کل جماعتی میٹنگ میں قانون سازی امور پر غور و خوض
یو این آئی
نئی دہلی// پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت قواعد و ضوابط کے دائرے میں کام کرتی ہے اور تمام مسائل پر بحث کے لیے تیار ہے۔ کرن رجیجو نے بجٹ اجلاس سے قبل کل جماعتی اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ قواعد کے مطابق بجٹ سیشن میں تمام بحثیں بجٹ پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ بجٹ سیشن کا آغاز صدر جمہوریہ کے خطاب سے ہوتا ہے، اس کے بعد تحریک شکریہ پر بحث ہوتی ہے۔ اس کے بعد بجٹ پر عام بحث شروع ہوتی ہے۔ شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران، اراکین مختلف مسائل اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ خطاب میں حکومت کے کام کاج کا بیان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہر بات سننے کو تیار ہے۔ اپوزیشن ہنگامہ کر کے ایوان میں خلل ڈالے تو مسئلہ سنگین ہوجائے گا۔ حکومت تمام مسائل پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن یہ بجٹ سیشن ہے، اس لیے بجٹ پر بحث کرنا اور اسے پاس کرنا اصول کا تقاضا ہے۔ ہم قوانین سے ہٹ کر کام نہیں کرتے ہيں۔ آئین سے ملک پر حکومت ہوتی ہے؛ کوئی بھی اپنے طور پر کام نہیں کرتا ہے۔اس دوران بجٹ اجلاس کے آغاز سے قبل منگل کو کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ایوانوں کے قانون سازی سے متعلق امور اور دیگر موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کل جماعتی میٹنگ میں حکمراں جماعت کی جانب سے وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور قانون و انصاف کے وزیر ارجن رام میگھوال شریک ہوئے اپوزیشن کی طرف سے کانگریس کے جے رام رمیش، کوڈیکُنل سریش، ترنمول کانگریس کی ساگرِکا گھوش، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو، شیوسینا (اُدھو گروپ) کے اروند ساونت سمیت کئی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے اجلاس میں حصہ لیا۔پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 28 جنوری سے شروع ہو کر 2 اپریل تک چلے گا۔ بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس میں صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے خطاب سے شروع ہوگا۔