سرینگر //سگریٹ نوشی اور تمباکو سے بنی اشیاء کے استعمال سے بلڈ پریشر ، امراض قلب اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں کورونا وائرس سے مرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی اور تمباکو سے بنے والی اشیاء میں موجود NicotineاورProtien سگریٹ اور تمباکو کا استعمال کرنے والے لوگوں کے پھپھڑوں میں موجود ہوتا ہے جو سانس کی نلی میںکورونا وائرس کے رہنے کیلئے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے اور لوگوں کیلئے جان لیواثابت ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے ہونے والی 50فیصد اموات کیلئے جہاں سگریٹ اور تمباکو سے بنی چیزوں کے استعمال کو قرار دیا ہے وہیں کشمیر میں بھی ماہر صحت سگریٹ اور تمباکو نوشی کو اموات کی بڑی وجہ بتارہے ہیں۔ سگریٹ اور تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں پر نظر گزر رکھنے پر مامور محکمہ صحت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹرنشات ادھامی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’سگریٹ اور تمباکو نوشی کی وجہ سے سانس لینے کی نلی اور پھیپھڑوں میں DPP4پروٹین جمع ہوتا ہے جو کورونا وائرس کو پھپھڑوں میں رہنے کیلئے موزون ماحول فراہم کرتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے لوگ سنگین نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں بلڈ پریشر ، امراض قلب اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ عالمی یوم تمباکو کے سلسلے میں پیر کو محکمہ صحت ایک ورچول سمینار کا انعقاد کررہا ہے جبکہ ڈیویژنل انتظامیہ بھی اس حوالے سے ایک پروگرام کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں تمام محکمہ جات کے نمائندے شامل ہونگے۔محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر مشتاق احمد نے بتایا ’’عالمی ادارہ صحت پوری دنیا کے اعداد و شمار جمع کرنے کے بعد ہی کوئی رائے ظاہر کرتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں 50فیصد لوگ ایسے تھے جو سگریٹ اور تمباکو نوشی کے عادی ہونے کے علاوہ دیگر بیماریوں بلڈپریشر ، امراض قلب ، چھاتی کے امراض اور دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے‘‘۔ڈاکٹر مشتاق نے بتایا ’’ سگریٹ اور تمباکو نوشی سانس لینے کی نلی اور پھپیڑوں کو بھی متاثر کرتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس بھی متاثرین کے پھپھڑوں پر ہی حملہ آور ہوتا ہے اور بعد میں متاثرہ شخص کیلئے صحتیاب ہونا مشکل بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ اور تمباکو کا استعمال نہ کرنے والوں کی حالت سگریٹ پینے والوں سے بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر، شوگر اور دیگر بیماریوں میں کمی کے ساتھ کورونا سے ہونے والی اموات میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔