سبدر شبیر
دنیا کی زندگی اپنی چمک دمک، رونق، اور دل لبھانے والی لذتوں کے ساتھ انسان کو بارہا اپنی طرف بلاتی ہے۔ ہر جگہ مقابلہ ہے، ہر دل میں آگے بڑھنے کی تڑپ ہے، اور ہر سوچ میں یہ خواہش چھپی ہے کہ لوگ اسے پہچانیں، اس کی تعریف کریں اور اس کا نام زبانوں پر آئے۔ شہرت کی یہ طلب انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے، لیکن جب یہی خواہش اپنی حد سے بڑھ جائے تو انسان کے اندر خطرناک تبدیلیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ وہ اپنے اصل مقصدِ زندگی، کردار، اصول اور سب سے بڑھ کر اپنے ایمان کو نظرانداز کرکے ایسی راہوں پر چل پڑتا ہے جو بظاہر دلکش تو دکھائی دیتی ہیں مگر اندر سے بے بنیاد اور کھوکھلی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عقل و شعور رکھنے والا شخص اس اصول کو مضبوطی سے تھامے رہتا ہے کہ دنیا میں مشہور ہونے کے لیے اپنا دین و ایمان نہ بیچے۔
دنیاوی شہرت کی حقیقت ہمیشہ سے عارضی رہی ہے۔ آج جن لوگوں کو دنیا سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، کل وہی لوگ تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ آج جس کے نام کے چرچے ہیں، کل وہی گمنامی کی دھول میں چھپ جاتا ہے۔ لوگوں کی تعریفیں، تالیاں، لائکس، فالوورز اور میڈیا کا شور سب بے ثبات ہے۔ یہ موسموں کی طرح بدلتا رہتا ہے۔ انسان اگر تھوڑی دیر رک کر سوچے تو سمجھ سکتا ہے کہ لوگوں کی تعریف سے بڑھ کر ایک ایسی عزت بھی ہے جو نہ بدلتی ہے، نہ کم ہوتی ہے، نہ وقت اسے بوسیدہ کرتا ہے۔ وہ عزت ایمان کی ہوتی ہے جو اللہ کے نزدیک بندے کو ملتی ہے۔ یہ وہ عزت ہے جسے نہ دنیا چھین سکتی ہے، نہ حالات اسے مٹا سکتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں شہرت کا حصول مشکل نہیں رہا۔ چند لمحوں کی ویڈیو، کچھ غیر سنجیدہ جملے، چند غیر اخلاقی حرکات یا مذہبی اقدار کا مذاق بنا کر انسان راتوں رات مشہور ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی عزت کو چند لمحوں کی واہ واہ کے لیے بیچ دیتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اس دوڑ میں بہت سے لوگ اپنے دین اور ایمان کی کم سے کم قیمت لگا دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ قربان کررہے ہیں وہ ان کی اصل پہچان ہے، ان کی روح ہے، ان کی سلامتی ہے۔ شہرت کے نشے میں انسان کبھی کبھی وہ کام بھی کر گزرتا ہے جنہیں سوچ کر وہ خود اپنی نظروں میں گر جاتا ہے، مگر دنیا کے چند تالیاں بجانے والے اسے مطمئن کردیتے ہیں کہ وہ بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے رہا ہے۔
ایمان زندگی کی وہ دولت ہے جو انسان کو صرف اللہ کے حکم سے ملتی ہے۔ یہ دولت اگر چلی جائے تو انسان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اس دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جن کے پاس دولت، طاقت، شہرت اور مقام سب کچھ ہے مگر دل بے سکون ہے، روح بھٹکی ہوئی ہے اور مطمئن زندگی ان سے کوسوں دور ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ جنہوں نے اپنا ایمان بچایا، اپنی اقدار پر سمجھوتہ نہیں کیا، اپنے رب کے سامنے سر جھکانے کو دنیا کی ہر خوشی سے بڑھ کر سمجھا—انہیں دنیا نے بھی عزت دی اور آخرت میں بھی کامیابی اُن کے قدم چومے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑے لوگ وہ نہیں تھے جنہوں نے دنیا کی چوکھٹ پر جھک کر شہرت حاصل کی، بلکہ وہ تھے جنہوں نے حق پر قائم رہ کر دنیا کو مجبور کیا کہ وہ انہیں پہچانے۔ ان کی شہرت نہ خود ساختہ تھی، نہ خریدی گئی تھی، بلکہ کردار، صداقت، دیانت اور ایمان کی روشنی سے پیدا ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے کبھی شہرت کو مقصد نہیں بنایا۔ ان کا مقصد ہمیشہ سچائی، خدمت، علم، کردار اور اللہ کی رضا رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا نے انہیں صدیوں تک یاد رکھا۔ وہ آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
اس کے برعکس وہ لوگ جو شہرت کے حصول کے لیے دین کا سودا کرتے ہیں، ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنی آنکھیں بیچ کر کچھ سکے تو حاصل کر لیتا ہے مگر بینائی ہمیشہ کے لیے کھو دیتا ہے۔ دنیا کی مصنوعی لذتیں اُن کے اندر ایسا خلا پیدا کر دیتی ہیں جسے کوئی کامیابی نہیں بھر سکتی۔ وہ جتنی زیادہ شہرت حاصل کرتے جاتے ہیں، اتنا ہی ان کا ایمان کمزور ہوتا جاتا ہے اور دل بے چین ہوتا جاتا ہے۔ لوگوں کے سامنے مسکرانے والا شخص اپنے اندرونی خوف اور ندامت سے ہمیشہ بھاگتا رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے جو کچھ حاصل کیا ہے، اس کے بدلے اس نے اپنی اصل دولت گنوا دی ہے۔
اصل شہرت کردار کی ہوتی ہے۔ یہ نہ وقتی ہوتی ہے، نہ پرفارمنس پر مبنی، نہ کیمروں کی محتاج، نہ لوگوں کے بدلتے رویوں کی۔ وہ شہرت جو دلوں میں نقش ہو جائے، وہ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ وہ تب پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی زبان سچی رکھتا ہے، امانت میں خیانت نہیں کرتا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، برائی سے بچتا ہے اور ایمان کی حفاظت کو اپنی زندگی کا مرکز بناتا ہے۔ ایسے لوگ کم بول کر بھی دنیا میں پہچان جاتے ہیں کیونکہ ان کی خاموشی بھی کردار کی خوشبو سے بھری ہوتی ہے۔
ہر دور میں ایسے لوگ بھی رہے ہیں جنہیں دنیا نے شہرت کا لالچ دے کر اپنے راستے پر چلانے کی کوشش کی لیکن وہ ڈٹے رہے، ثابت قدم رہے۔ انہوں نے کبھی اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کے نام کے نعرے لگائیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ آپ کے اعمال سے راضی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی عزت کے ساتھ لیا جاتا ہے، جبکہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بدلے دنیا لی، ان کا انجام مایوسی، شکست اور بے عزتی کے سوا کچھ نہ ہوا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی ہر نعمت سے فائدہ اٹھائے، ترقی کرے، اپنے علم و ہنر کو آگے بڑھائے، کامیابی حاصل کرے، لیکن یہ سب کچھ ایمان کی حفاظت کے ساتھ کرے۔ شہرت اگر ملنی ہے تو وہ ایسے عمل سے ملے جو حلال ہو، باعزت ہو، اور اللہ کی ناراضی کا سبب نہ بنے۔ ایسی شہرت انسان کے لیے فائدہ مند بھی ہوتی ہے اور باعثِ بھلائی بھی۔
زندگی کا سب سے بڑا اصول یہی ہے کہ دنیا کی خاطر اپنا دین نہ بیچا جائے۔ دنیا چلی جائے تو انسان سب کچھ دوبارہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن ایمان چلا جائے تو انسان اپنی اصل پہچان، مقصد اور سکون کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلمند لوگ ہمیشہ اپنی ترجیحات واضح رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا کا ہر چراغ ایک دن بجھ جاتا ہے، مگر ایمان کی روشنی وہ چراغ ہے جو قبر میں بھی ساتھ رہتا ہے، قیامت میں بھی روشنی بن جاتا ہے اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ دنیا کی عارضی واہ واہ کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے ایمان کی حفاظت کرے، اپنے کردار کو مضبوط کرے، اور اپنی زندگی کو ایسے مقصد کے ساتھ گزارے جس سے اللہ بھی راضی ہو اور انسان بھی باوقار رہے۔ جو شخص ایمان پر قائم رہتا ہے، دنیا اس کو چاہے پہچانے یا نہ پہچانے، مگر اللہ اسے کبھی بے مقام نہیں چھوڑتا۔ اور جب اللہ عزت دے دے تو پھر کسی کے انکار کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔