درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری زیادہ ریکارڈ، بارش کی کمی فصلوں اور انسانی صحت کیلئے خطرہ قرار
سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں حالیہ دنوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے زرعی اور ایگرو میٹرولوجی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں موسم کے بدلتے ہوئے رجحانات نہ صرف زراعت بلکہ انسانی صحت اور ماحولیات کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں۔راجوری ضلع عام طور پر معتدل اور متنوع موسمی حالات کے لئے جانا جاتا ہے جہاں شدید گرمی کے موسم میں بھی درجہ حرارت شایدہی 41 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرتا ہے تاہم رواں سال مارچ کے پہلے ہفتے میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ معمول سے تقریباً 10 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے۔یہ اعداد و شمار شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں کے تحت قائم ریجنل ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن (RARS) راجوری میں موجود ایگرو میٹرولوجی آبزرویٹری میں ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اس آبزرویٹری میں موسم سے متعلق مختلف پیرامیٹرز کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی کی جاتی ہے اور درجہ حرارت دن میں تین مرتبہ روایتی موسمی آلات اور ڈیجیٹل ویڈر مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے نوٹ کیا جاتا ہے۔
آبزرویٹری کی نگرانی کرنے والے ایگرو میٹرولوجی ماہر ڈاکٹر روہت شرما نے بتایا کہ عام طور پر مارچ کے پہلے ہفتے میں راجوری کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 19 سے 24 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے جو مقامی فصلوں کی افزائش کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے تاہم اس سال درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 5 مارچ کو آبزرویٹری میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو اس عرصے کے معمول کے درجہ حرارت سے تقریباً 10 ڈگری زیادہ ہے۔ ڈاکٹر روہت شرما کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ سب سے زیادہ دن کا درجہ حرارت ہے جو اس اسٹیشن میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل اسی عرصے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سال 2016 میں 27 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اس قدر تیز اضافہ موسمی نظام میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس کی بنیادی وجوہات عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) اور خطے میں بارش کی شدید کمی ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب ریجنل ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن راجوری کے سینئر سائنسدان اور انچارج ڈاکٹر وکاس شرما نے بتایا کہ اس وقت ضلع میں بارش کی کمی تقریباً 65 سے 70 فیصد تک ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل خشک سالی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ خشک موسم کے اثرات روزمرہ زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ڈاکٹر وکاس شرما نے خبردار کیا کہ اگر بارش کی کمی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اسی طرح برقرار رہا تو اس سے کھیتوں میں پہلے سے بوئی گئی فصلوں کی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ موسمی صورتحال آنے والے ہفتوں میں برقرار رہی تو اس کے انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ زراعت، ماحول اور عوامی صحت کو درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے۔