرہ روم کے وسط میں، غزہ سے 600 میل سے زیادہ فاصلے پر، عالمی منظرِ عام پر شہریوں کا اغوا۔‘‘اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا کہ وہ فلوٹیلا میں شامل 20 سے زائد کشتیوں سے تقریباً 175 کارکنوں کو اسرائیل منتقل کر رہی ہے۔اسرائیل اور مصر نے 2007 میں حماس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے غزہ پر مختلف سطح کی ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی حماس کو ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ غزہ کی فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ترکی کی وزارت خارجہ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قزاقی‘‘ قرار دیا۔بیان میں کہا گیا، ’’گلوبل صمود فلوٹیلا کو نشانہ بنا کر، جس کا مقصد غزہ کے معصوم عوام کو درپیش انسانی بحران کی جانب توجہ مبذول کروانا تھا، اسرائیل نے انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ترک وزارت خارجہ کے ترجمان اونجو کیچیلی نے ایکس پر لکھا کہ وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس واقعے پر اپنے ہسپانوی ہم منصب جوزے مینوئل الباریس بویونو سے فون پر بات کی۔یونان میں کارکنوں نے جمعرات کی دوپہر ایتھنز میں وزارت خارجہ کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا، ان کا کہنا تھا کہ کشتیوں کو اس سمندری علاقے میں روکا گیا جو تلاش و بچاؤ کی ذمہ داری کے تحت یونان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، مگر یونانی کوسٹ گارڈ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔غزہ میں چھ ماہ پر محیط ایک نازک جنگ بندی نے اسرائیلی افواج اور حماس کے زیر قیادت جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کو روک دیا ہے۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 790 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔