ہارون ابن رشید ، ہندوارہ
زندگی میں صبر کی بہت بڑی اہمیت ہے اور صابر ہونے میں فضیلت ہے۔ اس پُر فتن جدید دور میںاکثر لوگ معمولی باتوں پرایک دوسرے سےناراض ہوجاتے ہیں ،حسد کرتے ہیں اور بلاوجہ دشمن بھی بن جاتے ہیں،جس کی سب سے بڑی وجہ قوت برداشت میں کمی اور بے صبری ہوتی ہے۔ ہم میں سے بھی بیشترلوگ بے صبری کے عالم میں آسانی سے کے ساتھ ایک دوسرے سےناراض ہو سکتے ہیں۔صبر ایک خوبی ہے، لیکن یہ آسان نہیں ہے۔ اگر آپ صبر کرنے کے لیے جہد کرتے ہیں تو سمجھیںآپ اکیلے نہیں۔صبر زندگی کی خوبیوں میں سے وہ خوبی ہے،جس سے آپ کو اپنی زندگی بااختیار بنانے میں مدد ملتی ہےاور حکمت وکامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ کامیابی خوشی کو جنم دیتی ہے اور خوشی محنت اور صبر کا ہی نتیجہ ہوتی ہے۔
صبر پیدا کرنے کا مطلب ہے کہ آپکو خود پر اعتماد ہونے کا بہتر احساس حاصل ہو، آپ کے پاس ہر مصیبت کا مقابلہ کرنے، مسائل کا حل نکالنےاور دکھوں کا مداوا ڈھونڈنے کا عزم و حوصلہ ہو۔صبر صرف ایک وصف ہی نہیں بلکہ ایک ہنر بھی ہے، جسے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویاصبر کا ایک اچھا سودا تیار کرنے والا انسان اطمینان بخش زندگی گزارسکتا ہے۔ کیونکہ صبر کی اچھی مقدار کامیاب اور پرامن زندگی کی شاہراہ ہے۔
اگر آپ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں تو آپ نئی مہارتیں حاصل کر سکتے ہیں ، اپنے آپ کو اپنی منزل اور مقاصد کے حصول کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ صبر آپ کو اپنے جذباتی فیصلوں پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔ صبر آپ کو روادار بناتاہے اور دوسروں سے ہمدردی رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ آپ جتنے زیادہ صابر ہوں گے، اتنا ہی آپ دوسروں کے لیے قابل برداشت اور قابل عزت بن سکتےہیں۔یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا بلکہ کامیابی نظم و ضبط، محنت اور صبر سے حاصل ہوتی ہے۔ آپ کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں اور آپ کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آپ خود اعتمادی اور صبر کے باوصف ناکامیوں کا سامنا کرسکتے ہیں۔
صبر آپ کو ہر حالت میں پرسکون رہنے میں مدد کرتا ہے، اور پرسکون رہنا سب سے اہم ہے کیونکہ پرسکون ذہن ہر چیز کی بہتر منصوبہ بندی کرتا ہے۔
یا رکھئے کہ صبر ایک ایسا ذریعہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمت ہے جو انسان کو آزمائشوں میں آسانی کے ساتھ نبر آزما ہونےمیں مدد گار رہتی ہے۔ زندگی ایک سفر ہے اور اس سفر میں ہمیں کن تکالیف کا سامنا کرنا پڑے، اس سے ہم سب بخوبی واقف نہیں ہیں، اس لیے زندگی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی بھی انسان پر مختلف اور سخت آزمائشیں ڈال کر اُس کا امتحان لیتا ہے۔لیکن جن لوگوں نے صبر کا ہنر حاصل کر لیا ہوتا ہے ،وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور صبر کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ قرآن کی اس آیت سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم جس بھی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں ہمیں ہمت و حوصلہ اور صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے، وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صبر کا ہنر کتنا عظیم ہے! ان لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے صبر کا دامن چھوڑنے سے سب کچھ کھو دیا ہے۔اور بے صبری کے نتیجے میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر اپنا سکون اور خوشی برباد کر دی ہے۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ میرے دوستو! میں جو مشورہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہی ہے کہ صبر کرنا سیکھو، اور بے صبروں میں شمار نہ ہوجائو۔
زندگی کے اس سفر میں لوگ آپ کو دھونس دیں گے، دُکھ دیں گے، دل توڑیں گے، نفرت کریں گے، لیکن آپ کو ہار نہیں ماننی چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہئے۔ پرسکون رہنا چاہئے کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اور قسمت بھی صبر کرنے والوں کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ یاد رکھو کہ انتظار اور صبر دو الگ چیزیں ہیں اور میرے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر تمہارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے توبس انتظار کرو یا پھر لوٹ مار کرو! نہیں بالکل نہیں۔ اگر آپ کے پاس کھانا نہیں ہے تو آپ کو کھانا پہنچنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہو کرکھانےکے حصول کے لئے محنت کرنا چاہئے۔کوئی بھی جائز کام ہو،اس کو کرنے میںکوئی جھُجک یا شرمندگی محسوس نہ کرو۔ صبر ہمیں محبت، احترام، کمانے، جینے اور زندگی گذارنے کے تمام فن سکھاتا ہے۔ صبر کرنے اور اپنے اہداف کے حصول کی طرف سفر جاری رکھنے کی صلاحیت رکھنے سے آپ کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مسلسل محنت اور مثبت غور و فکر آپ کی زندگی میں کامیابی کے در کھولے گی۔ جبکہ بے صبری اور منفی سوچ آپ کو مایوسی کے راستے پر لے جا سکتی ہے۔بے صبری اور مایوسی بالآخر آپ اپنی منزل اور اپنے مقاصدسے دستبردار ہو نے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ اپنی ذہنیت کو بدلیں اور اور مستقل مزاجی کے ساتھ کامیابی کی امید پر سفر کرنا شروع کیجئے۔
صبر کی طاقت کامیابی کااہم جز ہے۔ اگر آپ صابر بن جاتے ہیں تو مختلف انعامات پائو گے، جیسے کہ مالی اور اخلاقی ترقی کے ساتھ ساتھ آپ کی بصیرت اورغوروفکر کے عمل میں اضافہ ہوگا۔آپ ایک مضبوط اور پُر عزم کردار کے مالک بنیں گے۔یہ کہاوت مسلسل یاد رکھنی چاہیے کہ ’’صبر کڑوا ہے لیکن اس کا پھل میٹھا ہے۔‘‘
(مضمون نگار ، پی جی کے طالب علم ہیں)
[email protected]>