جموں//سماجی بہبود اور اے آر آئی ٹریننگز کے وزیر سجاد غنی لون نے کہاہے کہ ریاست میں ایک جامع اور جواب دہ سماجی بہبود پروگرام کے قیام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں خط افلاس سے نیچے گزر بسر کرنے والے ، پچھڑے طبقوں ،غرباءاور مساکین کی حالت بہتر بنانے کے لئے کئی تجاویز تشکیل دی گئی ہے ۔وزیر قانون ساز اسمبلی میں اپنے ماتحت محکموں کے مطالبات زر کا جواب دے رہے تھے۔انہوںنے کہاکہ متعدد اقدامات حکومت کے زیر غور ہے جن کی بدولت حقیقی مستحقین کو بہبودی کے سکیموں سے مستفید کیا جاسکے گا۔محکمہ کی طرف سے چلائے جارہے مختلف سکیموں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرنے ایوان میں کہاکہ این ایس اے پی پنشن سکیم اور آئی ایس ایس ایس کے تحت موجودہ مالی سال کے دوران 113.79کروڑ روپے ریاست کے 5.73لاکھ مستحقین میں تقسیم کئے گئے ۔سجاد نے کہا کہ تعلیم کسی بھی سماج کی ترقی کیلئے بے حد ضروری ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے شیڈول کاسٹ ،دیگر درجہ فہرست ذاتوں ،جسمانی طور ناخیز افراد،ڈی این ٹیز اور ای بی سیز طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلاب کی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے کئی سکیمیں زیر عمل ہے ۔انہوںنے کہا کہ ان سکیموں کے موجودہ مالی سال کے دوران 1.91لاکھ طلاب میں 26کروڑ روپے بطور وظائف تقسیم کئے گئے ۔وزیر نے بتایا کہ آئی سی ڈی ایس کے تحت ریاست میں 28926 آنگن واڑی سینٹر چلائے جارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ 10لاکھ 6 ماہ سے 6سال تک کے عمر کے بچے ، حاملہ اور دودھ پلانے والی ماﺅں اور نوعمر لڑکیوں کی نشو و نما کے لئے خوراک محکمہ کی طرف سے فراہم کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال2017-18 کے دوران دسمبر کے آخر تک7.62 لاکھ مستفیدین کو آئی سی ڈی ایس کے دائرے میں لایا گیا جس کے لئے213 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا کے تحت20 جنوری2018 سے مستفیدین کا اندراج شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کے تحت14 اضلاع کا ڈاٹا مکمل کیا گیا ہے جبکہ9 اضلاع کا ماسٹر ڈاٹا ایم ڈبلیو سی اینڈ ڈی کو بھیجا گیا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ ایس اے بی ایل اے کے تحت ریاست کے پانچ اضلاع بشمول اننت ناگ، کپواڑہ، لیہہ، جموں اور کٹھوعہ کو پائلٹ بنیادوں پر لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت2017-18 کے دوران ماہ دسمبر تک77.66 لاکھ روپے استعمال کئے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ2017-18 کے دوران5 ہزار غیر شادی شدہ لڑکیوں کو20 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔وزیر نے مزید کہا کہ سٹیٹ رہیبلی ٹیشن کونسل فار ملی ٹینسی وکٹمزمتعدد سکیموں کے تحت متاثرین کو مدد فراہم کر رہی ہے جن میں جسمانی طور سے ناخیز افراد کو موٹرائزڈ ٹرائی سائیکل، وطن کو جانو، یوتھ ایکسچینج پروگرام شامل ہیں۔وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کارپوریشن خطہ افلاس سے نیچے گذر بسر کرنے والے کنبوں کی خواتین کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے لگاتار کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ2017-18 کے دوران کارپوریشن نے بنک ٹائی اپ اور ڈائریکٹ فائنانسنگ سکیم کے تحت10.73 کروڑ روپے استعمال کئے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2017 کے آخر تک71 مستفیدین میں30.91 لاکھ روپے کی لاگت کے مصنوعی اعضاءاور دیگر سازو سامان فراہم کیا۔بعد میں ایوان نے محکمہ سماجی بہبود، اے آر اینڈ ٹریننگس کے لئے سال2018-19 کے لئے185356.57 لاکھ روپے کے مطالبات زر پاس کئے۔ مطالبات زر پر جاری بحث میں21 ممبران نے حصہ لیا۔