عظمیٰ نیوز سروس
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو جموں ضلع میں آپریشن سندور کے دوران بلا اشتعال پاکستانی گولہ باری اور حالیہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے نئے مکانات کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔اپنے خطاب میں، لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے سرکاری خزانے سے ایک پیسہ خرچ کیے بغیر گھر بنائے جا رہے ہیں۔ان تین بیڈ روموں کے پری فیبریکیٹڈ سمارٹ ہائوسز کی تعمیر فائونڈیشن کے کام کے آغاز سے چھ ماہ کے اندر مکمل ہونے والی ہے۔ گھروں کی تعمیر کے علاوہ، HRDS انڈیا مستفید کنبوں کو کافی فلاحی پیکیج فراہم کر رہا ہے۔ HRDS انڈیا اگلے 15 سالوں کے لیے خاندان کے تمام افراد کے لیے مفت لائف انشورنس کوریج، خاندان کے تمام ممبران کے لیے مفت سالانہ ہیلتھ چیک اپ اور اگلے 5 سالوں کے لیے گھروں کی دیکھ بھال کے لیے کوریج فراہم کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے غریبوں کی زندگیوں میں ایک یادگار تبدیلی لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا”گزشتہ 5 سالوں میں، لاکھوں غریبوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے اور پسماندہ اور غریب علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا گیا ، متعدد چیلنجوں کے باوجود مضبوط ترقی کی رفتار حاصل کی ‘‘۔جموں ضلع میں 350 مکانات 35 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جائیں گے۔ تین بیڈ روم کے ان نئے پری فیبریکیٹڈ سمارٹ ہا ئوسز کی تعمیر کی لاگت ایک این جی او ہائی رینج رورل ڈیولپمنٹ سوسائٹی (HRDS India) برداشت کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ شہر جموں کو ایک جامع شہری مرکز کے طور پر ترقی دینے کی ہماری مسلسل کوشش ہے،ہمہ جہت ترقی کے لیے اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات غربت کے خاتمے، سماجی انصاف اور سب کے لیے یکساں مواقع کے خواب کی تعبیر کا باعث بنے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندھ کے دوران پاکستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے دوران المناک طور پر جان کی بازی ہارنے والے شہری کے قریبی رشتہ داروں کو ایکس گریشیا اور سرکاری نوکری فراہم کی گئی۔لیفٹیننٹ گورنر نے استفادہ کنندگان سے بھی بات چیت کی اور متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی کے لیے حکومت ہند اور UT انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔جموں کے مستفید ہونے والوں میں راہ سلیوٹ گاں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ 23 خاندان بھی شامل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ گزشتہ تین ماہ سے ان خاندانوں کو کھانا اور عارضی رہائش فراہم کر رہی ہے۔