سرینگر// نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گذشتہ ایام کے دوران نہ صرف خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے بلکہ خواتین کے خلاف انسانی حقوق کی جو پامالیاں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے متعلق غیر سنجیدہ پالیسی کے اس حد تک خراب نتائج سامنے آگئے ہیں کہ اب سرِ راہ خواتین کی جامع تلاشیاں لی جارہی ہیں۔یہاں ایسے مناظر پُرآشوب دور میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔ انہوں نے کہا ’’ ہم ہر حال میں خواتین کے خلاف ہورہے مظالم کے خلاف آواز اُٹھاتے رہیں گے‘‘۔ خواتین ونگ کی صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سماج میں رسومات بدخصوصاً جہیز کی بدعت کے خاتمہ کیلئے ہمیں صف آرا ہونا چاہئے کیونکہ جہیز کی وجہ سے سماج کی بیٹیوں کو تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے جو کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اِس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سرکار میں ریاست کی خواتین کو پنچایت میں 33فیصدی کا کوٹا مختص رکھا تھا اور اُمید ہے کہ یہ 50فیصدی کیا جائے گا۔