راجوری// گزشتہ روز بدھل کے معروف سماجی کارکن فاروق احمد انقلابی کو پولیس نے حراست میں لے لیا جس پر علاقے میں لوگوں نے پولیس کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔فاروق انقلابی کے خلاف راجوری پولیس تھانہ میں ایک کیس درج کیاگیاہے ۔ اس معاملے کی خبر ملتے ہی بدھل کے لوگوں نے صبح 8بجے سے دس بجے تک کیول کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیا ۔مظاہرین کاکہنا تھا کہ سماجی کارکن فاروق انقلابی کونامعلوم وجوہات کی بنیادپر روپوش رکھا گیاہے ۔انہوں نے ریاستی مخلوط سرکار کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ان کا کہنا تھا کہ حق بات کہنے والوں کو حراساں کیا جارہا ہے تاکہ وہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے سے باز آسکیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انقلابی کو دو روز سے غائب رکھا گیا ہے جسے اگرعوام کے سامنے نہ لایاگیاتواحتجاجی سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔اس موقعہ پر ایگزیکٹیومجسٹریٹ بدھل خورشید تانتر ے اور ایس ایچ او بدھل جہانگیر خان موقعہ پر پہنچے جنہوں نے مظاہرین کو بتایا کہ سوشل میڈیاپر اعتراضات والے بیان جاری کرنے کی بنیادپر فاروق انقلابی کو ایس ایس پی راجوری نے بلوایاتھا اوراس کے خلاف کیس درج ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جوڈیشل معاملات ہیںاور احتجاج کسی معاملے کا حل نہیں ہوتے بلکہ عدالت سے رجوع کیا جائے تاکہ مذکورہ شخص کی رہائی کیلئے راہ ہموار ہوسکے۔ مقامی لوگوں نے دو گھنٹے بعد اگرچہ احتجاج ختم کردیاتاہم پولیس کو متنبہ کیاکہ اگر اگلے دو روز میں مذکورہ شخص کو رہا نہ کیاگیا تو وہ دوبارہ احتجاجی راستہ اختیار کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی کوحراست میں لینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جمہوری نظام میں کسی کو اپنی بات کہنے کا حق نہیں ہے ۔