کورونا کے اِس عالمی وباء نے جہاں پوری دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے وہی دوسری جانب اس وبائی دور میں لوگوں نے خیر سگالی، بھائی چارگی، ایثار و جذبہء انسانیت کی طرف کافی توجہ دی ہیں اور مختلف صورتوں میں لوگوں کی مدد کے لئے سامنے آئے ہیں – اس طرح ایسے لوگوں نے بہترین انسان ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے – ملک کے مختلف علاقوں میں ہندو، مسلم اور سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس مہا ماری میں ضرورت مندوں کی بھر پور امداد کی – موجودہ دور میں انسانیت کے تئیں خدمت شعاری کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے – خدمت شعاری کے تمام قسم کے شعبہ جات آج کے دور میںزیادہ ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ انسانی سماج کے وجود میں آنے سے ہی خدمت شعاری کا تصور ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ جذبہء خیر سگالی کو مزید فروغ دیا جائے۔ دینِ اسلام نے بھی اس جذبہ کو کافی سراہا ہے اور اس سے پسند فرما کر کافی اُجاگر کیا ہے ۔
حُسنِ اخلاق کی دلآوای کے لئے سب سے بہترین حسین و جمیل دلکش سیرت اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے- جس کی تصدیق رب العالمین نے زندہ معجزہ 'القرآن میں فرمائی ہیں- آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اپنے محبین کی نگاہوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون عطا کرتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت میں زندگی کے تمام دلکش پہلو جیسے عبادت، معاشرت، سماجیت، تبلیغ، خدمت، سخاوت، رحمت، صبر و برداشت، حلیمی، عفو و درگزر، عزت و تکریم، صلہ رحمی، ہمدردی، ایثار وغیرہ کی حسین و جمیل اور دلکش تصویر کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہیں-
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا ایک نمایاں دلکش پہلو خدمت شعاری ہے۔ نبوت سے قبل بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم انسانی خدمت کے لئے جزیرہ العرب میں بڑے مشہور و معروف مانے جاتے تھے- ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وہ تاریخی بیان بہت اہمیت کا حامل ہے، جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے ایسے کھلے دلائل پیش کئے ہیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی انسانیت دوستی اور انسانی خدمات کی غماز ہیں کہ رحمت للعالمين سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم بے سہارا لوگوں کے لئے سہارا بنتے، حسن سلوک کرتے ، ان کا بوجھ اٹھاتے ، کفالت کرتے ، نادار و محتاجوں کی مدد کرتے، مہمان نوازی کرتے اور مصیبت میں متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔
حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ نے گویا خدمت شعاری کے تمام شعبہ جات کی تقسیم کر دی، جس کے لئے آج بڑی بڑی تنظیمیں، انجمنیں اور بڑے بڑے ادارے ملک در ملک بڑی بڑی افرادی قوت کے ساتھ مشغول در عمل ہیں۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں سماجی کام کاج کے شعبہ جات (Department of Social Work) کی بنیاد اُسی تصور پر رکھی گئی ہیں۔
انسانیت کے تئیں خدمت کو ہر دور میں توقیر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے چہ جائیکہ یہ غریب و یتیم بچوں کی پرورش ہو، مفلوک الحال کی امداد کا ہو، کسی کا گھر بسانا ہو، بیواؤں کی بازآبادکاری ہو، مفت تعلیم و تربیت فراہم کرنا ہو، یتیم خانے کا قیام عمل میں لانا ہو، ضعیف العمر افراد کی نگہداشت کا احاطہ وقار بنانا ہو، ناگہانی آفت سے متاثرہ کنبوں کی دل جوئی کرنی ہو، بیماروں کے علاج و معالجہ کا نظم کرنا ہو، لاوارثوں کے کفن و دفن کا کام ہو، بے روزگاروں کو ہنر مند بنانے کا مقصد ہو، مسافروں کے کھانے، پینے اور رہنے کی سعی و جہد ہو، کپڑوں اور کتابوں کی مفت تقسیم کاری کا کام ہو، قیدیوں کی رہائی کے لئے قانونی امداد بہم پہنچانا ہو، منشیات سے پاک معاشرہ کی تنگ دو کرنا ہو، ناکام و نامراد انسانوں کے اندر امید پیدا کرنا ہو، دبے کچلے لوگوں کا سہارا بننا ہو جیسے سارے احسن کام ہمیشہ سے نیکی کے کام باور کئے گئے ہیںاور یہی خدمت شعاری کا ہمہ گیر تصّور ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے 'الخلق عیال اللہ ساری انسانیت کو اللہ رب العالمین کا کنبہ قرار دے کر خدمت شعاری کے میدان کو وسیع سے وسیع تر کر دیا ہے۔ اب تمام انسانوں کو بلا مذہب و ملت، رنگ و نسل، ذات و پات، عمر و جنس، شہری و دیہی علاقہ جات، زبان و ادب، تہذیب و تمدن، رہن و سہن کے ، ایک دوسرے کا ہم درد اور غم گسار بنا دیا گیا ہے۔ خدمت شعاری فی الواقع خالق کی خدمت ہے۔ مسلم شریف کی حدیث مبارک کے مطابق اس سے بڑھ کر سعادت اور شرف کا کیا مقام ہو سکتا ہے کہ انسان کسی بیمار کی تیمار داری کرے، کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھلائے اور کسی پیاسے کی پیاس بجھا کر اپنے ربّ کو پالے۔
خدمت شعاری کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک اہم ارشاد مبارک اس طرح ملتا ہے 'خیر الناس من ینفع الناس (صحیح الجامع؛ ۳۲۸۹)
یعنی ’’تم میں سب سے بہترین انسان وہ ہے جو اپنی ذات سے دوسرے کو نفع پہنچائے‘‘۔
رابطہ ہاری پاری گام ترال
فون ۔ 9858109109
�������