عروجِ انسانی کی اہم ترین صدی، بیسویں صدی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے جہاں ساری دنیا میں علمی، تہذیبی، سائنسی، صنعتی اور سیاسی اعتبار سے ایک سے بڑھ کر ایک ہستیاں پیدا کی ہیں وہیں اردو زبان و ادب کے گہواروں میں گزشتہ تمام ادوار سے زیادہ لافانی شاعروں، ادیبوں ناقدوں اور دانشوروں کے قبیلے میں ایک ایسی شخصیت کو بھی جنم دیا جو آج کی ترقی یافتہ دنیا میں اردو ادب کے حال اور اغلباً مستقبل کا بھی ایسا فردِ فرید ہے جو لاکھوں کی بھیڑ میں دور سے پہچانا جاتا ہے اور دنیااُسے شمس الرحمن فاروقی کے نام سے جانتی ہے۔
دوسری ترقی یافتہ زبانوں کی طرح اردو نے بھی قحط الرجال کا منہ کبھی نہیں دیکھا۔ آج بھی اس کے لشکر میں ایسے ایسے شہسوارانِ علم وفن موجود ہیں جن کی بے پناہ علمی وفکری صلاحیتوں نے شعروادب کے مختلف میدانوں میں فتح ونصرت کے پرچم لہرائے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سرزمینِ اردو کا ہر ذرّہ آفتاب ہے جن کی چمک دمک اور جن کی قبولیتوں وشہرتوں کے غلغلے میں مصلحتیں شایدخاموش رہیں لیکن اہلِ دل اور اہلِ نظر جانتے ہیں کہ شمس الرحمن فاروقی اس دور کی بساطِ ادب میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے یگانہ اور جداگانہ حیثیت کی حامل ایسی مخزنِ کمالات شخصیت ہیں جنہیں تطبیق کے پیمانوں سے ناپ کر کسی سے بڑا چھوٹا قرار دینا اس لئے ممکن نہیں کہ ان کی خصوصیات کے تناظر میں دوسرا کوئی اور نظر ہی نہیں آتا کہ اس سے ان کا موازنہ کیا جاسکے۔ پورے بر صغیر اور پوری بیرونی دنیا کی نئی نئی اردو بستیوں میں بھی کہیں کوئی ایسا دکھائی نہیں دیتا جو شمس الرحمن فاروقی کی طرح بیک وقت قادرالکلام شاعر ہو، صاحبِ فن افسانہ نگار ہو، تخلیقی بصیرتوں اور لفظ ومعنی کا رمز آشنا محقق و نقاد ہو، مؤرخ ہو، مبصر اور مفسر ہو، ماہر عروض وبلاغت ہو، مترجم اور نظریہ ساز صحافی ہو۔ تعلیم وتدریس اور لسانیات کے میدان میں انقلابی فکرو نگاہ کا مالک اور اپنے مسلکِ تہذیب وادب کا ایسا مجتہد ومجاہد ہو کہ کروڑوں ذہنوں کا مزاج بن چکی طاقتور ترقی پسند تحریک کو پسپا کرکے جدیدیت کا انقلاب برپا کردے، جو ایک پورے دور کی فکری، فنی اور نظریاتی روایات کے قلعے پر اپنے رجحان ونظریہ کا شب خون مارتے وقت بھی’ ہل من مبارز‘ کا مردانہ وار نعرہ لگانے کی جرأت رکھتا ہو۔
شمس الرحمن فاروقی کے حوالے سے یہ باتیں محض یکطرفہ تحسین وستائشِ بیجا نہیں، اردو کی عصری تاریخ کا ایسا سچ ہے جسے زمانہ تسلیم کرچکا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ انہیں معاصرانہ رد وانکار اور نظریاتی معاندت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، یہ اور بات ہے کہ انہوں نے اپنی سرگرم زندگی میں ہی ثبوت واستدلال کی بے پناہ طاقت سے اپنی انفرادیت کا لوہا بھی منوالیا۔ دراصل شمس الرحمن فاروقی ہمارے عہد کی ایسی نابغہ صفات شخصیت ہیں جنہو ںنے جدید ادبی نظریات وتصورات کے مبلغ کی حیثیت سے مشرق ومغرب کو اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ انہو ںنے عالمی ادبیات کے تاریخی، تہذیبی اور تخلیقی منظر نامے کا صرف دور سے جائزہ ہی نہیں لیا، اس کی گہرائیوں میں جاکر ناپا اور پرکھا بھی ہے۔ انہوں نے شکسپیئر کی فنی کائنات کی سیر کی، یونانی المیہ نگار فلسفی کریوری پڈیز کی نگارشوں کو سمجھا، ارسطو، جان ڈن، کولرج، بودلیئراور ٹامس ہارڈی، فرانس کے لاثانی ناقد ڈاراف اور نئی امریکی تنقید کے ماہرین کو دستِ فہم و ادراک سے اچھی طرح ٹٹول چھوکر دیکھا ، مغرب کے شعراء، ادباء، فلاسفہ کے اثرات نے ذہن وشعور پر ایسے گہرے نقوش بھی ثبت کئے جن کی وجہ سے ایسے بہتیرے توافکار ِمغرب کے حمام باد گرد سے باہر ہی نہیں نکل سکے، ہمارے اکثر ناقدین اور کاملینِ علم وادب کا طائرِ فکر اتنی بلندیوں تک پرواز کرگیا کہ جہاں سے مشرق دکھائی ہی نہیں دیتا، لیکن مغرب کی اس خیرگی میں بھی شمس الرحمن فاروقی کے وسیع ذہنی افق پر روشن مشرقی چاند ستاروں کی چمک ماند نہ ہوئی۔ رومیؔ، جرجانیؔ، بیدلؔ، میرؔ، غالبؔ، حالیؔ، اقبالؔ،میراجی اور ن م راشد کے فکری مرغزاروں کی سیر کا کیف وسرور اور بھی بڑھتا گیا۔ عربی وفارسی اساطیر، بھارتی سنسکیرتی اور درشن شاستر، اسلامی افکار وتعلیمات اور تصوف وطریقت کی نیرنگیاں ان کی روح کے نہاں خانوں میں جگمگاتی رہیں۔ اپنے ادبی سرمائے کی شناخت کے لئے محمد حسن عسکری، کلیم الدین احمد، آل احمد سرور، اور مالک رام جیسے مسلمہ دانشوروں کے اندازِ نقدونظر کو بھی دیکھا، سمجھا اور پھر اپنی شاہراہ عمل خود تعمیر کی،ان کے وجدان نے لفظ ومعنی کی روشن وادیوں کی جانب رہنمائی کی۔
اگر ہم اردو ادب کے ایک نقاد کی حیثیت سے شمس الرحمن فاروقی کی اہمیت کا احاطہ کرنے کی کوشش کریں تو گزشتہ نصف صدی کے اہم تنقید نگاروں میں وہ کئی معنوں میں سب سے الگ اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کی تحقیقی و تنقیدی انفرادیت اور ان کی عہد آفرینی میں عالمی ادبیات کے وسیع اور عمیق مطالعے، ان کی غیر معمولی پروازِ فکر اور اپنی تہذیب وروایات کی گہری بصیرت کی جلوہ نمائی صاف صاف نظر آتی ہے۔اپنی بات کو پوری قوتِ استدلال کے ساتھ واضح کرنے کی خصوصیت عصری ناقدین میں انہیں منفرد مقام و مرتبہ عطا کرتی ہے۔ وہ پوری مفکرانہ اور محققانہ صداقتوں کے ساتھ کسی بھی فن پارے کے محاسن ومعائب کو آشکار کرتے وقت محض ایک غیر جانبدار نکتہ چین ہی نظر نہیں آتے بلکہ فن کار کے پورے تہذیبی، سماجی اور ذاتی پس منظر کے سیاق وسباق کے جائزہ کار، مفسر اور تجزیہ نگار کی حیثیت سے اس کا محاکمہ کرتے ہیں اور یہی خصوصیت انہیں اس دور کا قد آور ناقد ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند وادبی نظریات کا حامل، کلاسیکی، عصری، مشرقی ومغربی ادبیات کا شناسا، حق نگارنقاد قرار دیتی ہے۔ ان کی تحریروں میں لفظ ومعنی پر ان کی خلاقانہ گرفت اور ادبی پس منظر و پیش منظر پر ان کی عمیق نظر کے مظاہر ان کی کتابوں، تنقیدی افکار، اثبات ونفی، انداز گفتگو کیا ہے، اردو غزل کے اہم موڑ، شعر، غیر شعر اورنثر وغیرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔اردو زبان، مشرقی تہذیب اور لسانیات کے حوالے سے ان کی کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ ایک ایسی کاوش ہے جو نہ صرف ادبی تاریخ اورتہذیب وثقافت کے بہت سے دھندلے گوشوں پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ برصغیر کے قدیم تمدنی، سماجی، لسانی اور فکری تناظر میں اردو زبان وادب کی اصل قدروقیمت کو بھی واضح کرتی ہے۔
اردو کے کلاسیکی سرمائے پر ان کی دور رس نگاہ نے داستان امیر حمزہ کو اس کے بیانیہ، بیان کنندہ اور سامعین کے وسیلے سے پہلی بار نئے تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی زاویے سے اجاگر کیا اور ساحری، شاہی اور صاحب قرانی کو جدید معنویاتی پیکر میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
تفہیمِ غالبؔ اردو ادب کا سب سے پیچیدہ اورادق موضوع رہا ہے۔ حالیؔ سے لے کر اب تک نہ جانے کتنے گہرے اور اتھلے شارحین غالبؔ اور ماہرینِ غالبیات گزر چکے اور بہت سے اب بھی خراماں خراماں گزر رہے ہیں۔ 1969ء کی غالب صدی کے بعد کی دہائیوں کے دوران اردو دنیا میں امنڈ آنے والے غالبی موسم کی امس میں، شمس الرحمن فاروقی تفہیم غالب، غالب ؔپر چار تحریریں، غالبؔ کے چند پہلو اور تنقیدی بیانیہ، کے ساتھ غالبؔ، کلام غالبؔ اور عصرِ غالبؔ کی خوشبوئوں کا تروتازہ جھونکا بن کر مہکے لیکن غالبؔ ان کے تنقیدی وتحقیقی سفر کا شاید وقتی پڑائو تھے منزل نہیں۔ غالبؔ کی مشکل پسندی، پروازِ خیال اور فلسفیانہ معجزکلامی اردو ادب کا ہفت خواں ہے جسے عبور کرنے کی محض کوشش بھی تاریخ سازی کے مماثل سمجھی گئی، بہت سے پیرے، کچھ ڈوبے، کچھ کی دوسرے کنارے کے بالکل پاس پہنچ کر سانس اکھڑ گئی مگر زیادہ تر نے تو ساحل پر اٹھنے والی لہروں سے ہی دامن تر کرلئے اور غالب ؔدانوں کی بھیڑ میں شامل ہوگئے۔ لیکن غالبؔ سے پہلے ہوچکے ریختے کے استاد میرؔ کو حالی کے بعد مدتوں تک کسی نے گہری نظر سے دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی، کی بھی تو سرسری، میرؔ کی سہل نگاری اور بالکل سامنے کی باتوں پر آہ اور واہ کے سوا زیادہ غور کرنے کی ضرورت بھی کسی کسی کو ہی محسوس ہوئی۔ ہمارے وقتوں میں حامدی کاشمیری کی کارگہِ شیشہ گری، قاضی افضال حسین کی میرؔ کی شعری لسانیات اور پروفیسر نثار احمد فاروقی کی تلاش میرؔ کے بعد میرؔ کی دروں بینی، ایمائیت، رمزیت، اشاریت، حسن کی جلوہ نمائیوں، عشق کی بلاخیزیوں اور حیات وذات کی پنہائیوں کی جھنکار، اس کے سادہ، سرل شعروں میں کھنکتی ہوئی شور انگیزی کو پیشرو میرؔ دانوں سے زیادہ صاف صاف سنا شمس الرحمن فاروقی نے، ان کے تنقیدی وتجزیاتی شاہکار ’’شعر شور انگیز‘‘ کی چار ضخیم جلدیں رہتی اردو تک ان کے احسانِ میرؔ شناسی کی پُرشور گواہی دیتی رہیں گی۔ شعر شورانگیز، شمس الرحمن فاروقی کی تحقیق، تنقید تجزیے، تأثر، ریاضت، غیر معمولی شعری بصیرت اور پیکر تراشی کا زندہ اعجاز ہے جیسا اب سے پہلے کبھی ہوا نہ مستقبل میں ہونے کی (فی الحال) توقع ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے جس خانوادے میں آنکھ کھولی وہ علم وادب کی فضائوں سے معمور تھا۔ ان کی پیدائش 30؍ستمبر 1935ء کو کالا کانکر ہائوس پرتاپ گڑھ میں ہوئی۔ اس وقت ان کے نانا خان بہادر محمد نظیر اسپیشل منیجر کورٹ آف وارڈس کی حیثیت سے مہاراجہ پرتاپ گڑھ کے محل کالا کانکر میں مقیم تھے، لیکن ان کا آبائی وطن ضلع اعظم گڑھ کا گائوں کوریا پار ہے جو اب مئو ضلع کے تحت آگیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے والد محمد خلیل فاروقی عربی فارسی اور اردو کے ماہر تھے اور ایم اے کرنے کے بعد محکمہ تعلیمات سے وابستہ متشرع اورنیک سیرت انسان تھے، اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے عظیم افسانہ نگار پریم چند سے کچھ دن تعلیم پائی تھی۔ فاروقی کے دادا حکیم مولوی محمد اصغر فاروقی گورنمنٹ نارمل اسکول گورکھپور کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ پریم چند سے ان کی قربت رہی تھی۔ فراقؔ گورکھپوری حکیم صاحب کے شاگرد بتائے جاتے ہیں۔ تعلیم اور علم وادب کا ماحول اس گھرانے میں شروع سے ہی رہا۔ جس میںکتابیں پڑھنے کا شوق فاروقی کو اس چھوٹی سی عمر میں ہوگیا تھا جب وہ بچے میاں کہے جاتے تھے۔ کتابیں پڑھنے کے شوق میں انہیں ایک جلد ساز کی دکان پر کام میں مدد کرنے کے بہانے من پسندکتابیں پڑھنے کا موقع مل جاتا تھا۔ نعتیں خوب یاد تھیں اور خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے۔ مطالعے کا یہ شوق عمر کے ساتھ جنون بنتا گیا۔گھر کے قریب ہی جماعت اسلامی کا دارالمطالعہ تھا وہاں کی کتابیں پڑھ پڑھ کر اسلامی تعلیمات وتاریخ وفقہ سے لگائو بڑھا، شروع میںجماعت اسلامی کے نظریات سے متاثر بھی ہوئے اور ادب اسلامی سے ان کے ذہنی رشتے بھی استوار رہے۔کچھ اور بڑے ہوئے تو بزرگوں کے کتب خانوں تک رسائی ہوئی۔ پانچویں چھٹی جماعت تک پہنچتے پہنچتے اردو اور فارسی ہی نہیں انگریزی کے ناول وغیرہ بھی مطالعے میں رہنے لگے۔ ویسلی ہائی اسکول اعظم گڑھ میں پڑھنے کے بعد گورنمنٹ جبلی ہائی اسکول گورکھپور میں داخلہ لیا جہاں سے 1948ء میں انہوں نے فرسٹ ڈویژن میں ہائی اسکول پاس کیا۔ میاں جارج اسلامیہ انٹرکالج گورکھپور سے 1951ء میں انٹرمیڈیٹ اور پھر مہارانا پرتاپ کالج سے 1953ء میں بی اے کیا، ایم اے کے لئے الہ آباد یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور 1955ء میں انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تب تک ان کا ذوق مطالعہ شباب کی حدیں پار کرکے پختگی کی وسعتوں کو چھو چکا تھا۔ انہوں نے انگریزی کلاسکس اور عصری ادبیات کو ڈوب کر پڑھا تھا۔ہندی زبان میں بھی دسترس حاصل کرلی تھی، فارسی اور اردو ادب ان کے مزاج میں ڈھل چکا تھا۔ شاعری کا شوق روز افزوں ترقی پر تھا۔ پہلے شمس اعظمی کے نام سے شعر کہتے رہے بعد میں پورا نام ہی تخلص ہوگیا۔ اسی زمانے میں تنقید وتحقیق کے آسمانوں میں پرواز کے لئے ان کا طائر فکر پر تولنے لگا تھا۔ الہ آباد یونیورسٹی میں دوران تعلیم ہم جماعت طالبہ جمیلہ ہاشمی سے دوستی ہوئی جو پھولپور کے معزز رئیس عبدالقادر صاحب کی دختر تھیں۔ یہ دوستی بہت جلد شادی میں تبدیل ہوگئی۔ جمیلہ ہاشمی صاحبہ ان کی زندگی میں خوشگوار انقلاب بن کر آئیں۔ یہ خود بھی علم وادب کی دلدادہ تھیں، اپنے شوہر کی ابتدائی کاوشوں میں حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی ناقد اور مشیر بنیں۔ فاروقی صاحب ایم اے کرنے کے بعد بلیا کے ستیش چندر ڈگری کالج میں لکچرر ہوئے بعد میں 1956ء سے 1958ء تک شبلی کالج اعظم گڑھ میں انگریزی کے لکچرر رہے۔ اسی دوران جمیلہ صاحبہ کے زور دینے پر انہوں نے انڈین پوسٹل سروس کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ ریلوے میل سروس، ویجیلنس آفیسر پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف، ڈائریکٹر پوسٹل سروسز لکھنؤ، کانپور، ڈائریکٹر پوسٹل ریسرچ اینڈ پلاننگ نئی دہلی، پوسٹ ماسٹ جنرل بہار، چیف پوسٹ ماسٹر جنرل اترپردیش جیسے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہ کر 1960ء سے 1994ء تک محکمہ ڈاک وتار کی شاندار خدمات انجام دیں۔ اس مدت کے دوران انہوں نے حکومت ہند کے وزارت توانائی میں جوائنٹ سکریٹری اور ترقی اردو بیورو کے ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ 1994ء میں آپ ممبر پوسٹل سروسز کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے، لیکن ان کی عمر کے یہی 34سال جو پوری طرح سرکاری ملازمت کے لئے وقف تھے، ان کے علمی وادبی سفر کا ہنگامی دور بھی رہے۔ انہوں نے اسی مدت میں نہ صرف اپنا غیر معمولی تنقیدی وتحقیقی کام کیا بلکہ شعروسخن اور افسانہ نگاری کے میدان میں بھی شہرت وناموری حاصل کی۔ان کے چار شعری مجموعے گنجِ سوختہ، سبز اندرسبز، آسماں محراب اور چار سمت کا دریا ان کی قادر الکلامی کے شاہد ہیں۔ان کی غزلیہ شاعری فنی نوک پلک سے درست اور غزل کی جمالیات سے مزین ہے۔ ان کی پابند اور آزاد نظمیں اردو کی معیاری نظمیہ شاعری میں خاصا اہم اضافہ قرار دی گئی ہیں۔ ایک شاعر کی حیثیت سے ان کے مقام کا تعین الگ بات ہے لیکن شمس الرحمن فاروقی کا شمار ان اساتذہ میں ضرور کیا جاسکتا ہے جو علمِ عروض وبلاغت کے ماہر ہیں۔ ’چہار سمت کادریا‘ ان کی رباعیات کا مجموعہ ہے جس میں ان تمام 24بحروں میں رباعیاں کہی ہیں جو قدیم فارسی اور اردو اساتذہ نے مختص کی ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لئے دلچسپ اور سبق آموز نظمیں لکھیں جن کے بارے میں ادب اطفال کے بہت سے جانکاروں کی رائے ہے کہ بچو ںکی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے خود بچہ بن کر فاروقی نے ایسی نظمیں تخلیق کیں جیسی پہلے بہت کم لکھی گئیں۔
شمس الرحمن فاروقی نے اردو کے افسانوی ادب کا صرف غائر تنقیدی جائزہ ہی نہیں لیا بلکہ خود بھی افسانے تخلیق کرکے جیسے بتایا ہے کہ زندہ رہنے والے افسانے یوں بھی لکھے جاتے ہیں۔ انہو ںنے اپنے افسانوں کے لئے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے ہندوستان کی ادبی زندگی، ہند ایرانی تہذیب کے اثرات اور معروف شعراء کی زندگیوں سے مواد کشید کیا اور سوار، آفتاب زمیں، ان صحبتوں میں آخر، جیسے افسانے لکھ کر اردو فکشن کی تاریخ میں موجودگی درج کرائی۔ ان کا واحد ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ اردو فکشن کا فی الحال سب سے زیادہ موضوع بحث کارنامہ ہے۔ ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ ان کا افسانوی مجموعہ نہ صرف نئے لکھنے والوں کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ فکشن پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لئے ہمیشہ غور وفکر کا باعث بنارہے گا۔
شمس الرحمن فاروقی کے فن وشخصیت پر کتاب نہیں کتابوں کی ضرورت ہے یہاں ایک طرح سے ٹیلی گرافک اصول کا سہارا لیتے ہوئے ترجمہ کے میدان میں ان کے کارناموں کا اجمالی تذکرہ کروں گا۔ انہوںنے ارسطو کی آفاقی کتاب Poetic (بوطیقا) کا اردو ترجمہ کرنے کی جسارت کی اور اس درجہ کامیاب ہوئے کہ اہل دانش کی رائے میں اتنی مشکل کتاب کا اس سے بہتر ترجمہ ممکن ہی نہ تھا لیکن ایک مترجم کی حیثیت سے ان کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انگریزی زبان میں اردو شعروادب کے کئی معیاری تراجم کے ذریعہ مغربی دنیا کو اردو ادب سے روشناس کرایا ہے۔ انہوں نے مغربی مترجمین کی بھی اردو ادب کو انگریزی میں پیش کرنے کے کام میں مدد کی ہے۔ ’آبِ حیات‘ کا انگریزی ترجمہ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر Frances W. Pritchetteکے ساتھ مل کرکیا۔ انہوں نے منتخب فارسی شاعری کا خوبصورت انتخاب بھی انگریزی زبان میں the Brird in flightکے عنوان سے پیش کیا ہے۔
ترتیب وتدوین کے باب میں بھی شمس الرحمن فاروقی نے غیر معمولی علمی خدمات انجام دی ہیں۔ہائی اسکول کے نصاب کے لئے ’’اردو کی نئی کتاب‘‘ مرتب کرنے ساتھ ساتھ انگریزی میں Modern Indian Literature کا انتخاب تین حصوں میں ترتیب دیا ہے جو اونچے درجوں کے نصاب میں شامل ہے۔ انہوں نے بہت پہلے نووارد اردو شاعروں کو متعارف کرانے کے مقصد سے ’نئے نام‘ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی تھی جس میں ان نئے شعرا کا منتخب کلام بھی شامل تھا۔ اس کتاب میں شامل نوجوان شعرا ء میں زیادہ تر آج کے مشہور ومعروف شاعر ہیں۔ انہوں نے انتخاب کلیاتِ غالب ؔکی تدوین کا اہم فریضہ بھی انجام دیا اور اس کتاب کا بلیغ و بسیط مقدمہ لکھ کر غالبؔ کو جدید اردو شاعری کا پیشرو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے ’’تحفۃ السرور‘ کے نام سے آل احمد سرورؔ کے فن وشخصیت پر لکھے گئے معاصرین کے مقالات کا مجموعہ مرتب کیا۔ اردو لغات وفرہنگ کی ترتیب وتدوین میں بھی ان کی خدمات خاصی اہم ہیں۔
انڈین پوسٹل سروس کی مصروف ترین ملازمت کے ساتھ اتنے سارے کارنامے انجام دینا اور علم وادب کی دنیا میں اپنی شخصیت کو لافانی بنالینا فاروقی صاحب کی کرشمائی شخصیت کا کمال ہے۔ دنیائے ادب انگشت بدنداں ہے کہ سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے ’’شب خون‘‘جیسا عہد ساز اور طاقتور رسالہ جاری کیا جس کے ذریعہ انہوں نے جدیدیت کی اس شدت سے تبلیغ کی کہ پورے ایک دور کو بدل کر رکھ دیا۔ شمس الرحمن فاروقی کے برپا کردہ انقلاب نے تخلیق وتصنیف کے دھارے موڑ دئے۔ انہوں نے سرمایہ و محنت کی کشمکش کے اشتراکی رجحان کے خلاف آواز بلند کی جس کی مادیت اور نظریاتِ جبر نے، ان کے خیال میں، تخلیقی ادب کو خطابت اور صحافت بنا دیا تھا۔ انہوں نے اردو میں علامتی، ایمائی اور تجریدی تخلیقی رجحان کو فروغ دیا، جس میں غزل چیستاں بن گئی اور افسانے سے کہانی غائب ہوگئی۔اس کے لئے شمس الرحمن فاروقی پر ایک مخصوص نظریاتی طبقہ توڑ پھوڑ اور ادبی تخریب کاری کا الزام بھی عائد کرتا ہے، لیکن یہ الزام اگر صحیح بھی ہے تو بھی فاروقی کی جدیدیت پسندی اور ’شب خون‘ کی اہمیت پر حرف نہیں آتا بلکہ یہ اس ’’تخریب‘‘ کے بعد ایک نئی تعمیر کے آغاز میں ان کے قائدانہ کردار کی تاریخی علامت ہے۔ شب خون نے بہت سے نئے قلمکار دیے ان جدید قلمکاروں نے کہانیوں کے بغیر جو کہانیاں لکھیں انہیں کہانی کا نام نہ دے کر ’’بے نام ادبی صنف‘‘ کے نام سے ہی کیوں نہ یاد کیا جائے، لیکن یہ تبدیلی کے عبوری دور کا بیش قیمت ادبی سرمایہ ہے۔
آج کی ادبی اصطلاح میں یہ مابعد جدیدیت یا پھر مابعد، مابعد جدیدیت کا زمانہ ہے۔ کہانی، اب کہانی پن میں لوٹ آئی ہے، نئے رنگ روپ اور عصری لب ولہجے میں، وہ رجحان جو ادب کو خطابت اور صحافت بنائے دے رہا تھا، اب بالکل نہیں یا بہت کم رہ گیا ہے، لیکن فاروقی کی جدید تنقید، ان کی تحریک ایک تاریخ اور ’شب خون‘ کی فائلیں ایسی ادبی دستاویزبن چکی ہیں جن کے بغیرعصری اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ اپنے عہد کے اس عدیم المثال دانشور کا علمی وادبی سفر بہر نوع کامیابیوں اور کامرانیوں سے عبارت ہے، انہیں دنیا بھر کے اہم جامعات اور علمی اداروں میں توجہ سے سنا گیا، عالمی سطح پر ان کی خدمات کو سراہا بھی گیا، ان پر برصغیر اور مغربی دنیا میں مقالات اور مضامین لکھے گئے۔ انہیں لاتعداد انعامات واعزازات ملے۔ اپنے وطن میں انہیں برصغیر میں ادبیات کے سب سے بڑے اعزاز ’’سرسوتی سمان‘‘ سے سرفراز کیا گیا۔ ساری دنیا میں ان کے دوستوں، شاگردوں اورپرستاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، خود حکومت ہند کے اعلیٰ مناصب پر رہے لیکن افسرانہ غرور اور بناوٹ سے کوسوں دور ان کی شخصیت سادگی، خاندانی شرافت اور خوش خلقی کا نمونہ ہے، دوست نوازی اور دلنوازی ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ رقیق القلب اتنے ہیں کہ کسی کی تکلیف وہ برداشت نہیں کرسکتے، اپنے بڑے سے بڑے مخالف سے بھی کینہ نہیں رکھتے، کسی کا دل نہیں دُکھاتے، لیکن اگر ادب اور نظریات کا ذکر ہو تو اپنی بات کہنے میں ان سا بے باک بھی مشکل سے ملے گا۔ سلیقہ مند اور مزاج داں شریک سفر محترمہ جمیلہ ہاشمی فاروقی انتقال کے بعد دو بیٹیاں مہر افشاں ،اور باراں ،ان کے بچے، یہی ان کا کنبہ ہے۔ دونوں بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ مہر افشاں ورجنیا یونیورسٹی میں ایشیائی اور وسط ایشیائی لسانیات کی پروفیسر ہیں۔ باراں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انگریزی کی استاد ہیں ۔
(نوٹ۔ یہ مضمون فاروقی صاحب کی حیاتی میں ہی لکھاگیاتھا)
رابطہ۔25،گنیش پارک، رشید مارکیٹ، دہلی-51
موبائل۔9212166170 ، ای میل۔[email protected]