عظمیٰ نیوز سروس
جموں//بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ سنسکرت زبان کو فروغ دینے سے نوجوان نسل علم و دانش کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ ’’سنسکرت کا تحفظ اور فروغ نہ صرف اس زبان کو برقرار رکھنا ہے جو ہندوستانی اخلاقیات سے جڑی ہوئی ہے بلکہ ثقافتی وراثت کی حفاظت کرنا ہے‘‘۔رانا نے شری کیلاکھ جیوتش اویم ویدک سناتھن ٹرسٹ رائے پور بن تلاب جموں کے صدر مہنت روہت شاستری کی قیادت میں آئے ہوئے ایک وفد کیساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ قدیم زبان کے فروغ کیلئے ٹرسٹ کی انتھک کوششیں انتہائی ہمیت کی حامل ہیں ۔انہوں نے سنسکرت کے استعمال میں سماجی کردار پر زور دیا جو لوگوں کو اپنے ماضی، بھرپور ورثے اور شاندار اخلاقیات کو جاننے کے لئے بااختیار بنائے گا۔ انہوں نے طلباء کے لئے سنسکرت سیکھنا لازمی قرار دینے کی بھی وکالت کی تاکہ وہ اپنے ورثے سے جڑے رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنسکرت زبان سیکھنے سے ذہن کو تیز کرنے اور قدیم متون اور صحیفوں کے بارے میں علم حاصل کرنے میں بہت مدد ملے گی جو بنیادی طور پر اس زبان میں لکھے گئے ہیں۔مہنت روہت شاستری نے سالانہ ٹرسٹ پتریکا’’ کرتاویہ مارگ‘ پیش کیا اور وراثت اور ثقافت سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر بھر کے اسکولوں میں چھٹی جماعت سے سنسکرت زبان پڑھانے کے معاملے پر بچوں کو قدیم زبان سے روشناس کرایا جائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والی نسلوں کی وسیع تر بھلائی کیلئے اس مسئلے کو تمام متعلقہ افراد بالخصوص لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔