یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کائنات کا حُسن وجمال ، اس کی قدرتی و فطری آب و ہَوا پر منحصر ہے اوراس کائنات میں موجود تمام مخلوقات کے حیات کی بقاءکا انحصارقدرتی ماحولیاتی نظام پر ہے۔لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کائنات میں موجود حضرت انسان کی طرف سے فطرت سے انحراف کی صورت میں زمین و آسمان میں فساد و بگاڑ پیدا ہوچکا ہے،جس کے نتیجے میںدنیا بھر میں ماحولیات کا نظام غیر متوازن اور ناسازگار ہوکر رہ گیا ہے،جسے ترقی یافتہ ممالک بھی سازگار بنانے میں کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کرپارہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف انسانی صحت ہی نہیں بلکہ معیشت، زراعت اور معاشرتی نظام کو بھی متاثر کررہی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت اور زمین کی بنجر ہوتی ہوئی حالت کسانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کئی ممالک میں خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں پانی اور خوراک کی کمی عالمی تنازعات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نہایت افسوسناک ہے کہ ترقی یافتہ ممالک صنعتی ترقی اور معاشی طاقت کے حصول کے لئے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بڑے بڑے کارخانے، ایٹمی تجربات، جنگی ہتھیاروں کی تیاری اور بے قابو صنعتی سرگرمیاں زمین کے ماحول کو تباہ کررہی ہیں۔ دولت اور ترقی کی دوڑ میں انسان یہ بھول چکا ہے کہ اگر زمین ہی محفوظ نہ رہی تو ترقی، طاقت اور سرمایہ سب بے معنی ہوجائیں گے۔اسلام نے بھی انسان کو ماحول کی حفاظت، اعتدال اور صفائی کا درس دیاہے، زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیاہے اور واضح کرکے رکھ دیا ہے کہ انسان اگر قدرتی نظام میں غیر ضروری مداخلت کرے گا تو تباہی اس کا مقدر بن جائے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے سمجھے۔
حکومتوں کو چاہیے کہ وہ صنعتی آلودگی پر سخت قوانین نافذ کریں، شجرکاری کو فروغ دیں، متبادل توانائی کے ذرائع اپنائیں اور عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کریں۔ اسی طرح ہر فرد کی بھی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھے، پانی اور بجلی کا ضیاع روکے، درخت لگائے اور فطرت کے ساتھ محبت کا رویہ اختیار کرے۔ آج کی نوجوان نسل ماحولیاتی تحفّظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دینا، سوشل میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور شجرکاری مہمات میں حصّہ لینا نوجوانوں کی قومی و انسانی ذمّہ داری ہے۔ اگر نئی نسل ماحول کے تحفّظ کو اپنی ترجیح بنالے تو آنے والے وقت میں زمین کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔اگر انسان نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو آنے والے دن مزید خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ انسان کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے۔
یہ وقت فطرت کے ساتھ جنگ کرنے کا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر جینے کا ہے۔ انسان کو سمجھنا ہوگا کہ حقیقی ترقی وہی ہے جو انسانیت، ماحول اور آنے والی نسلوں کے تحفّظ کے ساتھ وابستہ ہو۔ ورنہ دولت اور ترقی کی یہ اندھی دوڑ ایک دن پوری انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گی۔ زمین صرف انسان کی ملکیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ اگر آج انسان نے اپنی خواہشات، لالچ اور بے احتیاطی پر قابو نہ پایا تو کل کی دنیا دھواں، پیاس، بھوک اور تباہی کی تصویر بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان فطرت کے ساتھ دشمنی ختم کرےاور اس بات کو محسوس کرے کہ بڑھتی ہوئی گرمی، آلودگی، خشک سالی، سیلاب اور موسمی بے ترتیبی دراصل انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اگر انسان توبہ، اصلاح اور ذمّہ داری کا راستہ اختیار نہ کرے تو فطرت کا یہ بگاڑ مزید تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام ہمیں صرف عبادات ہی نہیں بلکہ ماحول، جانوروں، درختوں، پانی اور زمین کے حقوق ادا کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے صفائی نصف ایمان ہے، اسراف ممنوع ہے اور ہر وہ عمل ناپسندیدہ ہے جس سے انسانوں یا دیگر مخلوقات کو نقصان پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ شجرکاری، پانی کی حفاظت، صفائی اور اعتدال اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصّہ ہیں۔
���