سمت بھارگو
راجوری//سرحدی ضلع راجوری میں صدیوں پرانی اور منفرد مذہبی روایت بھیرئودیو جھانکی کا باقاعدہ آغاز ہولی کے تہوار سے قبل انتہائی مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ماحول میں ہو گیا۔ اس تاریخی اور ثقافتی تقریب میں شہر اور مضافاتی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے، جس سے پورا علاقہ روحانی اور روایتی رنگ میں رنگا ہوا نظر آ رہا ہے۔بھیرئودیو جھانکی ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی ایسی روایت ہے جو راجوری کی قدیم تاریخ اور مقامی ثقافت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اس دوران ایک شخص کو مکمل طور پر سیاہ رنگ میں رنگ کر بھیرئودیو کی شکل دی جاتی ہے اور اسے جلوس کی صورت میں شہر کے مختلف محلوں اور بازاروں سے گزارا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق وہ اپنے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھامے عقیدت مندوں کو علامتی طور پر ضرب لگاتا ہے، جسے مقامی لوگ ‘‘پرشاد’’ تصور کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اس سے صحت، سلامتی اور خوشحالی کی برکت حاصل ہوتی ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ جھانکی محض ایک رسم نہیں بلکہ سرحدی خطے کے لئے روحانی تحفظ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ لوگ اپنی مرضی سے آگے بڑھ کر اس علامتی ضرب کو قبول کرتے ہیں اور اسے صدیوں پرانے عقیدے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ بزرگوں کے مطابق یہ روایت نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہے اور آج بھی اسی عقیدت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔مقامی روایات کے مطابق کئی صدیوں قبل راجوری ایک شدید وبا اور طویل خشک سالی کی لپیٹ میں آ گیا تھا جس سے لوگ سخت پریشان تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ درویش نے اہلِ شہر کو بھیرئودیو کی اس مخصوص انداز میں عبادت اور جلوس نکالنے کا مشورہ دیا۔ روایت ہے کہ پہلی مرتبہ جھانکی نکالنے کے بعد وبا ختم ہو گئی اور بارشیں ہوئیں، جس کے بعد یہ رسم ہر سال باقاعدگی سے منائی جانے لگی۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ مذہبی تقریب صرف ایک روحانی روایت تک محدود نہیں رہی بلکہ علاقائی بھائی چارے اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت بن گئی ہے۔ ہندو، مسلمان اور سکھ برادری کے افراد اس میں یکساں طور پر شرکت کرتے ہیں اور باہمی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو راجوری کی گنگا جمنی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں راجوری واحد مقام ہے جہاں اس نوعیت کی جھانکی نکالی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت نہ صرف مذہبی بلکہ ثقافتی اعتبار سے بھی منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی اس موقع پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ یہ تاریخی روایت پرامن انداز میں جاری رہے۔بھیرئودیو جھانکی ہولی کے دن اپنے اختتام کو پہنچے گی، تاہم اس دوران شہر میں مذہبی سرگرمیوں، دعاؤں اور ثقافتی تقریبات کا سلسلہ جاری رہے گا، جو علاقے کی قدیم روایات کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔