جموں // محکمہ دیہی ترقی میں براہ راست بھرتی کوٹا میں سے 79بلاک ڈیولپمنٹ آفیسران کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ ترقی پاکر اس عہدے پر پہنچنے والے افسران کی کئی اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں ۔حکومت کے مطابق براہ راست بھرتی کوٹاوالی اسامیوں کو پُر کرنے کا معاملہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے اٹھایا گیا ہے تاکہ جونیئر کے اے ایس افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جاسکے ۔ ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید احمد بیگ کے سوال کے تحریری جواب میں دیہی ترقی کے وزیر عبدالحق خان نے کہا کہ 79بلاک ڈولپمنٹ افسران کی اسامیاں خالی ہیں اورلوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کی جگہ اضافی چارج دے کر نزدیکی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسران سے کام کروایاجارہاہے ۔ وزیر کے مطابق جن سی ڈی بلاکوں میں بی ڈی او تعینات نہیں، اُن کی دیکھ ریکھ نزدیکی بلاکوں کے بی ڈی او کررہے ہیں تاکہ کام کاج متاثر نہ ہو۔ان کاکہناتھاکہ127سی ڈی بلاک پنچایت گھروں میں کام کر رہے ہیں اور 48کرائے کی عمارتوں میں ہیں ۔وزیر نے جواب میں بتایا کہ محکمہ کے پاس 70فیصد عملہ موجود ہے اور 30فیصد کی کمی پائی جا رہی ہے جس کیلئے محکمہ خزانہ اور پلاننگ کے ساتھ معاملہ اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئے قائم کردہ سی ڈی بلاکوں کیلئے نئے پنچائت انسپکٹروں کی اسامیاں معرض وجود میںلانے کی تجویز محکمہ خزانہ کو دی گئی ہے ۔جواب کے مطابق بارہمولہ ضلع میں سب سے زیادہ یعنی 11سی ڈی بلاکوں میں مستقل بی ڈی او تعینات نہیں اور وہاں افسران کو اضافی چارج دیا گیا ہے جبکہ کرگل کے 5،لیہہ کے 8،کولگام کے3،کپوارہ کے 7،اننت ناگ کے 7،بڈگام کے 3،پلوامہ کے 2،شوپیاں کے 4،جموں ضلع کے 2،کشتواڑ ضلع کے 1،راجوری ضلع کے 3،پونچھ ضلع کے 5،ریاسی ضلع کے 1،کشتواڑ ضلع کے 6،رام بن ضلع کے 3اور ڈوڈہ ضلع کے 3سی ڈی بلاکوں میں مستقل بی ڈی او تعینات نہیں ہیں اور اُن کی جگہ اضافی چارج دے کر بی ڈی اوز سے کام کروایاجارہاہے۔
جموں میں وزیر اعلیٰ کو تقریر کے دوران ٹوکا گیا
جموں//گورو روی داس کے یوم پیدائش کے سلسلہ میں منعقد ہ تقریب کے دوران درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے ترقیوںمیں ریزرویشن دئیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے شور شرابہ کیا۔ جونہی وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر شروع کی تو کچھ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے اور مخلوط سرکار کے خلاف نعرہ بازی کرنا شروع کردی۔ انہوں نے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا رکھی تھیں جن پرریاستی ملازمین کو ترقیوں میں ریزرویشن دینے کے مطالبات تحریر تھے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے یہ کہہ کر مظاہرین کو خاموش کر دیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے وہ اس پر سر دست کچھ بھی نہیں کہہ سکتیں۔ اس دوران انتظامیہ کمیٹی کے رضا کار اور پولیس اہلکاروں نے نعرہ بازی کر رہے نوجوانوں کو وہاں سے نکال دیا۔انہوں نے مجمع سے اپیل کی کہ یہ ایک مذہبی تقریب ہے اس میں غیر متعلقہ معاملات نہ اچھالے جائیں، اس دوران وزیر اعلیٰ نے ایک بارپھر مائک سنبھالااور لوگوں کو یقین دلایا کہ ’جس کا جو حق ہے وہ اسے ملے گا‘۔