سمت بھارگو
راجوری//راجوری شاہراہ پر کلر کے قریب پیش آئے ایک المناک سڑک حادثے میں گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ میں تعینات ایک اسسٹنٹ پروفیسر جاں بحق جبکہ ان کے شوہر زخمی ہو گئے۔ حادثے نے علاقے میں غم کی لہر دوڑا دی ہے اور تعلیمی حلقوں میں شدید افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔متوفیہ کی شناخت ڈاکٹر تبسم ناز کے طور پر ہوئی ہے، جو گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
پولیس کے مطابق حادثے کے وقت وہ اپنے شوہر محمد حمید کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ حادثہ اْس وقت پیش آیا جب گاڑی اچانک بے قابو ہو کر سڑک کنارے موجود پیراپیٹ سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دونوں افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری منتقل کیا گیا تاکہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔تاہم، ڈاکٹر تبسم ناز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گئیں، جبکہ ان کے شوہر محمد حمید کا علاج جی ایم سی راجوری میں جاری ہے اور ان کی حالت کے بارے میں ڈاکٹروں کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور حادثے کی تفصیلات حاصل کیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ادھر، اس افسوسناک واقعے پر تعلیمی اور سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ساتھی اساتذہ اور طلبہ نے ڈاکٹر تبسم ناز کی اچانک موت کو ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔مقامی لوگوں نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں پر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
ڈاکٹر تبسم ناز کے انتقال پر پونچھ کی فضا سوگ میں ڈوب گئی

محتشم احتشام
پونچھ//راجوری-پونچھ نیشنل ہائی وے پر کَلر کے مقام پر پیش آنے والے المناک سڑک حادثے میں ڈگری کالج پونچھ کے شعبہ زوالوجی سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر تبسم ناز کے جاں بحق ہونے کی خبر نے پورے پونچھ کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس افسوسناک سانحے پر ضلع بھر کی سماجی، تعلیمی اور عوامی شخصیات کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رکنِ اسمبلی پونچھ، اعجاز جان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر تبسم ناز کی ناگہانی وفات ایک بڑا سانحہ ہے، جس سے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورا تعلیمی حلقہ غمزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں مرحومہ کے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔انہوں نے حادثے میں شدید زخمی ہونے والے مرحومہ کے شوہر محمد حمید (وکی) کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں مکمل اور فوری شفا عطا فرمائے۔ڈگری کالج پونچھ کے اساتذہ، طلبہ اور مختلف سماجی تنظیموں نے بھی ڈاکٹر تبسم ناز کی علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نہایت باصلاحیت، مخلص اور فرض شناس معلمہ تھیں، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے سینکڑوں طلبہ کی رہنمائی کی۔ ان کی اچانک رحلت سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔مقامی عمائدین، مذہبی رہنماؤں اور نوجوانوں نے بھی اس سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعائیں کیں۔ سوشل میڈیا پر بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں لوگ مرحومہ کی شخصیت اور خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ادھر پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کو واضح کیا جا سکے۔ اس سانحے نے ایک بار پھر سڑکوں پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
بی اے ڈی سی کا ڈاکٹر تبسم ناز کے انتقال پر اظہارِ افسوس
جاوید اقبال
مینڈھر// جموں و کشمیر بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ کانفرنس نے پونچھ ڈگری کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر اور پونچھ کی رہائشی ڈاکٹر تبسم ناز کے المناک انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر تبسم ناز راجوری ہائی وے پر کلر کے قریب پیش آنے والے ایک دلخراش سڑک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں، جس سے پورے علاقے میں غم کی فضا قائم ہو گئی ہے۔اس افسوسناک حادثے میں ان کے شوہر بھی شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔ ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس پر اہلِ خانہ اور جاننے والوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔بی اے ڈی سی کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت پیش کی۔ انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر تبسم ناز ایک نہایت مخلص، باصلاحیت اور فرض شناس استاد تھیں، جنہوں نے تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی اچانک وفات تعلیمی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔تنظیم کے دیگر اراکین نے بھی مرحومہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت، بلندی، درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ ساتھ ہی زخمی افراد، خصوصاً ان کے شوہر کی جلد صحتیابی کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔بی اے ڈی سی نے اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ہر ممکن تعاون کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مینڈھر کے کوٹاں علاقے میں آلٹو کار حادثہ، 2زخمی
جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر کے علاقے کوٹاں میں جمعرات کی صبح ایک آلٹو کار حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ حادثے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ذرائع کے مطابق مذکورہ گاڑی دھارگلون سے مینڈھر کی طرف آ رہی تھی کہ کوٹاں کے قریب اچانک حادثہ پیش آ گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سڑک پر موجود مٹی اور پھسلن کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا، جس کے نتیجے میں گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے امدادی کارروائی انجام دیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طور پر سب ضلع ہسپتال مینڈھر منتقل کیا، جہاں دونوں کا علاج جاری ہے۔ زخمیوں کی شناخت محمد عظیم خان سکنہ کوٹاں اور آصف قریشی سکنہ دھارگلون کے طور پر کی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے حادثے کی ذمہ داری سڑک کی ناقص حالت پر عائد کرتے ہوئے برڈر روڈ آرگنائزیشن (BRO) پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جا رہی اور جگہ جگہ مٹی جمع ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کے پھسلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث اس طرح کے حادثات رونما ہو رہے ہیں۔لوگوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کی فوری مرمت اور صفائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ادھر پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دھیری ریلیوٹ میں سڑک حادثہ ،متعدد زخمی
عظمیٰ نیوز سروس
منجاکوٹ//منجا کوٹ تحصیل کے دھیری ریلیوٹ علاقہ میں گاڑیوں کے آپسی تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں ۔اس حادثے میں ایک مسافر بردار بس اور سومو گاڑی کے درمیان زور دار تصادم ہوا۔ حادثہ ایک پولی ہاؤس کے قریب پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ذرائع کے مطابق حادثے میں شامل بس (رجسٹریشن نمبر JK02DM 3471) اور سومو گاڑی (رجسٹریشن نمبر JK11 3600) آپس میں ٹکرا گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کا اگلا ٹائر اچانک پھٹ گیا، جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگوں اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو باہر نکالا اور انہیں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں چند کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔پولیس نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ درج کر لیا ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گاڑیوں کی فٹنس کا خاص خیال رکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
قاری محمد جمیل قاسمی السلفی سڑک حادثہ میں جاں بحق
محتشم احتشام
پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ میں اس وقت گہرے رنج و غم کی فضا قائم ہے جب یہ افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ جماعت اہلِ حدیث کے ممتاز عالمِ دین، قاری محمد جمیل قاسمی السلفی رحمہ اللہ، عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپسی پر ایک المناک سڑک حادثہ میں انتقال کرگئے۔ اُن کی ناگہانی وفات نے نہ صرف دینی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید صدمہ پہنچایا ہے۔مرحوم قاری محمد جمیل قاسمی السلفی ضلع پونچھ میں جماعت اہلِ حدیث کے لیے ایک قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے تھے۔ آپ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، دعوت و تبلیغ، اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف رہی۔ وہ نہایت نرم مزاج، خوش اخلاق، مخلص اور اعلیٰ کردار کے حامل انسان تھے، جنہوں نے اپنی عملی زندگی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔دینی و سماجی خدمات کے میدان میں آپ ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مدارس اور مساجد کی تعمیر و ترقی میں آپ کا کردار نمایاں رہا، جبکہ علومِ اسلامیہ کے فروغ کے لیے آپ کی کاوشیں اہلِ علم حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ موصوف کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جو خاموشی سے خدمت انجام دیتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی جدوجہد کرتے رہے۔مرحوم نہ صرف ایک متقی و پرہیزگار انسان تھے بلکہ غرباء ، مساکین اور ضرورت مندوں کے لیے ایک سہارا بھی تھے۔ وہ اہلِ علم کی سرپرستی اور مستحقین کی مدد میں ہمیشہ آگے رہتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں عوام میں بے حد عزت و محبت حاصل تھی۔ان کی وفات کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے مختلف دینی، سماجی اور عوامی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مقررین کا کہنا ہے کہ قاری مرحوم کی دینی خدمات اور فلاحی کام ان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے۔علماء کرام اور عوام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور پسماندگان سمیت جماعت اہلِ حدیث پونچھ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔