محمد بشارت
کوٹرنکہ// سینئر پی ڈی پی لیڈر محمد فاروق انقلابی نے جل جیون مشن اسکیموں کے جائزے کے سلسلے میں ہاؤس کمیٹی کے حالیہ دورہ ضلع راجوری کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض رسمی کارروائی اور زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹا ہوا اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دوروں کا اصل مقصد عوامی مسائل کو سمجھنا اور ترقیاتی اسکیموں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینا ہوتا ہے، لیکن حالیہ دورہ اس معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہا۔اپنے جاری کردہ بیان میں انقلابی نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے دورے کو صرف اْن علاقوں تک محدود رکھا جو آسانی سے قابلِ رسائی تھے، جبکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کمیٹی مشکل جغرافیائی حالات والے علاقوں تک نہیں پہنچتی، تب تک وہ حقیقی صورتحال کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق ایسے سطحی دورے عوامی مسائل کے حل کے بجائے محض کاغذی کارروائی تک محدود رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے اراکین نے چند منتخب مقامات پر وقت گزارا اور رسمی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر قیام و طعام کے بعد کمیٹی نے جلدی میں دورہ مکمل کر کے جموں واپسی اختیار کی، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل، خصوصاً پانی کی فراہمی جیسے حساس معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔محمد فاروق انقلابی نے زور دے کر کہا کہ جل جیون مشن کی حقیقی تصویر صرف دور افتادہ علاقوں جیسے تحصیل خواص، کوٹرنکہ اور بدھل کے دورے سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں جے جے ایم اسکیم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ ہونے کے باوجود عوام کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال وسائل کے غلط استعمال اور انتظامی ناکامی کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔انہوں نے کمیٹی کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس نے مکمل طور پر سرکاری بریفنگز پر انحصار کیا، جو زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق جل شکتی محکمہ کے وہی افسران، جن پر بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات ہیں، کمیٹی کو بریف کر رہے تھے۔ ایسی صورت میں حاصل کردہ معلومات کی شفافیت اور سچائی پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔انہوں نے عمرعبداللہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ایک غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نظر انداز شدہ علاقوں کا ازسرنو دورہ کیا جائے تاکہ عوامی مسائل کو قریب سے دیکھا جا سکے اور اسکیموں کی حقیقی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔انقلابی نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں جے جے ایم اسکیم کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی اجرتیں بھی تاخیر کا شکار ہیں، جس سے نہ صرف مزدور طبقہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ یہ انتظامی غفلت اور غیر سنجیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک شفاف، غیر جانبدار اور زمینی حقائق پر مبنی جائزہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے، ذمہ داران کا تعین ہو اور عوامی فنڈز کو صحیح معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے آخر میں مطالبہ کیا کہ حکومت فوری اصلاحی اقدامات کرے تاکہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت میسر آ سکے۔