محمد بشارت
کوٹرنکہ //ضلع راجوری کے دور دراز بلاک خواص میں بنیادی سہولیات کی شدید قلت نے عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ترقیاتی کام محض کاغذی ریکارڈ تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ پنچایت حلقہ بڈھال اور اس سے ملحقہ علاقوں کے ایک نمائندہ وفد نے ایڈوکیٹ گوردیو سنگھ ٹھاکر کی قیادت میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ سے ملاقات کر کے عوام کو درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کیا۔وفد نے حکام کے سامنے خاص طور پر صحت کی سہولیات کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل سب سنٹر بڈھال گزشتہ ایک سال سے غیر فعال پڑا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو بنیادی طبی سہولیات کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اس صورتحال نے خاص طور پر بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔مقامی افراد کے مطابق سب سنٹر کی بندش کے باعث معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی لوگوں کو طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔اے ڈی سی کوٹرنکہ نے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے بلاک میڈیکل آفیسر کے ساتھ موقع پر ہی بات چیت کی اور وفد کو یقین دلایا کہ میڈیکل سب سنٹر بڈھال کو آئندہ دو دن کے اندر فعال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب سنٹر کی عمارت کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام بھی جلد شروع کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وفد نے اس موقع پر نہ صرف صحت بلکہ علاقے میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پانی اور دیگر عوامی خدمات کی بہتری کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاک خواص جیسے پسماندہ علاقوں میں فوری بنیادوں پر ترقیاتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔اے ڈی سی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں جلد عملی شکل اختیار کریں گی، بصورت دیگر عوام کو درپیش مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔