سید مصطفیٰ احمد
آج ہماری زندگیاں مختلف ہندسوں کا شکار بن کر رہ گئی ہیں۔ خوشحالی کے ہندسے سے لے کر ترقی کے معیاری اعداد تک ہر طرف ایک دوڑ لگی ہے۔ ہر ملک یہ کوشش کر رہا ہے کہ دوسروں سے آگے نکل کر ہندسوں کے معاملے میں سبقت حاصل کرے۔ جس ملک کا ہندسہ جتنا اونچا ہوتا ہے، اتنی ہی اسے ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور تیسری بڑی معیشت بننے کی دوڑ میں شامل ہے، لیکن فی کس آمدنی کے معاملے میں ہم ابھی پیچھے ہیں۔ ‘Viksit Bharat’ کا خواب تب تک ادھورا رہے گا جب تک فی کس آمدنی میں واضح اضافہ نہیں ہوتا۔ کسی ملک کی مجموعی معیشت (GDP) چاہے جتنی بڑی ہو، اصل ترقی کا اندازہ لوگوں کی آمدنی، اخراجات اور بچت سے لگایا جاتا ہے۔ جب تک عوام کے پاس روزگار اور خرچ کرنے کے لیے پیسہ نہ ہو، حقیقی ترقی کا حصول محض ایک خواب ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور نئے منصوبوں کا افتتاح خوش آئند ہے، لیکن یہ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک عام شہری ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا نہیں کرتے۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں معیشت کا حجم چھوٹا ہونے کے باوجود انسانی ترقی کے اعلیٰ معیار موجود ہیں۔ سنگاپور، فن لینڈ اور یورپ کے کچھ ممالک اپنے شہریوں کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کرتے ہیں جو قابل تقلید ہیں۔ وہ ریگریسیو ٹیکس کے بجائے پروگریسیو ٹیکس نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ملک کا خزانہ صرف غریب اور متوسط طبقے کے ٹیکسوں پر انحصار کرے، تو اس ملک میں خوشحالی کا حصول مشکل ہے۔ جب خوشحالی کو نظرانداز کرکے دیگر معاملات کو ترجیح دی جاتی ہے، تو ملک کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہوتی ہے۔ انسانی وسائل کا زیاں ہوتا ہے اور ترقی کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پاتے۔ معاشرے میں کرپشن، بدعنوانی اور جرائم عام ہو جاتے ہیں۔ بڑی بڑی عمارتیں اور چمکتی سڑکیں اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی نہ ہو۔جب پرفریب ہندسوں پر توجہ مرکوز ہو جاتی ہے، تو ترقی کا راستہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک بڑا نقصان ‘برین ڈرین کی شکل میں نکلتا ہے، جب ملک کے ہونہار نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ معاشی خرابیاں سیاسی استحکام کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
خوشحالی ہی ترقی کی کنجی ہے۔ضروریاتِ زندگی کی تکمیل معیشت کے لیے چکناہٹ کا کام کرتی ہے۔ جب زیادہ تر لوگ خوشحال ہوں، تو معیشت میں خودبخود حرکت آجاتی ہے۔ اس سے مجموعی قومی ترقی کے تمام پیمانے،جیسے جی ڈی پی، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس، فی کس آمدنی بہتر ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک جامع سوچ، مربوط منصوبہ بندی اور مضبوط عمل درآمد کا تقاضا کرتا ہے۔ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق لے کر ملک کی حقیقی ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہ راستہ مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔
آئیے، خوشحالی کو اپنا بنیادی ہدف بنائیں اور مصنوعی ہندسوں کی دوڑ میں بہنے کے بجائے ملک کی ہمہ گیر ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی۔
[email protected]