ایجنسیز
جنیوا//بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت اور غیر مصالحتی مخالفت کرتا ہے اور بے گناہ جانوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘کی وکالت کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیرِ خارجہ نے بدھ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے اور اس کا مقابلہ اجتماعی عزم سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم درکار ہے، اور ہم اس کونسل اور وسیع تر اقوام متحدہ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے۔‘‘
جے شنکر نے کہا کہ بھارت ایسے وقت میں مشترکہ نکات تلاش کرنے کا خواہاں ہے جب دنیا تنازعات، تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ان کے مطابق بھارت ہمیشہ محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، تقسیم کے بجائے اتفاقِ رائے، اور محدود مفادات کے بجائے انسانیت پر مبنی ترقی کی وکالت کرتا آیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بھارت کا نقط نظر اس یقین پر مبنی ہے کہ کسی بھی خطے کا عدم تحفظ یا کسی بھی طبقے کی محرومی بالآخر سب کے حقوق اور فلاح کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو سیاست زدہ کرنے، امتیازی رویوں اور دوہرے معیار کے بجائے مکالمے، صلاحیت سازی اور حقیقی شراکت داری کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کی انسانی ہمدردی پر مبنی امداد جغرافیائی مفادات کے بجائے ہمدردی کے اصول پر استوار ہے۔ قدرتی آفات میں امداد، طبی سامان، ویکسین، غذائی اجناس اور ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے بھارت متعدد ممالک کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار ثابت ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس وقت انسانی حقوق کونسل کا منتخب رکن ہے اور یہ ذمہ داری عالمی برادری، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے اعتماد کی عکاس ہے۔ جے شنکر کے مطابق انسانی حقوق بھارت کے تہذیبی نظریے ’’وسودھیوا کٹمبکم‘‘کا حصہ ہیں، جو پوری دنیا کو ایک خاندان تصور کرتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ وبا، موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ نے پہلے سے موجود عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی کمیونٹیز تعلیم، خوراک و ایندھن کے تحفظ اور بڑھتے ہوئے قرضوں جیسے مسائل سے دوچار ہیں، اور یہ سب پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔