سیاحتی مقامات کی طویل بندش سے لوگوں کا روزگار متاثر،ریلیف پیکیج زیر غور:وزیراعلیٰ
عظمیٰ نیوز سروس
جموں///وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ متعدد سیاحتی مقامات کی طویل بندش سے مقامی نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت متاثرہ اَفراد کی مدد کے لئے ریلیف پیکیج پر غور کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ رُکن قانون ساز اسمبلی خانصاحب سیف الدین بٹ کے اُن کے حلقے میں سیاحتی مقامات کی بندش سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر مشہور سیاحتی مقامات دودھ پتھری، توسہ میدان اور یوسمرگ گزشتہ تقریباً نو ماہ سے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر سیاحتی سرگرمیوں کے لئے بند ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اِن سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ اُٹھائیں گے جو اِس وقت جموں و کشمیر کے دورے پر ہیں۔وزیر اعلیٰ جن کے پاس سیاحت کا قلمدان بھی ہے ، نے کہاطویل بندش نے مقامی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اور اے ٹی وِی آپریٹروں ، گاڑی مالکان ، پونی والوں ، سٹال مالکان ، گائیڈز اور دیگر شراکت دار جو اِن علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں پر منحصر ہیں ،کا روزگار بُری طرح متاثر کیاہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مسلسل بندش کے باعث مقامی نوجوانوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے جن میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جنہوں نے ان سیاحتی مقامات پر کاروبار چلانے کے لئے مختلف مالیاتی اِداروں سے قرضے حاصل کئے تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دودھ پتھری، توسہ میدان اور یوسمرگ کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ سیکورٹی امور سے جڑا ہوا ہے جو اِس وقت محکمہ سیاحت کے دائرہ اِختیار سے باہر ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اِس ضمن میں رُکن اسمبلی خانصاحب کی طرف سے ایک ڈی او لیٹر،ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام کو بذریعہ لیٹر نمبر ٹی ایس ایم ۔ ٹی ڈِی اے / 51 /2021 بتاریخ 29؍ اکتوبر 2025مناسب کارروائی کے لئے بھیجا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلگام میں پیش آئے ایک افسوسناک واقعے اور اِس کے نتیجے میں ضلعی اِنتظامیہ کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے دودھ پتھری میں سنو سکیٹنگ گیمز کا اِنعقاد نہیں ہو سکا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے توسہ میدان میں روپ وے پروجیکٹ کے بارے میں ایوان کو بتایا کہ گنڈولہ،روپ وے پروجیکٹ کو پی ڈبلیو ڈی ( آر اینڈ بی ) ڈیپارٹمنٹ نے نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ (این ایچ ایل ایم ایل ) کے ذریعے پروت مالا سکیم کے تحت تجویز کیا ہے جیسا کہ سرکاری آڈر نمبر 373۔پی ڈبلیو ( آر اینڈ بی) آف 2023 بتاریخ 6؍ ستمبر 2023 میں درج ہے۔
ُ
دُور دراز علاقوں میں خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کیلئے اَقدامات کئے
گریز میں بڑی حد تک منظور شدہ تعداد کے مطابق اَسامیاں پُر کی گئیں: وزیرا علیٰ عمر عبدا للہ
عظمیٰ نیوز سروس
جموں/// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان کو بتایا کہ گریز علاقے میں اَسامیوں کی بڑی حد تک منظوری شدہ تعداد کے مطابق تقرری عمل میں لائی جا چکی ہے اور عملہ مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق تعینات کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ رُکن اسمبلی گریز نذیر احمد خان (گریزی) کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت تمام خطوں میں عملے کی تعیناتی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتی ہے تاکہ دفاتر کے کام کاج اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جن کے پاس جنرل ایڈمنسٹریشن کا قلمدان بھی ہے، نے کہا کہ اگرچہ بعض محکموں میں وقتاً فوقتاً معمول کی اِنتظامی وجوہات کی بنا پر خالی اَسامیاں پیدا ہو جاتی ہیںلیکن سرکاری دفاتر کے مجموعی کام کاج کو متاثر کرنے والے عملے کی کوئی شدید کمی نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا،’’حکومت خالی اَسامیوں کو پُرکرنے اور عوامی خدمات کی بلا رُکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اَقدامات کر رہی ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید وضاحت کی کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت جموں و کشمیر میں سرکاری اَسامیوں بشمول درجہ چہارم اسامیوں کی بھرتی جموں و کشمیر سول سروسز (ڈی سینٹرلائزیشن اینڈ ریکروٹمنٹ) ایکٹ 2010 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق کی جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ڈی سینٹرلائزیشن اینڈ ریکروٹمنٹ ایکٹ جس میں مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر رِی آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے تحت ترمیم کیا ہے،، نوٹیفکیشن ایس او 1229 (اِی) بتاریخ 31؍ مارچ 2020 کے ذریعے قانون میں بیان کردہ ڈومیسائل کی بنیاد پر ملازمت فراہم کرتا ہے۔اُنہوں نے واضح کیا،’’تقرری کی اہلیت جموںوکشمیر یونین ٹیریٹری کے ڈومیسائل پر مبنی ہے اور اس ایکٹ یا قواعد کے تحت کسی مخصوص علاقے کے لئے کوئی علیحدہ ریزرویشن فراہم نہیں کی گئی ہے۔‘‘