سرینگر // کشمیر میں بڑے پروجیکٹوں کی تعمیر کے دوران جنگلات کا بے تحاشہ کٹائو نہ صرف کشمیر کے ماحولیات کیلئے تباہ کن ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے انتہائی خطرناک بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا اور ماحولیاتی توازن بگاڑنے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔کشمیر میں سانبہ امر گڑھ ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے دوران قریب 11ہزار درختوں کا صفایا کیا گیااور اب زوجیلا اور زیڈ موڑ سرنگوں کی تعمیر کے دوران بھی کم سے کم 10ہزار پیڑ پودوں کو کاٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اگرچہ محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ سبھی پیڑ نہیں کٹیں گے، البتہ منصوبے کی تکمیل کیلئے انہیں مارک کر کے رکھا گیا ہے ۔لیکن ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں صورتحال کو انتہائی گھمبیر ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔ کئی سال قبل بیکن حکام نے بنگس درنگیاڑی سڑک کی تعمیر کے دوران بڑے پیمانے پر جنگلات کو نقصان پہنچا یا تھا۔ اس وقت بھی کچھ ایسا ہی کہا گیا تھا۔محکمہ ماحولیات کے مطابق اگر کسی جنگل میں دیودار یا کائرو کا پیڑ کٹتا ہے تو اْس کی جگہ اگر کوئی نیا پیڑ لگایا جائے تو وہ 60سے لیکر 100سال میں جا کر بڑا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اربن پلاننگ میں اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام اگرچہ یہ کہتی ہے کہ پرشور مقامات جیسے فیکٹریوں اور کارخانوں کے قریب زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیںلیکن یہاں تعمیر وترقی کو پہلی اور ماحولیات کو دوسری ترجیح دی جا تی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کو لداخ سے جوڑنا اچھی بات ہے لیکن اسکے لئے درختوں کا صفایا کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ماہرین کے مطابق جنگلات آکسیجن خارج کرتے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے۔ ایک عام درخت سال میں تقریباً بارہ کلو گرام کاربن ڈائیکسائیڈ جذب کرتا ہے اور چار افراد کے کنبے کیلئے سال بھر کی آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ڈائریکٹر ڈزاسٹر منجمنٹ عامر علی کا کہنا ہے کہ جنگلات کے کٹائو سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور موسمی تبدیلی بھی آتی ہے۔عامر نے کہا کہ پہاڑی ڈھلانوں پردرختوں کی موجودگی سے ان علاقوں کی زرخیزی متاثرنہیں ہوتی ، نیز پہاڑیوں پر درختوں کی موجودگی سے پسیاں نہیں گرتی اور پہاڑیوں کی سطح کمزور نہیں پڑتی۔عامر علی نے کہا کہ درختوں کے کٹائو سے آنے والے وقت میں گرمیوں اور سردیوں میں اضافہ ہو گا ۔عامر علی نے کہا کہ سرکاروں کی یہ پالیسی ہے کہ اگر آپ کسی جگہ 1درخت کو کاٹتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ اس کی جگہ 10درخت لگائے جائیں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ درخت اُگیں ۔انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی لازمی ہے لیکن اسے قبل ہمیں اس چیز کا دھیان رکھنا ہے کہ تباہ کن صورتحال بھی پیدا نہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ پر درختوں کو کاٹنا بھی ہے، تو وہاں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی جائے ۔ملک میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے سرکردہ وکیل ڈاکٹر گوپال کرشنا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا یہ چیز ہماری آنے والی نسلوں کیلئے انتہائی تباہ کن ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سماج میں جس طرح انسانوں کو رہنے کا حق ہے ،اسی طرح پیڑ پودوں اور درختوں کے بھی اپنے حقوق ہیں ۔ گوپال نے کہا کہ ریاستوں کے پاس اس کی روکتھام کیلئے جو قوانین ہیں، وہ کافی پُرانے ہیں اور ان پر برسوں سے کوئی ترمیم نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ سرکاریں ماحولیات ، درختوں ، آبی زخائر کے تحفظ کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ یہ اسی سے ثابت ہو رہا ہے کہ ڈیولپمنٹ کے نام پر ماحولیات کو قربان کیا جا رہا ہے ۔ڈاکٹر گوپال نے کہا کہ سرکاروں کو اس جانب توجہ دی جانی چاہئے ،تاکہ ماحولیات کو بچایا جا سکے ۔ڈاکٹر گوپال نے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تعمیر وترقی کے نام پر ماحولیات کے خاتمہ کی جو سوچ ہے یہ ایک دن سب کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور آنے والی نسلوں کیلئے صورتحال انتہائی تباہ کن ہو سکتی ہے ۔کشمیر کے حوالے سے انہیں نے کہا کہ وہاں کی خوبصورتی اس سے متاثر ہو گی اور وہاں سیلاب کا خطرہ بڑھے گا ۔ ڈاکٹر کرشنا نے درختوں کے فوائد کے متعلق کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ درخت کی جڑیں نہ صرف خود اضافی پانی کو جذب کرتی ہیں بلکہ مٹی کو بھی پانی جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں جس کے باعث پانی جمع ہو کر سیلاب کی شکل اختیار نہیں کرتا ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح درخت سیلابوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اسی طرح یہ قحط اور خشک سالی سے بھی بچاتے ہیں۔چیف کنزرویٹر فاریسٹ فاروق احمد گیلانی نے پلو جھاڑتے ہوئے کہا کہ جہاں کہیں بھی پیڑ پودے کاٹے جاتے ہیں وہاں پر ایک پلان کے تحت چار سے پانچ گناہ زیادہ شجرکاری کی جاتی ہے ۔