عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزارتِ داخلہ نے ہفتہ کے روز کالعدم تنظیموں جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ ، ٹی آر ایف اور جماعت الدعوۃ سے وابستہ 23 افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے)کے تحت انفرادی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔دستیاب وزارتِ داخلہ کی مختلف نوٹیفکیشنز کے مطابق، نامزد کیے گئے افراد ملی ٹینٹ حملوں، نوجوانوں کی بھرتی، دراندازی، ملی ٹینٹوں کی مالی معاونت، اسلحہ کی اسمگلنگ اور ملی ٹینسی کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کرنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
نوٹیفکیشنز کے مطابق، 23 نامزد افراد میں سے 11 کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے، جبکہ باقی پاکستانی شہری ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 11 افراد میں سے 7 اس وقت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او کے) جبکہ 4 پاکستان میں مقیم ہیں۔
پی او کے میں مقیم جموں و کشمیر کے باشندوں میں مسعود الیاس کشمیری (راولاکوٹ)، مفتی محمد اصغر خان (عباس پور)، حافظ عبدالشکور (کوٹلی)، عبداللہ جہادی (کندل شاہی، نیلم)، غلام فرید (بادنگ، بھمبر)، سوپور کے بلال احمد میر (مظفرآباد) اور بارہمولہ کے عابد قیوم لون (پی او کے) شامل ہیں۔پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے باشندوں میں اننت ناگ کے ہارون رشید گنائی، ڈوڈہ کے نذیر احمد گوجر،پلوامہ کے اویس فاروق میراور محمد شہید فیصل شامل ہیں، جن کا اصل تعلق بنگلورو سے بتایا گیا ہے مگر ان کا بھارتی پتہ درج ہے، جبکہ وہ اس وقت راولپنڈی میں مقیم ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق، نامزد کیے گئے افراد میں سے 10 کا تعلق جیشِ محمد جبکہ 13 کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہے، جن میں بعض افراد دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) اور جماعت الدعوۃ (JuD) سے بھی وابستہ ہیں۔وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افراد ملی ٹینٹوں کی بھرتی اور تربیت، جموں و کشمیر میں دراندازی، ملی ٹینٹ حملوں کی منصوبہ بندی، ڈرونز اور سرحد پار نیٹ ورکس کے ذریعے اسلحہ و گولہ بارود کی ترسیل، فنڈنگ، لاجسٹک سپورٹ اور ملی ٹینٹ تربیتی کیمپ چلانے جیسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ جیشِ محمد سے وابستہ کئی آپریٹوز کو 2016 کے نگروٹہ آرمی کیمپ حملےاور 2022 کے سنجواں حملےسے بھی جوڑا گیا ہے۔یو اے پی اے کے تحت نامزد کیے گئے پاکستان میں مقیم سینئر آپریٹوز میں عبدالرؤف، حافظ خالد ولید، مولانا سیف اللہ خالد، محمد یعقوب، مولانا یوسف طیبی، قاری یعقوب شیخ، رانا افتخار، وسیم نور جٹ، اشفاق احمد، مولانا امداد اللہ مکی اورمحمد مصدق شامل ہیں۔
ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد شہید فیصل کے تعلقات لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، القاعدہ اور داعش سے رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق وہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی بھرتی، پاکستان میں اسلحہ کی تربیت کا انتظام، فنڈنگ، خفیہ مواصلاتی ذرائع اور جعلی شناختوں کی تربیت، نیز اسلحہ و گولہ بارود کی ترسیل میں ملوث رہا ہے۔
مرکزی حکومت نے کہا کہ اس نے یو اے پی اے کی دفعہ 35کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان 23 افراد کو انفرادی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ان نئے اندراجات کے بعد یو اے پی اے کے چوتھے شیڈول میں شامل نامزد انفرادی دہشت گردوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر80ہو گئی ہے۔
یو اے پی اے کے تحت 23 افراد انفرادی دہشت گرد قرار، 11 کا تعلق جموں و کشمیر سے:وزارتِ داخلہ