شعائر ِاسلام
آصف حسین الکشمیری
دنیا آج جس دوراہے پر کھڑی ہے وہاں انسان نے ترقی تو بے شمار کر لی ہے، مگر انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ شہروں کی بلند عمارتیں، سائنسی ایجادات، تیز رفتار زندگی اور مادّی آسائشیں انسان کو ظاہری طور پر مضبوط ضرور بنا رہی ہیں، لیکن دل کے اندر سکون، معاشرے کے اندر محبت اور انسانوں کے درمیان اعتماد مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ نفرت، جنگ، ظلم، خود غرضی، تعصب اور بے حسی نے انسانی رشتوں کی حرارت کو سرد کر دیا ہے۔ طاقتور کمزور کو روند رہا ہے، مفادات انسانیت پر غالب آ چکے ہیں اور دنیا کے کئی خطوں میں معصوم انسان خوف، بھوک، بے گھری اور بے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے تاریک ماحول میں عید الاضحیٰ ایک عظیم روحانی، اخلاقی اور انسانی پیغام لے کر آتی ہے، جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی طاقت، دولت اور شہرت میں نہیں بلکہ ایثار، محبت، قربانی اور امن میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی سنت اور حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت سے پوری انسانیت کو ملا، اور یہی وہ روشنی ہے جو آج بھی انسانیت کے زخمی وجود کو سکون عطا کر سکتی ہے۔
عید الاضحیٰ دراصل انسان کو اپنی ذات کے حصار سے باہر نکلنے کا درس دیتی ہے۔ یہ عید انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ صرف اپنے لیے جینے کے بجائے دوسروں کے درد کو بھی محسوس کرے، اپنی خواہشات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ضرورتوں کو بھی اہمیت دے اور اپنی خوشیوں میں محروم طبقات کو شریک کرے۔ قربانی کا اصل فلسفہ یہی ہے کہ انسان اپنی انا، غرور، لالچ، نفرت اور خود غرضی کو اللہ کے حکم کے سامنے قربان کرے۔ اگر قربانی صرف جانور ذبح کرنے تک محدود رہ جائے اور انسان کے کردار، سوچ اور رویے میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو تو پھر اس عظیم عبادت کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ اسلام انسان کو ظاہری عبادت کے ساتھ ساتھ باطن کی پاکیزگی کا بھی درس دیتا ہے، اسی لیے قرآن کریم میں واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تک نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس کے حضور انسان کا تقویٰ، اخلاص اور نیت پہنچتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو عید الاضحیٰ کو صرف ایک مذہبی رسم کے بجائے ایک مکمل انسانی اور اخلاقی انقلاب بنا دیتا ہے۔
آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ محبت اور انسان دوستی ہے۔ انسان ترقی کے باوجود تنہائی، بے چینی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ رشتے کمزور پڑ رہے ہیں، معاشرے تقسیم ہو رہے ہیں اور دلوں میں نفرتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں عید الاضحیٰ انسانیت کو محبت، اخوت اور باہمی احترام کا درس دیتی ہے۔ قربانی کا گوشت غریبوں، محتاجوں، یتیموں اور ضرورت مندوں تک پہنچانا دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں خوشیاں صرف مالداروں تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر محروم انسان بھی عزت اور محبت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ یہ عید انسان کے اندر ہمدردی پیدا کرتی ہے، اسے دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کا شعور دیتی ہے اور یہ احساس بیدار کرتی ہے کہ حقیقی خوشی صرف اپنی ذات کے لیے جینے میں نہیں بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔
عید الاضحیٰ امن کا بھی ایک عظیم عالمی پیغام ہے۔ آج دنیا کے مختلف حصے جنگوں، خونریزی، دہشت، سیاسی مفادات اور طاقت کی کشمکش میں جل رہے ہیں۔ معصوم انسان مارے جا رہے ہیں، بستیاں تباہ ہو رہی ہیں اور انسانیت سسک رہی ہے۔ ایسے وقت میں حضرت ابراہیمؑ کی قربانی انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا اصل حسن ظلم میں نہیں بلکہ رحم میں ہے اور عظمت دوسروں کو دبانے میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں ہے۔ اگر دنیا کے طاقتور ممالک، سیاسی رہنما اور عالمی ادارے ایثار، انصاف اور انسان دوستی کے اصولوں کو اپنا لیں تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ عید الاضحیٰ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ محبت ہے، ظلم کا علاج انصاف ہے اور انتشار کا حل انسانیت کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو ایک پُرامن اور باوقار دنیا کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
عید الاضحیٰ کا سب سے بڑا پیغام یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اندر برداشت، صبر اور رواداری پیدا کرے۔ آج معمولی اختلافات پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں اور معاشرے نفرت کی دیواروں میں تقسیم ہوتے جا رہے ہیں۔ زبانوں میں تلخی، رویوں میں سختی اور دلوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں عید الاضحیٰ انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ اگر حضرت ابراہیمؑ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے بڑی محبت قربان کر سکتے ہیں تو انسان اپنی انا، ضد اور نفرت کو کیوں قربان نہیں کر سکتا؟ یہی وہ سوچ ہے جو معاشرے کو انتشار سے نکال کر اخوت، برداشت اور باہمی احترام کی طرف لے جا سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو آج ہتھیاروں سے زیادہ نرم دلوں، محبت بھرے رویوں اور ایثار کرنے والے انسانوں کی ضرورت ہے۔
یہ عید امتِ مسلمہ کے اتحاد اور باہمی اخوت کا بھی ایک خوبصورت مظہر ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں، زبانوں، نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی جذبے کے ساتھ قربانی پیش کرتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام انسانوں کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑنے کا پیغام دیتا ہے۔ آج جبکہ دنیا تعصب، نسلی برتری اور فرقہ واریت کے مسائل میں الجھی ہوئی ہے، عید الاضحیٰ انسانیت کو یہ درس دیتی ہے کہ اصل عظمت رنگ، نسل یا زبان میں نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور انسان دوستی میں ہے۔ اگر انسان اس سوچ کو اپنا لے تو معاشرے نفرتوں سے پاک اور محبتوں سے بھر سکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو آج کے منتشر اور ٹوٹتے ہوئے معاشروں کو ایک نئی فکری اور اخلاقی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ جب انسان دوسرے انسان کو مذہب، زبان، نسل اور علاقے کی عینک سے دیکھنے کے بجائے صرف انسان سمجھ کر اس کے ساتھ محبت اور احترام کا برتاؤ کرے گا، تب ہی حقیقی امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکے گی۔ اسلام نے ہمیشہ انسانیت، مساوات اور باہمی احترام کی تعلیم دی ہے اور عید الاضحیٰ انہی عظیم اقدار کی عملی تصویر بن کر سامنے آتی ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں شکرگزاری کا احساس بھی عطا کرتی ہے۔ انسان جب قربانی کرتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہی احساس انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے اور اسے غرور و تکبر سے بچاتا ہے۔ جو انسان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر گزار بن جاتا ہے، وہ دوسروں کے لیے بھی آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے دل میں محروم انسانوں کے لیے درد پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی خوشیوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا۔ یہی وہ روح ہے جو ایک صحت مند، پرامن اور بااخلاق معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
اگر آج پوری انسانیت عید الاضحیٰ کے حقیقی فلسفے کو سمجھ لے تو دنیا کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ نفرتوں کی جگہ محبت لے سکتی ہے، ظلم کی جگہ انصاف قائم ہو سکتا ہے، اور انسان ایک دوسرے کے دشمن بننے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید الاضحیٰ صرف مسلمانوں کی مذہبی عید نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا عظیم اخلاقی اور روحانی پیغام ہے جو انسان کو محبت، ایثار، امن اور انسان دوستی کی راہ دکھاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید الاضحیٰ کو صرف ایک تہوار، رسم یا ظاہری خوشی کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگیوں، اپنے معاشروں اور اپنے کردار کا حصہ بنائیں۔ ہم اپنے دلوں سے نفرتیں نکالیں، اپنے رویوں میں نرمی پیدا کریں، غریبوں اور کمزوروں کا سہارا بنیں، اور انسانیت کے درد کو اپنا درد سمجھیں۔ اگر انسان اپنے اندر ایثار پیدا کر لے تو معاشرے سے خود غرضی ختم ہو سکتی ہے، اگر محبت کو فروغ دیا جائے تو نفرتوں کی دیواریں گر سکتی ہیں اور اگر امن کو ترجیح دی جائے تو دنیا جنگوں اور تباہیوں سے بچ سکتی ہے۔ یہی عید الاضحیٰ کا حقیقی پیغام ہے اور یہی وہ عظیم سبق ہے جس کی آج پوری انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عید الاضحیٰ کے حقیقی فیوض و برکات نصیب فرمائے، ہمارے دلوں میں ایثار، محبت، اخلاص، تقویٰ اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا فرمائے اور اس مبارک عید کو عالمِ انسانیت کے لیے امن، رحمت، خیر اور بھائی چارے کا ذریعہ بنائے۔ آمین
رابطہ ۔ 9797888975
[email protected]