سری نگر//نیتی آیوگ کے سالانہ سروے کے مطابق جموں وکشمیر نے ایک سال کے اَندر زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی درجہ بندی میں 22ویں پائیدان سے 5 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ کسانوں کی خاندانی کمائی کے لحاظ سے جموں وکشمیر آل اِنڈیا رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہے۔اِن باتوں کا اِظہار پرنسپل سیکرٹری بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری محکمے نوین کمار چودھری نے ’’ نیشنل مِلک ڈے‘‘ کی تقریبات کے دورا ن کیا۔پرنسپل سیکرٹری نے بذریعہ ورچیول موڈ ڈیری فارمروں او رمحکمہ مویشی پالن کے اَفسران سے خطاب کرتے ہوئے دودھ کو ’’ زندگی کا امرت‘‘ قرار دیا اور اُنہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سال 2022ء میں دودھ کی پیداوار 30 فیصد سے زیادہ ہوگی ۔ دُودھ کی ضرورت کے لئے پنجاب اور ہریانہ پر زیادہ انحصار کیا جائے۔پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ ان کے محکمہ کا مقصد دودھ اور پراسس شدہ دودھ کی مصنوعات کی پیداوار کو بڑھانا ہے ۔ اُنہوں نے ڈیری فارمروں پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں بڑی منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے واقف ہوں اور ان میں سے خواہش مندوں کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تربیت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔پرنسپل سیکرٹری نے مقامی دودھ کے پروڈیوسروں کے لئے ممکنہ منڈیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دودھ کی پروسسنگ ، ویلیو ایڈیشن اور ایسی مصنوعات کی برآمد پر زور دیا ۔ اُنہوں نے کہاکہ حکومت پورے ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک دبئی کی منڈیوں تک پہنچنے کے لئے کسانوں کو بڑے پیمانے پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔اُنہوں نے دودھ پیدا کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ دودھ کی پیداوار اور پروسسنگ کے دوران اعلیٰ معیار پر سختی سے عمل کریں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں کا خطہ بہترین معیار ی دودھ کی مصنوعات کے لئے جانا جاتا ہے۔نوین چودھری نے کسانوں کے لئے ان کی انتھک خدمات کی خاطر ویٹرنری ڈاکٹروں کی بھی تعریف کی۔یہ تقریبات کرشی بھون جموں میں منعقد ہوئیں جس میں ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری جموں ڈاکٹر ڈائیفوڈ ساگر دتاترے، جوائنٹ ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر ایم اے ٹاک ، جوائنٹ ڈائریکٹر پولٹری ڈاکٹر طارق پرویز ، ٹیکنیکل آفیسر جنرل ڈاکٹر راجیو منہاس ، ٹیکنیکل آفیسر پولٹری ڈاکٹر ابھینو چوہان کے علاوہ دیگر اَفسران اور ڈیری فارمروں نے شرکت کی۔