سڑک رابطے مسدود،بجلی وپانی کی سپلائی متاثر،رہائشی مکانات ، دکانوں و درختان کو نقصان،بحالی کا کام جاری
عاصف بٹ+اشتیاق ملک +زاہد بشیر+محمد تسکین
جموں//محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق خطہ چناب میں موسم نے پھر کروٹ بدلی اور خطہ کے تینوں اضلاع میں تازہ برف باری اور بارشیں ہوئیں جس کے نتیجہ میں متعددعلاقوں میں سڑک رابطے مسدود ہوگئے جبکہ بجلی اور پانی کی سپلائی متاثر ہوئی جبکہ مکانات ،دکانوں اور درختوں کو نقصان پہنچا تاہم انتظامیہ کی جانب سے بحالی کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
کشتواڑ
منگل کو موسم نے ایک بار پھر کروٹ بدلی اور ضلع کے بالائی و میدانی علاقوں میں جم کر برفباری ہوئی ۔منگل کی صبح جہاں میدانی علاقوں میں ہلکی ہلکی بارشیں ہوتی رہیں وہیں بالائی علاقہ جات میں برفباری ہوئی ۔مڑواہ، واڑون ،دچھن ،مچیل ،پاڈر ،چھاترو ،چنگام ،سنگھ پورہ، کیشوان، ٹھکرائی، درابشالہ، سروڑ، کنتواڑہ اور بونجواہ میں کئی انچ تازہ برفباری ہوئی۔میدانی علاقوں میں بھی دوپہر کو شروع ہوئی برفباری کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور تین سے چار انچ تک تازہ برفباری ریکارڈ کی گئی ۔سڑک پر پھسلن پیداہونے کے سبب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیںاور ٹریفک نظام مفلوج ہوکررہ گیا۔ میدانی و بالائی علاقوں میں دیرگئے تک برفباری کا سلسلہ جاری تھا۔
ڈوڈہ
ڈوڈہ ضلع کے بالائی علاقوں میں منگل کو روز دوبارہ بارشوں و برفباری کا سلسلہ شروع ہوا جو دن بھر جاری رہی ۔اطلاعات کے مطابق پیر و منگل کی درمیانی شب ڈوڈہ ضلع کے میدانی علاقوں بارشیں و گندوہ بھلیسہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری و عسر مرمت کے مضافات میں برفباری شروع ہوا جو منگل کے روز دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا۔ تازہ برفباری و بارشوں سے جہاں درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے وہیں ایک بار پھر سے پانی، بجلی و سڑک نظام متاثر ہوئے ہیں۔ادھر گذشتہ ہفتہ ہوئی بھاری برفباری کے نتیجے میں پہلے ہی بجلی کے ترسیلی نظام و پانی کی سکیموں کو نقصان پہنچا تھا اور محکمہ نے تین روز بعد گندوہ بھلیسہ ،ٹھاٹھری و بھدرواہ کے مضافات میں بجلی بحال کی۔رابطہ سڑکوں پر بھاری پھسلن و کورا لگنے سے انتظامیہ نے پہلے ہی شبانہ ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی ہے۔
گول
سب ڈویژن گول کے گرد و نواح علاقوں میں حالیہ شدید برف باری کے بعد لوگوں کے مسائل میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔ جہاں آج پانچویں روز بھی ان دور دراز علاقوں میں سڑک رابطے بحال نہیں ہو پائے وہیں یہ علاقے بجلی کی سپلائی بحال نہ ہونے کی وجہ سے گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔اگر چہ اکثر سڑکوں پر برف ہٹانے کی اطلات تو ہیں لیکن سخت پھسلن کی وجہ سے یہاں پر گاڑیاں نہیں چل پا رہی ہیں ۔سب ڈویژن گول کے مختلف علاقوں سے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ گزشتہ جمعرات کی شدید برف باری کے بعد یہ علاقے مکمل طورپر سب ڈویژن گول سے کٹے ہوئے ہیں ۔ جہاں پیدل راستے بھی بند ہیں وہیں سڑکوں پر ٹریفک بھی بحال نہیں ہو پایا ۔کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی بھی مسلسل بند ہے ۔پنچایت کلی مستا سے بات کرتے ہوئے سابق سرپنچ احد اللہ مغل نے کہا کہ اگر چہ کئی مرتبہ فون کے بعد آج گیارہ بجے کے بعد پی ایم جی ایس وائی نے سڑک پر برف اُٹھانے کے لئے مشین بھیجی ہے لیکن بجلی آنے کی کوئی امید نہیںہے کیونکہ ان کا ملازم کوئی بھی دکھائی نہیں دیا۔ علاقے مہا کنڈ سے محمد اشرف کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی سپلائی مسلسل پانچویں روز سے بند پڑی ہے جس وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وہیں محمد عرفان نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ تراگوال موڑ سے داڑم اور مکجی سے گراٹ موڑ سڑکوں پر بھی برف ابھی تک نہیں اُٹھائی گئی ہے ۔ ادھرتنگالی گول کے محمد رفیق نامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گول کے آنگن میں اس علاقے میں بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہوئی گزشتہ پانچ روز سے لوگ گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو شدید برف باری کی وجہ سے ترسیلی لائنیں گر گئیں وہ بھی ابھی تک زمین پر پڑ ی ہوئی ہیں۔ یہاں گول بازار کے ساتھ مندر روڈ پر بھی برف نہیں ہٹائی گئی ہے ۔ عبدالرحیم نامی ایک سوشل ورکر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر چہ اس سلسلے میں اے ای ای سے بھی کئی مرتبہ بات کی تھی لیکن انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔گگر سولہ علاقے سے سابق سرپنچ عطا محمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وارڈ نمبر5گزشتہ پانچ روز سے لگا تار بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ۔نیابت اندھ سے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے سابق لیکچرار عبدالرشید بٹ نے کہا کہ گزشتہ شدید برف باری اور بارشوں و طوفائی ہوائوں کی وجہ سے یہاں پر جہاں رہائشی مکانات ، پھلداد درختوں کو نقصان پہنچا ہے وہیں یہ علاقے جس میں کئی پنچائتیں آتی ہیں گزشتہ پانچ روز سے مسلسل بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ وہیں علاقے بھیمداسہ سے بشیر احمد منہاس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ علاقے میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گزشتہ شدید برف باری کی وجہ سے رہائشی مکانات کے ساتھ ساتھ پھلدار درختان کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔برف کے بوجھ کی وجہ سے پھلدار درختوں کی شاخیں ٹوٹنے اور کئی جڑیں سمیت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ گول بازار کے ساتھ ایس ایچ او محمد افضل وانی کے مکان کی چھت شدید برف باری کے بعد برف کے بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے گر گئی ۔ وہیں گول بازار میں طوفانی ہائوں کی وجہ سے کم از کم چار دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ۔گول بازار میں اگر چہ محکمہ گریف نے برف ہٹائی لیکن دکانوں کے سامنے برف کے پہاڑ جمع ہو گئے ہیں جس وجہ سے دکانداروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہر ایک علاقے سے پھلدار درختوں اور رہائشی مکانات کے چھتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصو ل ہوئیں ۔ لوگوں نے انتظامیہ و سرکار سے مطالبہ کیا کہ تمام علاقہ جات میں ٹیمیں بھیجیں تا کہ وہ نقصانات کا تخمینہ لگا سکیں اور لوگوں کو بھر پور معاوضہ مل سکے ۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایس ڈی ایم گول امتیاز احمد نے کہا کہ شدید برف باری کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے زیادہ تر بجلی سپلائی کو نقصان ہوا ہے بڑے بڑے پیڑ گرنے کی وجہ سے ترسیلی لائنوں کو کافی نقصان پہنچا ہے جس وجہ سے بجلی بحال کرنے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گاگرہ روڈ پر ایک جگہ پر پسی آ رہی ہے جس وجہ سے وہاں سڑک پر آمد و رفت بحال کرنے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں جبکہ گول سب ڈویژن میں اکثر سڑکوں پر برف ہٹائی گئی ہے اور آمد و رفت کو بحال کر دیا گیا ہے ۔
بانہال
ضلع رام بن میں جمعہ کے روز سے جاری تیز ہواؤں اور شدید برفباری کے باعث بانہال، کھڑی، مہو منگت ، رامسو، نیل، رامبن، پوگل پرستان، سمبڑ، ورنال، سناسر، راجگڑھ اور سب ڈویژن گول سنگلدان و اندھ کے درجنوں علاقوں میں بجلی اور سڑکوں کا نظام بری طرح سے درہم برہم ہو گیا ہے اور موسمی خرابی کی لپیٹ میں آئے ہزاروں لوگوں کو دشواریوں کا سامنا تازہ برفباری کی وجہ سے مزید طول پکڑ گیا ہے۔ اگرچہ ضلع انتظامیہ رام بن ، سب ڈویژن بانہال، رامسو اور گول کے علاؤہ تحصیل انتظامیہ کی سطح پر برفباری سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور بجلی کی بحالی کا کام جاری تھا تاہم منگل کی صبح سے جاری تازہ برفباری کے باعث یہ عمل ایک بار پھر متاثر ہو گیا ہے اور دور دراز کے علاقوں میں سڑکوں اور بجلی کی بحالی میں مزید کئی روز کا وقت لگ سکتا ہے ۔لوگوں کا الزام ہےکہ انتظامیہ کے دعووں کے باوجود بانہال ، کھڑی ، سمبڑ ، رامسو ،نیل، اُکڑال پوگل پرستان ، النباس ، ہوچک ، سینابتی اور سناسر کے درجنوں علاقوں میں پانچ روز بعد بھی بجلی اور سڑکیں بحال نہیں کی گئی ہیں اور اس صورتحال کی وجہ سے معمول کی زندگی بری طرح سے اثر انداز ہوگئی ہے۔