ایجنسیز
کٹھمنڈو//نیپال کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس منگل کو اْس وقت ملتوی کر دیے گئے جب اراکینِ پارلیمنٹ نے وزیرِ اعظم بالیندر شاہ (بالن) کے بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات سے متعلق حالیہ بیان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کارروائی میں مسلسل رکاوٹ ڈالی۔ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) کا اجلاس 8 جون تک ملتوی کر دیا گیا، جبکہ قومی اسمبلی (نیشنل اسمبلی) کا اجلاس بدھ تک کے لیے ملتوی کیا گیا۔ اس سے قبل پیر کو بھی پارلیمانی اجلاس احتجاج کے باعث ملتوی کر دیے گئے تھے۔اپوزیشن اراکین وزیرِ اعظم بالن کے اتوار کے روز پارلیمنٹ میں دیے گئے اس بیان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ نیپال نے بھی کئی مقامات پر بھارت کی سرزمین پر تجاوزات کی ہیں۔ اس بیان نے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث اور تنازع کو جنم دیا۔وزیرِ اعظم بالن نے مزید کہا تھا کہ بھارت اور نیپال نے سرحدی تنازع کے حل کے لیے مورخین، سروے ماہرین اور دیگر ماہرین کی مدد لینے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے پر چین اور برطانیہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ تاہم بھارت نے منگل کو واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی تنازع کے حل میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔منگل کو ایوانِ نمائندگان کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن اراکین نے وزیرِ اعظم کے بیان کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ بعض اراکین احتجاجاً اسپیکر کی گھنٹی کے گرد جمع ہوگئے تاکہ اپنی ناراضی کا اظہار کر سکیں۔اسپیکر دول پرساد آریال نے اراکین سے تحمل اور ایوانی کارروائی میں تعاون کی اپیل کی، تاہم اپوزیشن نے ان کی درخواست کو نظرانداز کر دیا۔ احتجاج کرنے والے اراکین وزیرِ اعظم کے بیان کو واپس لینے اور پارلیمانی ریکارڈ سے حذف کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔بعد ازاں ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور اگلا اجلاس 8 جون کو صبح 11 بجے طلب کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اسی طرح قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا، جس کے بعد چیئرمین نارائن پرساد دہال نے اجلاس ملتوی کرتے ہوئے اگلا اجلاس 3 جون کو دوپہر 12.15 بجے طلب کیا۔نیپال اور بھارت کے درمیان لیپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی کے علاقوں پر ایک دیرینہ سرحدی تنازع موجود ہے، جس پر دونوں ممالک اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ علاقے ریاست اتراکھنڈ کا حصہ ہیں اور اس مسئلے کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔منگل کو بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت اور نیپال کی تقریباً 98 فیصد سرحد کا تعین ہو چکا ہے، تاہم کچھ حصے اب بھی غیر حل شدہ ہیں۔ دریائے گنڈک کے بہاؤ میں تبدیلی اس صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کے بعض متعین حصوں میں نو مینز لینڈ پر قبضے اور تجاوزات کے معاملات بھی موجود ہیں، جن کی دونوں ممالک مشترکہ طور پر نقشہ سازی اور جانچ کر رہے ہیں۔