جموں//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کئے جانے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ دہشت گردی اور مذاکرات بیک وقت نہیں ہو سکتے ‘۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان ریٹائر برگیڈئر انل گپتا نے پریس کے لئے جاری اک بیان میں کہا ہے کہ فاروق عبداللہ بار بار وادی کشمیر میں قیام امن کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ مشروط کرتے ہیں حالانکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہندوستان نہیں بلکہ پاکستان ہی بات چیت کے تئیں غیر سنجیدہ ہے ۔ بی جے پی ترجمان فاروق عبداللہ کی طرف سے بڈگام میں دئیے گئے اس بیان پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے جس میں موصوف نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان نیوکلیائی ممالک ہیں اس لئے بات چیت ہی واحد متبادل بچتا ہے۔ گپتا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پاکستان پر بار ہا واضح کر دیا ہے کہ اسے سرحد پار دہشت گردی کو دی جانے والی امداد بند کرنے کے علاوہ اپنی سر زمین پر ملی ٹینسی کے ڈھانچے کو تباہ کر کے بات چیت کیلئے ماحول تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیائی ماحول میں بھی دیگر متبادل موجود ہیں جس میں کرگل جنگ اور سرجیکل سٹرائیک کی مثال پیش کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کو زخم دینے کے لئے پس پردہ جنگ کر رہا ہے اور ہندوستان کی طرف سے تعلقات کو معمول لانے کی کسی بھی کوشش کا مثبت جواب نہیں دیا ہے ۔