بانہال// بانہال اور رامسو بلاک سے 17 سرپنچوں اور 37 پنچوں اور نائب سرپنچوں نے بلاک ڈیولپمنٹ چیرمین بانہال اور رامسو کے پاس اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے۔ بانہال اور رامسو کے بلاک چیئرپرسنز نے پنچائتی نمائندوں کی طرف سے پیش کی گئی استعفوں کی یہ کاپیاں مزید کاروائی کیلئے ضلع حکام کو بھیج دی ہیں۔ جبکہ بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور مزید نمائندے استعفیٰ دینے کی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔استعفیٰ پیش کرنے والے کئی سرپنچوں جن میں سرپنچ غلام رسول ماتو ، سرپنچ تنویر احمد کٹوچ اور سرپنچ محمد رفیق خان وغیرہ نے کشمیر عظمیٰ اور ذرائع ابلاغ کے دیگر نمائندوں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت جموں و کشمیر اور سرکاری انتظامیہ کی جانب سے زمینی سطح پر کام کرنے والے سرپنچوں اور پنچوں کی خدمات کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے اور گرام سبھائوں میں مختلف محکموں کے ملازمین کی ضروری قرار دی گئی شرکت ایک مذاق بن گئی ہے اور سرکاری احکامات ""حکمِ نواب تا درِ نواب"" تک ہی محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرام سبھائوں میں تیس سے زائد محکموں کے ملازمین کو شرکت کرنا ہوتی ہے لیکن بہت کم محکمہ جات اپنے ملازمین کو گرام سبھائوں میں بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں تعمیر و ترقی کے کام کاج میں محکمہ دیہی ترقیات کے ملازمین بے جا مداخلت کر رہے ہیں اور پنچائتی نمائندوں کے پروٹوکول کا کوئی لحاظ و پاس نہیں کیا جارہا ہے اور ملازمین کی من مرضی اور بلاجواز کی تنگ طلبی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچائتوں میں ٹینڈرز سے کام کروانے کے سرکاری احکامات نے پنچائتی راج نظام کا
مقصد ہی ختم کردیا گیا ہے اور اب پنچایتوں کے اندر ٹھیکیداری راج کو نافذ کیا جارہاہے جبکہ مشکل سے اپنا گزارہ کرنے والے سرپنچوں اور پنچوں کو ان ٹینڈروں میں حصہ لینے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ایک طرف سے دعوے کر رہی ہے کہ ممبرانِ پارلیمان کو عام لوگوں سے ملنے کیلئے ریاست جموں و کشمیر میں بھیجا جارہا ہے لیکن دوسری طرف زمینی سطح پر مقامی انتظامیہ کے عہدیدار عام لوگ تو دور کی بات سرپنچوں کو بھی ان سے ملنے نہیں دے رہی ہے تاکہ عوامی مسائل سامنے نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں محکمہ دیہی ترقیات سمیت دو مرکزی وزیر وںنے ضلع رام بن کا دورہ کیا لیکن پنچائتی نمائندوں کو دورے پر آئے مرکزی وزراء سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ چند منتخب پنچائتی نمائندوں کو ہی اس تقریب پر ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہا کہ بانہال بی کے بارہ میں سے صرف ایک سرپنچ کو وزیر مملکت برائے دیہی ترقی سے ملنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی نمائندوں نے پنچائتی الیکشنوں میں حصہ لیکر جان جوکھم میں ڈال رکھی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان کا کوئی کام ہو ہی نہیں رہا ہے اور عوام میں انہیں ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا پنچایت کراوہ سمیت بانہال بی سے بارہ سرپنچوں میں سے صرف ایک ہی سرپنچ کو وزیر مملکت سے ملنے کی اجازت کے علاؤہ دیگر علاقوں کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراوہ پنچایت میں ہی ریلوے کا پروگرام ہوا اور ریلوے پروجیکٹ کی وجہ سے یہاں تباہی مچادی گئی ہے لیکن متعلقہ سرپنچ غلام رسول متو کو اس موقع پر نظر انداز کیا گیا اور ریلوے وزیر مملکت سے عوامی مسائل ابھارنے سے انہیں روکا گیا۔ انہوں نے کہا لمبے عرصے سے چلے آرہے ان جھمیلوں سے تنگ آکر پنچائتی نمائندے دل برداشتہ ہوکر اپنے عہدوں سے مستعفی ہورہے ہیں اور استعفوں کو بلاک ترقیاتی چیئر پرسن بانہال راشیدہ بیگم اور چیئر پرسن رامسو محمد شفیق کٹوچ کے سپرد کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں بات کرنے پر ضلع پنچایت افسر رامبن اشوک سنگھ نے پنچائتی نمائندوں کے استعفوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے استعفوں کے بارے میں سنا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں ان کے پاس حتمی تفصیلات نہیں پہنچی ہیں اور متعلقہ بلاک چیئرپرسنز سے سے اس بارے میں تفصیلات پہنچتے ہی اس مدعے پر مزید کچھ کہا جائیگا۔