منڈی//سول سوسائٹی منڈی کی جانب سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت غلام عباس نے کی۔ اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ جموں کشمیر میں پہلے سے ہی سنگین حالات بنے ہوئے ہیں اوراس پر مر کزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 اور دفعہ 35A جو ریاست جموں کشمیر اور مرکز کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کی بدولت ریاست کا مرکز سے الحاق ہواہے ،کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے ۔ مقررین نے کہا کہ اگر ان دفعات سے مرکزی اور ریاستی سرکار نے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کو شش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے۔ غلام عباس نے کہا کہ وہ مرکزی سرکار کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے پوری ریاست میں مزید حالات خراب ہوں ۔ صدر بیوپار منڈل منڈی شمیم احمد گنائی نے کہا کہ اس وقت منڈی ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کی عوام بلا لحاظ سیاست اپنے اپنے قائدین کی قیادت میں ریاست کی شناخت کو بچانے کے لئے یکجا ہو کر کام کرے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ 35A اور اس کے بعد دفعہ370 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور اور سٹیٹ سبجیکٹ کو ختم کرنے کا مرکزی سرکار کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیا جاے گا۔گنائی نے مخلوط سرکار کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی کرسی کو بچانے سے پہلے ریاست کی خصوصی قانونی حیثیت کو بچانے کے لئے کام کرے ۔انہوں نے کہا کہ کرسیاں ملتی رہیں گی لیکن اس صور ت حال میں ریاست کی شناخت کو بچانا ہر آدمی کا فرض ہے۔اس موقعہ پر ایک قرار داد پاس کرکے حکومت پر واضح کیاگیاکہ اگر اس نے دفعہ 35A اور دفعہ 370 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے کوئی بھی حرکت کی تو اس صورت میں 12 اگست 2017 کو سخت گیر ہڑتال کا آغاز کیا جائے گا اور منڈی ،لورن ،ساوجیاں ،ساتھرہ وغیرہ میں چکہ جام رکھاجائے گا۔اجلاس میںعبدالاحد بٹ، الحاج امیر دین ،صدر دین چک ،مبشر بانڈے، فاروق احمد، محمد بشیر، کفایت باگن، نیاز احمد، عبدالحق، عبدالغنی ،عبدالاحد چک ،محمد اشرف خان، محمد شریف تانترے وغیرہ بھی موجودتھے ۔