شبِ قدر عظیم راتوں میں سے ایک مُقدس رات ہے جس کا اندازہ ہم قرآن پاک کی اس آیت کریمہ سے بخوبی لگا سکتے ہیں:یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (سورہ القدر: ۲) عرب میں لوگ جب کسی سے ایک بڑی تعداد کا تذکرہ کر تے ہیں، تو وہ اس کے لئے ہزار کا لفظ استعمال کر تے ہیں۔قرآن پاک نے اسی اسلوب کو مد نظر رکھ کر شبِ قدر کی فضیلت و اہمیت واضح کر نے کے لئے ہزار کا لفظ استعمال کیا ہے۔شبِ قدر کی اہمیت اور فضیلت قرآن مجید سے وابستہ ہے کیونکہ قرآن مجید اسی رات میں نازِل کیا گیا جو دُنیا ئے انسانیت کے لئے رہتی دُنیا تک رشد و ہدایت کی کتاب ہے۔شبِ قدر کی اتنی فضیلت و اہمیت صرف اس اعتبار سے نہیں ہے کہ اس میں عبادت و ریاضت کا ثواب باقی تمام راتوں سے زیادہ مِلتا ہے بلکہِ اس اس لئے ہے کہ یہ نزولِ قرآن کی رات ہے اگر یہ کہا جائے کہ شبِ قدر کی تمام فضیلت اور اہمیت قرآن مجید سے وابستہ ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔بقولِ مولانا ابوکلام آزاد: ’’پھر آہ! تمہاری غفلت کیسی شدید اور تمہاری گمراہی کیسی ماتم انگیز ہے کہ تم لیلۃ القدر کو ڈھونڈتے لیکن ا س کو نہیں ڈھونڈتے ہوجو لیلتہ القدر میں اتار گیا ہے جس کے ورد سے اس رات کی قدر و منزلت بڑھی۔ تم اگر اس کو پالو تو تمہارے لئے ہر رات لیلتہ القدر ہے‘‘۔اس عظیم نعمت پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر ایک بہت بڑا احسان بھی ہے کہ اس کو نازل کر نے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انتہائی با بر کت مہینہ کا انتخاب کیا ۔
بارہ مہینوں میں سے فضیلت اور اہمیت کے اعتبار سے ماہِ رمضان کو تفوق حاصل ہے۔ ماہ رمضان تین عشروں پر مشتمل ہے جن میں تیسرے عشرے کو برتری حاصل ہے کیونکہ اسی میں شبِ قدر بھی واقع ہے۔اسی شبِ قدر کو تلاش کر نے کے لئے اللہ کے رسول ؐ ہر سال پابندی سے اعتکاف فرماتے تھے۔رمضان کا تیسرا عشرہ جونہی داخل ہو تا تھا، اللہ کے رسول ؐ عبادت وریاضت کے لئے کمر کس لیتے تھے۔ یعنی انتہائی چاق و چوبند اور اہتمام کے ساتھ پہلے دو عشروں سے کچھ زیادہ ہی عبادت کر تے تھے۔ اس کی بہترین عکاسی حضرتِ عا ئشہ صدیقہ ؓ اس طرح سے کرتی ہیں کہ: یعنی جب آخری عشرہ داخل ہو تا تھا اللہ رسول ؐﷺرات بھر جاگتے رہتے تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی جگا یا کر تے تھے،انتہا ئی خوب مشقت فرماتے اور عبادت کے لئے کمر باندھ لیتے تھے۔(مسلم کتاب، الصیام )۔حضرتِ عائشہ صدیقہ ؓ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ: یعنی اللہ کے رسو لﷺؐ رمضان کے آخری عشرے میں دیگر ایام کے مقابلے میں عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اتنی مشقت نہیں فرمایا کر تے تھے۔( مسلم کتاب الصیام)
لیلتہ القدر کو تلاش کر نے کے سلسلے میں اللہ کے رسول ؐ نہ صرف خود اہتمام کر تے تھے بلکہ اُمت کو بھی لیلتہ القدر کو تلاش کر نے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا:’’ شبِ قدر کو ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کر و‘‘( بخاری ،کتا ب الصوم)۔ ایک اور حدیث میں اللہ کے رسول ؐ نے شبِ قدر کو التماس کر نے کی تا کید فرمائی ۔ اس تعلق سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا:
شب قدر کو آخری عشرے میں ڈھونڈ و۔ ( بخاری ،کتاب الصیام) شبِ قدر آخری عشرے کے طاق راتوں میں ہوتی ہے ۔ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: ٰ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کے ۲۹ تاریخ،۲۷ تاریخ اور ۲۸ تاریخ میں تلاش کر و۔(بخاری ،کتاب الصیام) ایک اور جگہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ:’’ اللہ تعالیٰ خود طاق ہے اور طاق راتوں کو خود پسند فرماتے ہیں‘‘ ۔ہم میں سے اکثر لوگ صرف ۲۷ ؍ویں شب کو ہی لیلۃ القدر تلاش کرنے پر اکتفاد کر تے ہیں ۔
ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو رب کریم کے سپرد کر نا چائیے تاکہ ماہ رمضان کے حقیقی مقصد سے بھرپور فیض حاصل ہو جائے اور آیندہ ۱۱ مہینوں کے لئے یہ ہمارے لئے زاد راہ ثابت ہو جائے۔شبِ قدر کو تلاش کرنے کا یہ بھی مقصد ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت زیادہ سے زیادہ کریں۔اسی لئے اللہ کے رسول ؐ نے شب قدر کی تاریخ کو متعین نہیں کیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺشب قدر کی تاریخ بتانے ہی والے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے حکمت بالغہ کی وجہ سے یہ علم نبی کر یمؐ کے سینۂ مبارک سے اٹھایا۔حضرتِ عبادہ بِن صامت ؓسے روایت ہے کہ:اللہ کے رسول ﷺلیلۃ القدر کی تاریخ بتانے کے لئے نکلے تھے کہ باہر مسلمانوں میں سے دو شخص آپس میں لڑ پڑیں۔پھر اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا ’’کہ میں تو شب قدر کی تاریخ بتانے کے لئے نکلا تھا کہ فلاں اور فلاں کے درمیان آپس میں جھگڑا ہوا اور مجھ سے شب قدر کی تاریخ کا علم اُٹھا یا گیا کہ اس میں آپ کے لئے خیر کا پہلو ہو‘‘ ( بخاری ، کتاب فضل لیلۃ القدر)
شب قدر کے تاریخ کا علم اس لئے اخفا ء رکھا گیا کہ اُمت رمضان کے آخری عشرہ انتہائی محنت اور اجتہاد کے ساتھ اللہ کی عبادت میں یکسو ہو کر لگ جائیں۔مذ کورہ بالا روایات سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ شب قدر آخری عشرہ کے پانچ طاق راتوں میں سے کو ئی بھی رات ہو سکتی ہے۔اعتکاف جیسی عظیم عبادت بھی اسی لئے مقرر کی گئی کہ اس میں دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کر نا بھی مطلوب ہے۔
پس چہ باید کرد ؟
آج کل مسا جِد میں لوگ اجتماعی طور پر جمع ہو کر و عظ و تبلیغ سننے کا بڑا اہتمام کر تے ہیں۔ ہر مسجد میں دو دو تین تین مقررین رات بھر تقریریں کر تے ہیں ۔تراویح کے بعد تھوڑی دیر کے لئے قرآن و سنت کاتذکرہ کرنا تو اچھی بات ہے لیکن رات بھر تقریریں کر نا اور سننا مستحسن عمل نہیں ہے ،بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کسی طرح سے رات کٹ جائے اور وہ مقررین حضرات سے یہ کام بھی لیتے ہیں کہ وہ ان کو رات بھر بیدار رکھیں۔حالانکہ شب قدر ایک ایسی عظیم رات ہے جس کا ایک لمحہ بھی غیر ضروری کام میں ضائع نہ کر نا چاہئے۔اس شب میںمندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا جائے:
۱۔ ایمان و احتساب:۔
شب قدر میں جو بھی نیک عمل کر لے،ایمان و احتساب اور خلوصِ نیت کے ساتھ کریں۔شب قدر میں قیام الیل کا معاملہ ہو یا قرآن پڑھنے یا سننے کا معاملہ،نوافِل پڑھنے کا معاملہ ہو یا ذِکر و ازکار کا، توبہ و استغفار کا معاملہ ہو یا دعائوں کا اہتمام غرض ہر عمل ایمان و احتساب کے پہلو سے خالی نہ ہو۔ہر عمل کر تے وقت یہ بات ذہن میں مستحضر رکھیں کہ میں جو بھی عمل کر وں خالص اللہ ہی کے لئے کر وں نہ کہ کسی اور کو دکھانے کے لئے۔اللہ کے رسول ؐ کا ارشاد ہے: جو بھی شب قدر میں ایمان اور امروثواب کی نیت سے قیام کر ے گا،اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جایئے گے۔( بخاری ،کتاب الایمان)اس حدیث کے تنا ظر میں شب قدر میں ہر نیک عمل کر تے وقت اسی بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ہر نیک عمل اللہ کی رضا اور خوش نودی کے لئے ہو۔
۲۔ قیامِ لیل:۔
شب قدر قیامِ لیل کی رات ہے اس میں بنسبتِ رمضان کے باقی ایام سے قیام طویل ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ قرآنِ مُقدس کو سناجائے۔شب قدر قرآن مجید کی سال گِرہ بھی ہے اس لحاظ سے بھی اس کا حق بنتا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ قرآنِ مجید کو تر تیل سے پڑھنے اور سننے کا حکم ملا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :اور کھول کھول کر پڑھ قرآن کو صاف۔۔( مذمل : ۳)۔قرآنِ مجید کو اس طرح سے بھڑ بھڑ کر اور صاف صاف پڑھ کہ اس کا ہر حرف صاف سمجھ میں آئے۔قرآن مجید صرف پڑھنا اور سننا ہی مطلوب نہیں بلکہ فہم و تدبر بھی مطلوب ہے۔
۳۔ نوافِل کا اہتمام :۔
ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کے طاق راتوں میں کثرت سے نوافِل پڑھنے کا بہتر ین موقع ہو تا ہے۔لہٰذا اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چایئے۔نوافِل نہ صرف فرائض کی کوتاہیوں کی بر پائی کرتی ہیں بلکہ قربِ الہٰی کو حا صل کر نے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔اس لئے شب قدر میں کثرت سے نو افِل نمازوں کو پڑھنے کا اہتمام کر نا چائیے۔
۴۔ ذِکر و ازکار کا اہتمام:۔
شب قدر میں کچھ لمحات ذِکر و ازکار کے لئے بھی مختص رکھیں۔اللہ تعالیٰ کی یاد ہمیشہ دل و دماغ میں مستحضر رکھنا ہی ذِکر ہے۔اللہ تعالیٰ کی یادسے انسان ایک لمحہ کے لئے بھی غافِل نہ رہے،اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے اس بات کی بار بار تاکید کی کہ: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو یاد رکھے گا، ( احزاب ۔۴۱) ۔لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ ( البقرہ: ۱۵۲)قرآنِ مجید کی تلاوت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔لہذا قرآن مجید ہی کو حرزِ جاں بنانا چاہئے۔
۵۔ تو بہ و استغفار :۔
اپنے سابقہ گناہوں پر نادِم و پشیمان ہو نا اور بقیہ زندگی میں اپنے آپ کو راہ حق پر ثابت قدم رکھنے کے لئے ہبہ کر نا تو بہ کہلاتا ہے۔تو بہ و استغفار سے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ہر قسم کے غم اور مشکلات سے نجات دلاتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے اللہ تعالیٰ اس کے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیتا ہے۔اور ہر غم و پریشان سے اسے نجات دلاتا ہے۔اور اس سے ایسی جگہ سے رزق بہم پہچاتا ہے جس کا اسی کو گمان بھی نہیں ہو تا ۔ ( ابوداوٗد) ۔شب قدر میں اگر دل سے گناہوں سے توبہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور شر ف قبولیت بخشے گا۔
۶۔ دعائوں کا اہتمام :۔
شب قدر میں کثرت سے رب کائنات سے اپنی حاجتوں کے لئے ہاتھ پھیلائی جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں دعا کرنے کے لئے یوں ابھارتا ہے: تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دُعائیں قبول کر وں گا۔( غافر۔۶۰) اللہ تعالیٰ سے دعا کر نا ہی اصل عبادت ہے حدیث ِ پاک میں دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا۔اللہ سے جب کو ئی بندہ دعاکر تا ہے تو وہ اس بندے پر بے حد خوش ہو جاتا ہے اورجو کو ئی اس سے دُعا نہیں کر تا تو وہ ا س پر نہ صرف ناراض بلکہ غضب ناک بھی ہو جاتا ہے۔شب قدر میں جس دُعا کو سب سے زیادہ دہرا نا چاہیے وہ یہ ہے: اے اللہ تو معاف فرمانے والا ،معافی و درگزر کر نے کو پسند کر نے ولا ہے ،پس تو مجھے معاف فرمادے۔( تر مذی)
حرفِ آخر:۔ شب قدر ہر اعتبار سے تقدیر ساز رات ہے ۔لہٰذا اس عظیم المرتبت شب کے جو تقاضے ہیں وہ بھر پور طریقے سے ادا کریں اور کسی بھی لمحے کو ضایع نہیں ہونے دیں۔اللہ سے دعا ہے کہ یہ تقدیر سازرات ہمارے لیے باعث خیر و فلاح ثابت ہواور کہیں ایسا نہ ہو کہ ؎
شبِ حیات میں کچھ لوگ آفتاب بدست
کچھ ایسے بھی ہیں جو قندیل تک نہ جلا سکے
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،ڈپاٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز،
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد
6397700258