سالِ نو
ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی
زندگی بڑی نعمت اور قیمتی سرمایہ ہے، اس کا صحیح استعمال انسان کے لئے دنیا کی کامیابی اور آخرت کی سرفرازی کا سبب ہوتا ہے۔ اس کی ناقدری انسان کو ہلاکت وبربادی تک پہنچا دیتی ہے۔ زمانہ گردش میں ہے، ایک سال جاتا ہے ،دوسرا سال آتا ہے، ایک سال کا اختتام اور دوسرے سال کا آغاز ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہماری زندگی اور ہماری عمر کا ایک سال کم ہوگیا ہے اور ہم ایک سال اور موت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔اسی طرح سال گزرتا ہے اور ہماری زندگی گھٹتی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے ہماری فکر اور ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم زندگی کو سنجیدگی اور منظم طریقے پر گزارنے کی کوشش کریں۔ گزشتہ سال میں کئے گئے اپنے اعمال اور اپنے کاموں کا محاسبہ کریں، اپنی کمزوریوں کود ور کریں اور اپنی زندگی کو اچھے کاموں میں لگائیں۔
نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہےکہ گزرے ہوئے سال میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ کیونکہ وقت کی مثال تیز دھوپ میں رکھی ہوئی برف کی سل کی طرح ہے،جس سے اگرفائدہ اٹھایا جائے تو بہتر ،ورنہ وہ پگھل جاتی ہے اور پگھل کر ختم ہوجاتی ہے۔
سال گزشتہ کا محاسبہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحات پر غوروفکر کریں کہ ہم نے عبادات، معاملات اور اعمال میں ان کے حقوق کو کہاں تک ادا کیا اور ہم نے کہاں کہاں کوتاہیاں کیں؟ ، حرام وحلال کا خیال رکھا کہ نہیں،؟ ہم نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی پوری طرح کی کہ نہیں ؟ اور ہم سے کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئیں،؟ اس لئے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کو دوسروں سے چھپاسکتے ہیں ،مگر خود اپنی نظروں سے نہیں چھپاسکتے، اس لئے خود احتسابی ضروری ہے۔ نبی کریمؐ نے تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے ۔(ترمذی شریف) اس لئے ہم سب کو اپنا اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ نے جو زندگی عطا کی ہے، اس کو کار آمد بنانے کے لئے خود احتسابی سے کام لینا چاہئے ، پھر بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے تیار ہونا چاہئے۔
خود احتسابی کامیابی کا پہلا زینہ ہے، اس کے ذریعہ ہم اپنی اچھائیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ماضی کی روشنی میں مستقبل کے لئے کردار سازی کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے منفی افکار کو مثبت افکار سے بدل سکتے ہیں۔ ماضی کے حالات کو سامنے رکھ کر مستقبل کے لئے لائحۂ عمل تیار کرسکتے ہیں۔ غرض خوداحتسابی کے ذریعہ سال گزشتہ کے اعمال وافکار کی روشنی میں مستقبل کے لئے خاکہ سازی میں آسانی اور سہولت ہوتی ہے۔
نیا سال یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو غنیمت سمجھیں، اپنے اوقات کی قدر کریں، ماضی کی کوتاہیوں پر نادم ہوں اور اس کی اصلاح کریں۔ نیا سال ہمیں یہ بھی پیغام دیتا ہے کہ ہم خرافات سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں صحیح فکر عطا کرے اور خود احتسابی کے بعد اچھی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرے۔
( رابطہ۔9835059987)
[email protected]