خدمات کی مستقلی کامطالبہ
کنٹریکچول لیکچراروں کے احتجاج کا295واں دن
جموں//کنٹریکچول لیکچراروں کی سلسلہ وار بھوک ہڑتال اوراحتجاج295ویں دن بھی جاری رہا۔بدھ کے روز پریس کلب کے باہربھوک ہڑتال پربیٹھے کنٹریکچول لیکچراروں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر کنٹریکچول لیکچراروں کے مسئلے کوحل کرنے کے تئیں غیر سنجیدگی برتنے کاالزام لگایا۔اس دوران مظاہرین نے نعرے بازی کی کہ ’کنٹریکچول لیکچراروں کومستقل کرو،ہماری مانگیں پوری کرو،شکشاکاشوشن کرنا بندکرو بندکرو، جے اینڈکے گورنمنٹ ہائے ہائے۔ ڈپٹی چیف منسٹرہائے ہائے۔گٹھ بندھن سرکارہائے ہائے۔ لائیں لائیں گے ہم کرانتی لائیں گے، کنٹریکچول لیکچرار وں کی پکار ہمیں ریگولرائز کرے ریاسی سرکار ۔ریگولرائز کرو گے تو وکاس ہوگا نہیں تو پتہ صاف ہوگا۔اس دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ارون بخشی نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت کے آرڈر نمبر 1584 edu آف 2003 اور آرڈر نمبر 1328 آف جی ا ے ڈی کے تحت تعینات کئے گئے عارضی لیکچراروں کی خدمات نیاحکمنامہ جاری ہونے تک جاری رکھی جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔سراپااحتجاج خواتین لیکچراروں نے کہاکہ حکومت پیارکی زبان نہیں بلکہ پتھرکی زبان سمجھتی ہے۔مظاہرین نے کہاکہ یہ کیسی حکومت ہے جوایک طرف عالمی یوم خواتین منانے کیلئے تقاریب کااہتمام کرتی ہے اورساتھ ہی بیٹی۔بچائو۔بیٹی پڑھائو سکیم کے تحت لڑکیوں کی ترقی کے دعوے کرتی ہیں لیکن دوسری طرف لڑکیوں کواپنے حقوق کیلئے سڑکوں پرآکر احتجاج کرنے پرمجبورکیاجارہاہے۔ اس دوران سلسلہ وارہڑتال پربیٹھے افرادمیں جیون کمار، انل کمار، پائل راجپوت اورپوجاسلاتھیہ شامل ہیں۔
مرکزکی طرف سے اقلیتوں کے نام پررقومات کی فراہمی
بی جے پی کاریاستی سرکارپرلوٹ کھسوٹ کاالزام
جموں//جموں وکشمیربی جے پی ترجمان وریندرگپتا نے ریاستی سرکارپرالزام عائد کیاکہ وہ مرکزی سرکارکی طرف سے ریاست کی اقلیتوں کے لئے فراہم کی جارہی رقومات کی لوٹ مارکررہی ہے ۔ریاست میں اقلیتی کمیشن کے قیام سے متعلق سپریم کورٹ میں جموں وکشمیرحکومت کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے بی جے پی ترجمان نے کہاکہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکارکی پالیسی ملک کودھوکادینا ہے ۔جموں وکشمیرسرکارکی جانب سے اپیکس کورٹ میں پیش کیے گئے حلفیہ بیان میں کہاگیاہے کہ نیشنل کمیشن برائے مائنارٹی ایکٹ 1992 کے تحت ریاستی سرکارریاستی سطح کے مائنارٹی کمیشن تشکیل دینے کی پابندنہیں ہے ۔گپتانے کہاکہ ریاستی سرکارکی پالیسی اقلیتی طبقوں کے نام پربھارت سرکارسے رقومات حاصل کرکے ان کی لوٹ مارکرناہے ۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی کل آبادی میں مسلمان 68 فیصدہیں اس لیے وہ اقلیتی طبقہ کے طورپرفوائدحاصل کرنے کے حقدارنہیں ہیں۔
جگٹی ٹائون شپ میں دوروزہ طبی کیمپ 16دسمبرسے
جموں//جگٹی ٹائون شپ جہاں زائد از 4500مہاجرپنڈت کنبے رہائش پذیر ہیں کے لئے سنیچروارسے دوروزہ طبی کیمپ کااہتمام کیاجارہاہے ۔کیمپ کے دوران بھارت کے 17نامور ڈاکٹربیماراشخاص کاطبی معائینہ کریں گے۔یہ بات وشواکشمیری پنڈت سمتی کے سربراہ کرن واتل نے یہاںمیڈیاکودی۔ واتل نے امید ظاہرکی کہ اس دوران سبھی ضرورت مند افرادکاطبی معائینہ اورعلاج ومعالجہ کیاجائے گا۔ اس کیمپ کے دوران لیب انوسٹی گیشن باڈی پروفائل ٹیسٹ ،ای سی جی،بی ایم ڈی اورپی ایف ٹی مفت کئے جائیں گے ۔ملک کے مختلف حصوں میں کام کررہے جموں وکشمیرکے ماہرڈاکٹرمریضوں کامعائینہ اور علاج کریں گے ۔یہ کیمپ 16اور17 دسمبر2017تک جار ی رہے گا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کارکن رضامحمودخان کی گمشدگی
تاریگامی کی سول سوسائٹی سی حکام پردبائوبنانے کی اپیل
جموں//پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن رضا محمود خان کو بازیاب کرنے پر زور دیتے ہوئے سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما و ممبراسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ پاکستان کی سیول سوسائٹی کو اس سلسلے میں اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرکے پاکستانی حکام پر دبائو بناناچاہئے تاکہ رضا خان کے بارے میں کچھ پتہ چل سکے ۔ پریس کے نام جاری بیان کے مطابق تاریگامی نے کہاکہ انسانی حقوق کا یہ کارکن دو دسمبر سے لاہور سے غائب ہے جس کی بازیابی کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ رضا خان کے لاپتہ ہونے پر دونوں ممالک کے امن پسند کارکنان کو تشویش لاحق ہے اوران کی سلامتی کو یقینی بنایاجاناچاہئے ۔انہوںنے کہاکہ رضا خان لاہور سیول سوسائٹی کے رکن ہیں اور وہ آغاز دوستی کے کنوینئر بھی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ تنظیم امن وترقی اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی وکالت کرتی ہے ۔ تاریگامی نے کہاکہ رضا خان جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جو دونوں ممالک کے درمیان رشتے بہتر بنانے کیلئے کام کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ انہیں یقین ہے کہ رضا کی بہت جلد بازیابی ہوگی ۔
نیشنل کانفرنس ایکس سروس مین سیل میں نامزدگیاں
برگیڈیئرکے کے لکھن پال چیرمین اوررشیداحمدنائب چیئرمین
جموں//نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے برگیڈیئر(ریٹائرڈ) کے۔کے لکھن پال اورلیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ)رشیداحمدکونیشنل کانفرنس ایکس سروس مین اورویرناریز ویلفیئرسیل جموںکابالترتیب چیئرمین اورنائب چیئرمین نامزدکیاہے۔سیل ایکس سروس مین اورشہداکی بیویوں سے متعلق مسائل کواُجاگرکرنے کاکام کرتاہے۔برگیڈیئرلکھن پال نے کہاکہ این سی ایکس سروس مین اورویرناریز ویلفیئرسیل جموں کی ضلع اکائیاں جلدتشکیل دی جائیں گی۔
نائب وزیر اعلیٰ کا منیر السلام کے ساتھ اظہارِ تعزیت
جموں //نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے ناظمِ اطلاعات منیر السلام کے برادر عبدالمتین کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ، جو دوروزقبل انتقال کر گئے ۔ڈاکٹر سنگھ نے مرحوم کی روح کے ابدی سکون اور سوگوار کنبے کے ساتھ اظیارِ ہمدردی کیا ۔
پرائیویٹ ٹیوشن سے متعلق حکومت کی وضاحت
اساتذہ کو متعلقہ محکمہ سے اجازت حاصل کرنالازمی
نیوز ڈیسک
جموں //ریاستی حکومت نے آج اخباروں میں چھپی اس خبر کی تردید کی ہے کہ جس میں سرکاری اساتذہ کو پرائیویٹ ٹیوشن کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ایک پریس سٹیٹمنٹ کے ذریعے محکمہ تعلیم نے ایک نمائندے نے یہ بات واضح کرد ی ہے کہ محکمہ نے اپنے ایک حکمنامے میں کہا ہے کہ کوئی بھی استاد پرائیویٹ کوچنگ مراکز میں پرائیویٹ ٹیوشن نہیں کرسکتا ہے جب تک نہ متعلقہ محکمہ سے اسے اجازت حاصل ہوئی ہوگی ۔ترجمان نے کہا کہ میڈیا میں چھپی خبر بالکل بے بنیاد ہے جس میں لوگوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔نمائندے نے مزید کہا ہے کہ ایسے اساتذہ کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو محکمہ کی طرف سے جاری کئے گئے ہدایات کاتمسخر بنانے کے مرتکب پائے جائیں۔ترجمان نے کہا کہ ریاستی حکومت سرکاری سکولوںمیں طلاب کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی وعدہ بند ہے اور اس سلسلے میں حکومت نے اساتذہ کی تربیت فراہم کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچے میں بہتر ی لانے اور کئی فلیگ شپ پروگراموں کو شروع کیا ہے۔
بھیم سنگھ کی گجرات اسمبلی انتخابات منسوخ کرنے کی اپیل
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے الیکشن کمیشن کو زوردار خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ گجرات اسمبلی انتخابات ۔2017 کو منسوخ کردیا جائے کیوں کہ بی جے پی اور کانگریس نے گجرات اسمبلی الیکشن کے دوسرے مرحلہ کی تشہیر کے آخری دن 12دسمبر 2017 کو مندر سے رائے دہندگان سے ان کی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی کہ جو ضابطہ اخلاق اور آئین ہند کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ توہین بھی ہے ۔پروفیسر بھیم سنگھ نے الیکشن کمیشن کو تحریر کردہ خط میں کہا کہ میں خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ 12دسمبر 2017کو گجرات میں تھا جہاں میں نے کئی سیاسی افراد سے احمد آباد میں ملاقات کی۔انہوں نے کہاکہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے واضح طورپر دکھا یا ہے کہ ہندستان کے وزیراعظم نریند ر مودی اور کانگریس نومنتخب صدر راہل گاندھی وہاں کے مختلف مشہور مندروں میں گئے جہاں انہوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کی الیکشن میں کامیابی کے لئے پوجا کی اور رائے دہندگان سے اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی جبکہ کانگریس صدر راہل گاندھی بھی گجرات اسمبلی انتخابات میں جیت کے لئے بھگوان کا آشیروا د لینے کے لئے ایک مقامی مندر گئے اور انہوں نے بھی اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کی رائے دہندگان سے اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا شخص لوگوں کی حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کے لئے مندر یا مذہبی ادارہ کا استعمال نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون گجرات میں بھی نافذ ہوتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاست داں پارلیمانی یا اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے لئے مندر یا کسی مذہبی ادارہ کا استعمال نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی سیاسی جماعت یا سیاست داں ایسا کرتا ہے تویہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی۔گجرات سے واپس آئے پروفیسر بھیم سنگھ نے الیکشن کمشنر پر زور دیا کہ بے خوف ،دلیری سے کام لیتے ہوئے ہندستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مفادمیں گجرات اسمبلی انتخابات کو فوراًً ملتوی کردیں۔اس کے علاوہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہاکہ وہ گجرات اسمبلی انتخابات کے تعلق سے آگے کی کارروائی پر غور و خوض کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی میٹنگ بلائیں جس سے کوئی بھی شخص یاسیاسی جماعت خواہ وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہوں انتخابات میں کامیابی کے لئے مندر یا مذہبی ادارے کا استعمال نہ کرسکے۔