اُن کے اذہان میں اُجاس نہیں
’’جن کے لہجے میں کچھ مٹھاس نہیں‘‘
لفظ بے دردہوں توبے معنی
شاعری صرف اقتباس نہیں
وقت چہروں کے رنگ بدلے گا
کوئی چہرہ سدا لباس نہیں
اپنے ایمان پر نظر رکھئے
دھن کا لُٹ جانا کوئی لاس نہیں
ہم نے دیکھے ہیں غورسے چہرے
کون ایسا ہے جو اُداس نہیں
جن کو جاں سے عزیز تر سمجھا
بس اُنہیں کو ہمارا پاس نہیں
عمر گزری ہے تپتے صحرا میں
ہم لبِ جو ہیں اب تو پیاس نہیں
اُسکی رحمت سے زیست بسملؔ کی
ورنہ جینے میں کچھ بھی راس نہیں
خورشیدبسملؔ
تھنہ منڈی راجوری ، جموں
موبائل نمبر؛9622045323
نوٹ:- لفظ اُجاس سنسکرت
لفظ ہے جسکا مطلب ہے چمک روشنی
جنوب کی زمین ہو ، یا ہو شمال کی زمین
سدا رہی ہے کس کے پاس انتقال کی زمین
ردیف غم کی قافیہ ستم کا لہجہ رنج کا
مرے سخن کے پاس رہ گئی ملال کی زمین
زمین غیر پر نہ قبضہ ہے ہمارا اور نہ حق
ہمارے پاس سات مرلے ہیں حلال کی زمین
کہیں پہ بھوک اگتی ہے کہیں پہ پیاس اگتی ہے
ہمارے گاؤں میں کہاں ہے استعمال کی زمین
تجلیاں کہیں گریں کہیں پہ برق گرگئی
ہمارے حصے میں تو آئی ہے کمال کی زمین
زمین پر کہاں ہے آدمی کی کوئی بھی زمین
کہیں دیال کی زمیں کہیں کمال کی زمین
اشرف عادل
سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9906540315
شمعِ خاموش پہ بیدار نظر ٹھہری ہے
جانے کس چاند کے گاؤں میں سحر ٹھہری ہے
شوق آمادۂ رفتارسفرہے لیکن
تیری آہٹ پہ مری راہ گزر ٹھہری ہے
سازشیں ہجر کی ڈالے ہیں وہیں پر ڈیرا
خواہشِ وصلِ گماں زار جدھر ٹھہری ہے
ایک ہلچل ہے شبستانِ گل و بلبل میں
بادِ صرصر جو لئے تازہ ہُنر ٹھہری ہے
کل کی بارش پہ ترا نام تھا لکھا رُت نے
آج پھر دھوپ ترے زیرِ اثر ٹھہری ہے
کتنے بے حال ہوئے اس نے جو کھڑکی کھولی
کوچۂ مرگ میں فی الحال خبر ٹھہری ہے
جاگ اٹھتی ہے کوئی یاد پرانی شیداؔ
سانس لگتی ہے کہ چلتی ہے مگر ٹھہری ہے
علی شیدا ؔ
نجدون نیپورہ اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
ہوئے حالات ہیں ابتر یہ انساں بھی ہوا خوگر
فقط برلب رواں اکثر غمِ دوراں کی باتیں ہیں
زمانہ ہو گیا دشمن صدائے حق پہ ہے قدغن
جہاں جائیں وہاں رہزن غم وحِرماں کی باتیں ہیں
زباں شیریں، قلب پُرشر، نہاں در آستیں خنجر
یہی حالات ہیں در در اسی عنواں کی باتیں ہیں
کرم کیا ہی کئے مجھ پر سُناتا پھر رہا در در
کہے میرا دلِ مضطر یہ کیا احساں کی باتیں ہیں
یہاں ارشادؔ ہر رہبر بنا ہے خوگر و خود سر
نہ ہے کوئی کرم گُستر نہ حرزِ جاں کی باتیں ہیں
ارشاد علی ارشاد
مہو ویلی ،بانہال، جموں
موبائل نمبر؛9906205535
جاگنا پڑتا ہے ان کو جو تھکے ہوتے ہیں
ٹوٹے گھر میں کبھی زیور بھی رکھے ہوتے ہیں
جسم کے ساتھ کہ سائے بھی جڑے ہوتے ہیں
یہ شجر اتنے نہیں اور بڑے ہوتے ہیں
غور سے اس کو ذرا دیر اگر دیکھیں تو
ایک تصویر میں کچھ رنگ نئے ہوتے ہیں
خوشبو دیتے ہیں مگر دِکھتے نہیں ہیں ہم کو
ایسے کچھ پھول بھی اس دل میں کِھلے ہوتے ہیں
خود خریدار کو دیتے ہیں یہ اپنی قیمت
بِکنے والے کئی ایسے بھی بِکے ہوتے ہیں
یہ بھی ہوتا ہے جدا دیکھنے والے رستے
آگے جا کر کہیں آپس میں جڑے ہوتے ہیں
موم بچ جاتا ہے کچھ دھاگا بھی رہ جاتا ہے
جلنے والے بھی کہاں پورے جلے ہوتے ہیں
جن گلاسوں کو کئی کہتے ہیں آدھا خالی
کتنے افراد کو وہ آدھے بھرے ہوتے ہیں
خشک ہو کر بھی نہیں جاتی ہے ان کی خوشبو
کچھ ایسے پھول کتابوں میں رکھے ہوتے ہیں
چند مٹی تو یہاں تک بھی چلی آتی ہے
پتھروں پر بھی کئی پودے اُگے ہوتے ہیں
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
جہاں بھی بشر سے بھلائی ہوئی ہے
جہاں میں انہی کی خدائی ہوئی ہے
خدا کی رضا پر کریں کیوں گلہ ہم
بھلا کس نے قسمت لکھائی ہوئی ہے
جلائے ہیں رشتوں کے بندھن بھی جس نے
کہ زر نے وہ آتش جلائی ہوئی ہے
دلوں کو جدا ہی نہ کر دے یہ دیوار
جو آنگن میں تم نے اٹھائی ہوئی ہے
کسی مے میں ایسا نشہ ہی نہیں ہے
تری آ نکھوں نے جو پلائی ہوئی ہے
جلا کر تری یادوں کے دیپ ہم نے
حسیں دل کی محفل سجائی ہوئی ہے
معینؔ اپنے دل کی رکھو بات دل میں
زباں سے جو نکلی پرائی ہوئی ہے
معین فخر معین
موبائل نمبر؛003443837244
یوں اپنے آپ ہی رستہ بھٹک گیا ہوں میں
جو طے ہوا نہیں مجھ سے وہ فاصلہ ہوں میں
جو ہو سکے تو مرا احترام کر لینا
کسی کے دل میں اترنے کا راستہ ہوں میں
میں انتظار کروں گا تمہارے آنے کا
شَب فراق! یہی خواب دیکھتا ہوں میں
چراغِ ہجر تھا لیکن وصال یار کی شب
بغیر تند ہواؤں کے بجھ گیا ہوں میں
جو تیرے چہرے پہ گردو غبار ہے تو کیا
مجھے ملال نہیں تیرا آئنہ ہوں میں
بچا کے رکھ مجھے شاید قبول ہو جاؤں
اداس دل سے نکلتی ہوئی دعا ہوں میں
جازب جہانگیر
سوپور بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛7006706987
بچھڑتے لمحوں سے بھی وفا داری کی ہے
لوگ کہتے ہیں اچھی ادا کاری کی ہے
بُھول جانے کا فن دین ہے زمانے کی
کچھ تو نادانی ‘ کچھ تو سمجھداری کی ہے
وفا کے پرندے بے پر کیوں ہوگئے
زمانے کی ریت شاید غداری کی ہے
یادوں کے بھنور میں ہلچل ہے وعدوں کی
وعدوں کے شہر میں ہم نے ایمانداری کی ہے
سب کے لبوں پر باتیں ہیں محفلؔ کی
ہم نے سدا اوروں کی پردہ داری کی ہے
محفل ؔ مظفر
پلہا لن پٹن بارہمولہ کشمیر