محمد ہا شم القاسمی
دعا ایک عبادت ہے، جس کو ادا کرنے کے لیے کسی وقت اور جگہ کی قید نہیں ہے۔ یہ ہر جگہ اور ہر وقت کی جاسکتی ہے۔ دعا، عاجزی، انکساری اور بے چارگی کے اظہار کو کہتے ہیں۔ عبادت کی اصل روح اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی بڑائی، کبریائی، قدرت و الوہیت کی اطاعت اور اپنی کم مائیگی، عاجزی ،انکساری اور ذلت کا اظہار کرنا ہے۔
دعا بندہ کی عبودیت کی علامت ہے۔ اس کے وسیلے سے بندہ اللہ کی توجہ طلب کرتا اور اس سے مدد اور رحمت حاصل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے بندہ اپنی حاجت کی درخواست اور بے بسی کا اظہار کرتا ہے۔ غیر اللہ کی طاقت و قوت سے برأت کا اظہار کرتا ہے۔ چناں چہ ہمیں قرآن کریم کے آغاز میں بھی دعا ملتی ہے اور اس کے اختتام میں بھی دعا ملتی ہے ۔
سورۃ فاتحہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ اس کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔ اسی طرح معوذتین میں بھی وہ اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے۔
پوری دنیا سے مایوس ہوکر ہر چہار جانب سے تھک ہار کر جب کوئی بےچارہ، بےبس، لاچار، مجبور ومقہور، ستم رسیدہ اور کمزور ولاغر بندہ اپنے ربّ کو پکارتا ہے تو وہ ذات فوراً اس کی چارہ جوئی کرتی ہے، اس کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے، اس کے غموں کو ہلکا کرتی ہے، بندہ جو کچھ مانگتا ہے عنایت کرتاہے اور جو آرزو کرتا ہے پوری کرتا ہے۔ بےشک وہ ذات ہے ربِّ کائنات کی، وہ ذات ہے وحدہٗ لاشریک کی، جو ہر حال میں، ہر وقت اپنے بندوں کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ ؐ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد محض 313 ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی، آپؐ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے ربّ سے گڑگڑا کر دعا مانگنے لگے: ’’یا اللہ ! مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ ! مجھے دیا ہوا عہد و پیمان مکمل فرما، یا اللہ اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے ربّ سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہے، حتی کہ آپکی چادر کندھوں سے گر گئی۔ ( مسلم شریف ) قرآن پاک میں ارشاد ہے :’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو (اے محمدؐ) کہہ دیجیے میں قریب ہی ہوں،ہر پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا ہوں‘‘۔(البقرۃ )اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو یقینااللہ ہر چیزکا علم رکھتا ہے۔(النساء)اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اورچپکے چپکے دعا مانگو ،بے شک وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الأعراف)
دعا کی فضیلت میں واردصحیح احادیث:
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعاکرتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا ، میں تمہیں معاف کرتا رہوں گا ،چاہے تم سے کچھ بھی خطا سر زد ہوتا رہے۔ابن آدم ! مجھے اس امر کی کوئی پروانہیں کہ اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں ، پھرتم مجھ سے بخشش طلب کرو تو میں تمہیں بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ ابن آدم !اگر تو گناہوں سے پوری زمین بھر کر لے آئے لیکن تمہارے دامن پر میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو تو میں اتنی ہی مغفرت لے کر آؤں گا اور تمہیں معاف کردوں گا‘‘۔(بخاری و مسلم)
حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتاہے ،’’ اے میرے بندو ! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں ہی کھلاؤں، پس تم سب مجھ ہی سے کھانا مانگو تاکہ میں تمہیں کھلاؤں۔ اے میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں ہی پہنا دوں، سو تم مجھ ہی سے لباس طلب کرو تاکہ میں تمہیں پہنا دوں ۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے ، تمہارے جن اور انسان سب ایک ہی میدان میں جمع ہو جائیں اور سب مل کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر سوال کرنے والے کو اس کی طلب کے مطابق عطا کردوں تو میرے خزانے میں سے اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی ہوتی ہے‘‘۔(بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا،اللہ عز وجل فرماتا ہے: ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہی اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں ۔ وہ جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے نفس میں مجھے یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتاہوں ۔ اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یادکرے تو میں بھی اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کرآتا ہوں‘‘۔(بخاری و مسلم) حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تقدیر الہٰی کو سوائے دُعا کے کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور سوائے نیکی کے کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرسکتی۔‘‘(مستدرک حاکم)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہؐ نے فرمایا:’’کوئی بھی مسلمان جب کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں کوئی گناہ اور قطع رحمی کی بات نہ ہو تو ایسے شخص کو تین میں سے ایک چیز ضرور عطا کردی جاتی ہے۔ یا تو اس کی دُعا فوری طور پر قبول کرلی جاتی ہے، یا اس دُعا کو آخرت کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے ، یا اس دُعا کے باعث کسی ایسی ہی آنے والی مصیبت کو ٹال دیا جاتا ہے‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ہم تو پھر بہت کثرت سے دعا کریں گے؟ اللہ کے رسول نے فرمایا: ’’ اللہ (کے ہاں دینے کے لیے ) بہت کچھ ہے۔‘‘(مسند احمد ومستدرک حاکم) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:’’آدمی کو اپنے ربّ کی سب سے زیادہ قربت اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، چنانچہ حالت ِ سجدہ میں بہت کثرت سے دعائیں کیا کرو‘‘۔(صحیح مسلم)حضرت نعمان بن بشیرؓ فرما تے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا عبادت ہے۔‘‘(ترمذی، أبو داود)
دعا ایسی عبادت ہے، جس کے لیے نہ کوئی وقت متعین ہے اور نہ حالت۔ انسان کسی بھی وقت بلند آواز سے یا آہستہ، سفر میں ہو یا حضر میں صحت مند ہو یا مرض میں مبتلا ،غرض کسی بھی حالت میں دعا کر سکتا ہے۔سختی، آزمائش اور مصیبت کے ازالے کے لیے دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔
دعا عبودیت کی علامت ہے۔ اس کے وسیلے سے بندہ اپنے اللہ رب العزت کی توجہ طلب کرتا اور اس سے مدد اور رحمت حاصل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنی حاجت کی درخواست اور بے بسی کا اظہار کرتا ہے۔ غیر اللہ کی طاقت و قوت سے برأت کا اظہار کرتا ہے۔ چناں چہ ہمیں قرآن مجید کے آغاز میں بھی دعا ملے گی اور اختتام میں بھی۔ سورۃ فاتحہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ اس کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔ اسی طرح معوذتین میں بھی وہ اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے۔
فضیلت ِ دعا کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’دعا سراسر عبادت ہے‘‘۔ (ترمذی) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ تین آدمیوں کی دعا قبول ہوجاتی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد کی دعا اپنے بیٹے کے حق میں۔‘‘(متفق علیہ)
مفسرین نے دعا قبول ہونے کی چند شرائط و آداب ذِکر فرمائے ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ دعا مانگنے میں اخلاص ہو۔ دعا مانگتے وقت دل دعا کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف مشغول نہ ہو۔ناجائز و گناہ کی دعا نہ مانگی جائے۔دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین رکھتا ہو۔اگر دعا کی قبولیت ظاہر نہ ہو تو وہ شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی لیکن وہ قبول نہ ہوئی۔ جب ان شرطوں کو پورا کرتے ہوئے دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول ہوتی ہے لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ قبولیتِ دعا کا اصل معنیٰ یہ ہے کہ بندے کی پکار پر اللہ تعالیٰ کا اُسے’’لَبَّیْکَ عَبْدِی‘‘ فرمانا۔ یہ ضروری نہیں کہ جو مانگا وہ مل جائے بلکہ مانگنے پر کچھ ملنے کا ظہور دوسری صورتوں میں بھی ہوسکتا ہے۔مثلاً اُس دعا کے مطابق گناہ معاف کردئیے جائیں یا آخرت میں اس کے لئے ثواب ذخیرہ کر دیا جائے یا اصل مانگی ہوئی شے کی جگہ اس سے بہتر چیز عطا کردی جائے یا اُس دعا میں مانگی ہوئی چیز بندے کی زیادہ ضرورت کے وقت تک مؤخرکردی جائے۔
دعائیں دینے والے سے بڑھ کر کوئی سخی نہیں، اور دعائیں سمیٹنے والے سے بڑھ کر کوئی دولت مند نہیں۔اللہ پاک ہم سب کو سدا خوش و آباد رکھے، عزت، برکت اور بلند مرتبہ اور تندرستی و صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے، رزق و روزی، مال و اولاد میں برکت عطا فرمائے، اور اپنے سوا کسی اور کا محتاج نہ کرے۔آمین
(رابطہ ۔9933598528 )
[email protected]>