سرینگر//مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ370کی بحالی کے بجائے جموں کشمیر کاریاستی درجہ بحال کئے جانے کے ممکنہ فیصلے کوجموں کشمیرکے لوگ مسترد کریں گے۔اس بات کااظہارسابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز نے ایک بیان میں کیا ہے۔ بیان میں سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر یونین کے ساتھ جموںوکشمیر کا آئینی رشتہ کمزور پڑ گیا ہے ،تو وہ مرکز کی طرف سے ریاست جموںوکشمیر کے حوالے سے اپنائی گئی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے مرکزی حکومت نے آج تک کی گئی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ اپنی غلطیوں کو دہرانا جاری رکھا ہے۔پروفیسر سوز نے مزیدکہا کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت پھر سے اپنی ایک غلطی کو دہراکر ریاستی سطح کا درجہ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔یعنی اب جموںوکشمیر کو یونین ٹریٹری کے بجائے ریاست جموںوکشمیر کہا جائے گا۔ مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہااصل بات یہ ہے کہ مرکز کو ریاست کی اندرونی خود مختاری کو پھر سے بحال کرنا ہوگا، جو آئین ہند کی دفعہ 370 میں محفوظ تھی۔ انہوں نے کہا کہ دریں اثنا ، کشمیر کے لوگوں نے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جہاں عوام اور ان کی حکومتوں کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ جموںوکشمیر کے لوگ اس بات سے بہت ہی ناراض ہے کہ مرکزی سرکار نے اُن کی داخلی خودمختاری کو غیر آئینی طریقے سے یکطرفہ طور کالعدم کیا ہے۔سوزنے کہا کہ جموںوکشمیر کے لوگ مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 کی بحالی کے بجائے ریاستی درجہ کی بحالی کو واضح طور پر مسترد کردیںگے ۔جموںوکشمیر کے لوگ مرکز پر ایک بار پھر یہ ثابت کردیں گے کہ دفعہ 370 کی بحالی نہ ہونے تک مرکز کے خلاف ان کا غصہ اور اضطراب کم نہیں ہوگا۔‘‘