پونچھ//امام بارگاہ ساتھرہ میںمحرم الحرام کی آٹھویں تاریخ کو ہر سال کی طرح اس بار بھی مجلس عزا منعقد ہوئی۔ انجمن رضائے آل محمد ساتھرہ کی جانب سے منعقدہ اس مجلس عزاء کا آغاز بھی باضابطہ تلاوت قرآن پاک سے ہوا بعد از آں نعت و منقبت امام عالی مقام کے حضور پیش کیاگیا۔ دوران مجلس مولانا سجاد حیدر قمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ کرب وبلا کا لٹا قافلہ جب شام کے دربار میں پہنچا تو ابن زیاد نے جناب زینب ؑکو ٹوکتے ہوئے کہا دیکھا خدا نے تمہارے ساتھ کیا کیاتو جناب زینب ؑ نے جواب دیاکہ کربلا میں ہم نے حسن و جمال کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ انسان وہ کربلا نہیں دیکھ رہا ہے جو امام حسین علیہ السلام نے اسے دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے اسلام ہمارے سامنے پیش کیا، امام علیہ السلام اور امام حسن نے اس اسلام کی تشریح کی اور امام حسین علیہ السلام نے اس اسلام کو مجسم کر کے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ جناب زینب ؑچونکہ الٰہی نقطہ نظر سے کربلا کا مشاہدہ کر رہی تھیں اس لئے انہوں نے ابن زیاد کو ایسا جواب دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کرب وبلا میں امام حسین علیہ السلام کا مقصد عظیم تھا اسی لئے جناب زینب ؑنے کربلا میں صرف حسن و جمال دیکھا۔ مولانا علی اصغر حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلا ہمیں ذمہ داری کا احساس کراتی ہے۔ انہوں نے کہ کہ فرش عزا ء پر بیٹھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں سے درس اخلاق، درس شہادت، درس عبادت حاصل کر کے اٹھیں۔ کشمیر سے تشریف لائے ہوئے مولانا بشیر حسین بٹ نے کہا کہ امت کی غفلت کے نتیجہ میںکربلا وجود میں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ بہتر نفوس نے دے کر اسلام کو حیات دی۔ انہوں نے کہا کہ امت کی غفلت کے باعثِ وقت کے امام کو اللہ اپنی آخری حجت کا ظہور نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ کہ مجالس اس لئے بپا کی جاتی ہیں تا کہ ہم کربلا کے حسین کے ساتھ عہد کریں کہ ہم وقت کے امام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔یہ مجلس مولا اقرار حیدر کی دعا و سلام پر اختتام پذیر ہوئی۔مجلس عزا کے دوران نظامت کے فرائض سید شوکت کاظمی نے انجام دیئے اور شکریہ کی تحریک صدر انجمن نے ادا کی۔