جموں // صوبہ جموں میں رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کی طرف سے دی گئی سات دنوں کی بھوک ہڑتال کی کال اتوار کو اختتام پذیر ہوئی رہبر تعلیم اساتذہ گذشتہ چار مہینوں سے ساتویں پے کمیشن کے اطلاق کے علاوہ اپنی تنخواوں کو مرکز کی ایم ایچ آر ڈی منسڑی سے کاٹ کر ریاستی بجٹ سے ساتھ منسلک کر نے کے مطالبے کو لیکر سراپا احتجاج ہیں ۔ یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق اس موقع پر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کے چیئر مین فاروق احمد تانترے نے راجوری ،پونچھ اور ریاسی اضلاع کے بعد اس بھوک ہڑتال کے آخری روز ضلع صدر مقام رام بن میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کے ساتھ شرکت کی۔ا±ن کے ہمراہ فورم کے نائب چیئرمین بھوپیندر سنگھ کے علاوہ فورم کے دیگر ریاستی اور ضلعی عہددران موجود تھے۔ ا±نہوں نے کہا کہ ریاست کے اکتالیس ہزار اساتذہ کا حق کسی کو زبردستی دبانے کی اساتذہ ہرگز اجازت نہ دیں گے – فورم لیڈران نے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں اور جب انہیں قوم کی تعمیر کرنی آتی ہے وہ اپنا حق لینا بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں -ا±نہوں نے کہا کہ سات روزہ بھوک ہڑتال کے بعد اب فورم کی ریاستی ایگزکیٹیو باڈی کا اجلاس سرینگر میں طلب کر کے آگے کی جدوجہد کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔فورم کے سینئر نائب صدر بھوپیندر سنگھ نے اس موقع پر اساتذہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج تک اساتذہ نے پ±ر امن طریقے سے احتجاج کر کے سرکار سے ا±ن کے حق کے لئے مطالبہ کرتے آئے ہیں ا±نہوں نے کہا کہ ضرورت پڑھنے پر وہ زبردستی سے اپنا حق لینے کے لئے آواز بلند کرنا بھی جانتے ہیں۔فورم لیڈران نے کہا کہ اساتذہ کی اس قدر تذلیل کر کے سماج میں استاد کو دی جانی والی عزت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے -ا±نہوں نے کہا کہ استاد کی جگہ ا±س کے سکول اور کلاس میں ہے لیکن سرکاروں نے انہیں سڑکوں کی کھاک پر بیٹھے کو مجبور کر کے ا±نہیں سر بازار بے عزت کیا گیا۔ا±نہوں نے کہا ہے کہ ریاست کے یہ چالیس ہزار سے زائد اساتذہ کوئی اضافی مانگ نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ ساتویں پے کمیشن کے بلا جواز روکے رکھنے پر اسے واگذار کر نے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ا±نہوں نے کہا کہ اب تک ا±نہوں نے ریاست کے غریب والدین کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ کر سکولوں کو چلانے کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کئے لیکن آگے ضرورت پڑھنے پر وہ سکولوں کو بند کر نے پر مجبور ہو جائیں گے جس کی ذمہ داری سرکار پر عائد ہو گی۔ مقررین نے کہا کہ مختلف ہربے اپنا کر آج تک ریاست میں رہبر تعلیم اساتذہ کو تنگ کیا گیا ہے جو آج بھی جاری ہے – ا±نہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے مستقل ملازم ہونے کے باوجود نامعلوم بنیادوں پر تنگ کئے جارہے ہیں اور اساتذہ کےساتھ ساتھ ریاست کے غریب بچوں کے مستقبل کو تاریک بنایا جا رہا ہے۔فورم لیڈران نے سیول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اساتذہ کے حقوق اور غریب بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لئے اپنی آواز بلند کر کے اپنی ذمہ داری کا ثبوت پیش کریں۔ا±نہوں نے ریاست کے سیاست دانوں سے بھی اپیل کی کہ اگر وہ ریاست کے غریب عوام کی تعمیر اور ا±ن کے بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرانے پر مخلص ہیں تو ا±نہیں قوم کے معمار کی حق تلفی کر نے کے لئے میدان عمل میں آکر ریاست کے اساتذہ کو اپنے حق دلانے کے لئے گونر انتظامیہ کے سامنے آواز بلند کر نے ہوگئی ورنہ زبانی اظہار ہمدرری کر کے ریاست کے اساتذہ کو بے قوف نہیں بنایا جا سکتا ہے – ا±نہوں نے کہاوہ ا±ن سماجی،مذہبی رہنماو¿ں اور لیڈران وسیول سوسائٹی کے لیڈران کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوںنے اس جائز معاملے میں اپنی آواز بلند کر کے ریاست کے اساتذہ کا ساتھ دیا ہے ۔اس موقعہ پر فورم کے ریاستی چیف الیکشن کمشنر شکیل زوہد ، مظفر احمد ، سینئر لیڈر حاجی مشتاق ملک ، جاوید چوہان ، اختر عباس ،کرپال سنگھ ،صوبائی صدر کشمیر راہی ارشاد ،معصوم الحق،صائمہ حفیظ ، ضلع صدر رام بن فاروق رونیال ،نائب صدر تیرتھ سنگھ کے علاوہ دیگران نے احتجاجی اساتذہ سے تقریر کی اوراپنی جدوجہد حق نہ ملنے تک جاری رکھنے کا عزم کیا – اس موقع پر نظامت کے فرائض حفیظ الرحمان نے انجام دیئے۔ہڑتال کے آخری روز راجوری پونچھ ،ریاسی ،اودہم پور ،ڈوڈہ اور کشتواڑ میں بھی بھوک ہڑتال اختتام پزیر ہوئی اور ریاستی فورم کی طرف سے آگے کا لائحہ عمل طے کر کے اس پر من و تن عمل کر نے کا اساتذہ نے ارادہ ظاہر کیا۔