عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//ونڈے عالمی کپ کے فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد ہندوستانی ٹیم کے کپتان روہت شرما بہت غمگین ہوئے تھے۔ انہوں نے خود کو میڈیا سے دور کر لیا تھا، لیکن اب ایک بار پھر وہ کرکٹ کے میدان پر ہندوستانی ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے نظر ا?ئیں گے۔ رواں سال کے آخر میں وہ جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کی قیادت کریں گے۔ اس سے قبل انھوں نے انسٹاگرام پر ایک بات چیت کے دوران عالمی کپ فائنل میں شکست کے اپنے غم کو ظاہر کیا۔ انھوں نے عالمی کپ میں شکست کے بعد پہلی بار اس تعلق سے کوئی بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ اس شکست کو ہضم کر پانا آسان نہیں تھا۔روہت شرما کا کہنا ہے کہ انھیں پتہ نہیں تھا کہ عالمی کپ فائنل میں ملی شکست کے غم سے کس طرح باہر نکلنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’فائنل تک ہندوستان نے جس طرح سے کھیلا اور پھر فائنل میں اچانک پھسڈی ثابت ہونے کا کوئی مطلب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ مجھے آگے بڑھنے میں مشکل ہوئی، لیکن پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اس شکست کو اپنے دماغ سے نکالنے کے لیے بریک پر جانے کی ضرورت ہے‘‘۔ہندوستانی کپتان نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ پہلے کچھ دنوں میں اس سے کس طرح واپسی کرنی ہے۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے۔ آپ جانتے ہیں، میرے گھر والے، میرے دوستوں نے مجھے آگے بڑھایا۔ انہوں نے میرے آس پاس چیزوں کو بہت ہلکا رکھا، جو کافی مددگار تھا۔ اس شکست کو ہضم کرنا آسان نہیں تھا، لیکن زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے۔ آپ کو زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔ لیکن ایمانداری سے کہوں تو یہ مشکل تھا۔ آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں تھا۔ میں ہمیشہ 50 اوور کا عالمی کپ دیکھتے ہوئے بڑا ہوا ہوں اور میرے لیے 50 اوور کا عالمی کپ سب سے بڑا انعام تھا‘‘۔روہت شرما نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ان سبھی سالوں میں اس عالمی کپ کو جیتنے کے لیے کام کیا اور پھر جیت نہیں سکے۔ یہ مایوس کن ہے، ہے نہ؟ اگر ا?پ اس سے نہیں گزرتے ہیں اور آپ کو وہ نہیں ملتا ہے جو ا?پ چاہتے ہیں، جو ا?پ طویل مدت سے تلاش کر رہے تھے، جو آپ خواب دیکھ رہے تھے، تو ا?پ مایوس ہو جاتے ہیں۔ کئی بار مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا غلط ہوا کیونکہ ہم نے 10 میچ جیتے اور ان 10 میچوں میں ہاں، ہم نے غلطیاں کیں تو ہم نے اپنی طرف سے وہ سب کچھ کیا جو ہم کر سکتے تھے۔ لیکن یہ غلطیاں ہر میچ میں ہوتی ہیں۔ ا?پ ہر میچ میں ایک جیسا نہیں کھیل سکتے‘‘۔روہت شرما نے اپنے بیان میں ہندوستانی ٹیم کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر آپ دیکھیں تو مجھے ٹیم پر فخر ہے کیونکہ ہم جس طرح کھیلے وہ بے جوڑ تھا۔ آپ کو ہر عالمی کپ میں ایسا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس سے لوگوں کو بہت خوشی ملتی ہے، اس فائنل کے بعد ٹیم کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر بہت فخر ہوتا۔ واپس آنا اور آگے بڑھنا، پھر سے شروع کرنا بہت مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کہیں جانے کی ضرورت ہے، اور بس اپنے دماغ کو اس سے باہر نکالنا ہے۔ لیکن پھر میں جہاں بھی تھا، مجھے احساس ہوا کہ لوگ میرے پاس آرہے تھے اور وہاں وہ سبھی کی کوششوں کی تعریف کر رہے تھے، کہ ہم کتنا اچھا کھیلے‘‘۔