سرنکوٹ// ریاست بھر کی طرح سرنکوٹ میں بھی سیلاب سے بہت زیادہ نقصان ہوا جس دوران ہزاروں کنال اراضی سیلاب کی نذر ہونے کے ساتھ ساتھ کئی لوگ بے گھر بھی ہوئے ۔حکومت کی طرف سے نہ تو ان لوگوں کو کچھ معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی آئندہ سیلاب سے بچنے کیلئے حفاظتی باندھ تعمیر کئے گئے ۔سرنکوٹ کے پوٹھہ اور سنئی علاقوں میں دریا نے اپنا رخ ہی تبدیل کردیاتھا جس کی وجہ سے لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔اگرچہ مقامی لوگوں نے حفاظتی باندھ تعمیر کرنے کیلئے بارہا اپیل کی لیکن کسی نے بھی سنوائی نہیں کی اور بالآخر لوگوں نے خود اپنی حفاظت کرنے کا ذمہ لیا اور انہوںنے دریا کو اپنے اصلی راستے کی جانب موڑنے کیلئے کام شروع کردیاہے ۔اتوار کو بیلا سموٹ ،سنئی اور پوٹھہ کے لوگوں نے شمشان گھاٹ کے پاس سے دریا سے دریا کو اپنے راستے کی طرف موڑنے کیلئے کام شروع کیا ۔واضح رہے کہ دریا نے اپنارخ تبدیل کردیاتھا اورپانی آبادی والے علاقوں میں چلاآیا جس سے کئی مکان بہہ گئے اور زمینیں بھی باقی نہیں رہیں۔سنئی کے برکت حسین نامی ایک شہری نے بتایا کہ انہیں 2014 سے لے کر آج تک محکمہ فلڈ کنٹرول کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا ۔برکت حسین نے بتایا کہ اس کی آٹھ پن چکیاں بھی نہیں رہیں ۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ کے دفتر کا کئی بار چکر لگایاگیالیکن ہر بار یہی جواب ملاکہ فنڈز نہیں ہیں اور سرکار فنڈز نہیں دے ہی نہیں رہی ہے ۔حاجی صدر دین اور محمد ا عظم کاکہناہے کہ سیلاب نے ان کی زمینیں ہی نہیں بلکہ سڑکیں ، پل اور راستے بھی تباہ کردیئے لیکن آج تک نہ زمینوں کا معاوضہ ملا ،نہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہوئی اور نہ ہی مستقبل کے خطرات سے بچنے کیلئے کوئی اقدام کیاگیا۔وہیں خواجہ محمد سلیم اورنصیر احمدکاکہناہے کہ 1992 میں بھی جب دریائے سرن میں طغیانی آئی اور پانی نے اپناراستہ تبدیل کیاتو اس کے بعد لوگوں نے خود اس کارخ اصل جانب موڑا اور آج بھی وہ اپنی مدد آپ کرنے کیلئے مجبور ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاجارہااور 1992 سے لیکر 2017 تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہواہے ۔انہوںنے کہاکہ یہاں 150 کنبے ایسے ہیں جو طغیانی آنے پر نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ سموٹ ، پوٹھہ اور سنئی کے لوگوں کی زندگی محفوظ نہیں اور وہ خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ اور حکومت خواب خرگوش میں سورہے ہیں اور وہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ معمولی سے طغیانی پر بھی انہیں تباہی کا سامناکرناپڑسکتاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرنکوٹ میں 2014کے سیلاب کے دوران بڑے پیمانے پر ہی تباہی ہوئی تھی جس کے آثار آج تک دیکھے جاسکتے ہیں ۔ جہاں سیلاب کے دوران سرکاری ڈھانچے کو زبردست نقصان پہنچا وہیں عوامی املاک بھی محفوظ نہیں رہیں ۔سیلاب کی زد میں آکر ہی پونچھ ضلع کو جانے والی بجلی کی 132کے وی لائن کے کئی ٹاور لڑکھڑاگئے جن کی اب تک تعمیر نہیں کی گئی ہے ۔ بفلیاز سرنکوٹ سڑک کو بھی اس دوران نقصان پہنچاجبکہ کئی پل ڈھ گئے اور سڑکیں بھی نہ رہیں۔