سمت بھارگو
راجوری// لائن آف کنٹرول پر راجوری ضلع میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ڈرون دراندازی کی دو کوششوں کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں نے تازہ الرٹ جاری کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں نگرانی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد حساس سرحدی پٹی میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے اور فورسز کو ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لئے مکمل چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق پہلی ڈرون دراندازی کی کوشش اتوار کے روز سامنے آئی تھی، جبکہ دوسرا واقعہ منگل کی شام راجوری کے کیری علاقے میں پیش آیا۔ ایل او سی پر تعینات فوجی دستوں نے مشتبہ ڈرون کو بروقت دیکھ لیا اور اسے مار گرانے کی غرض سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈرون کو مکمل طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم فورسز کی فوری کارروائی نے کسی بھی ممکنہ خطرے کو ٹال دیا۔ان مسلسل واقعات کے بعد سرحدی ضلع میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
سیکورٹی ایجنسیوں نے ایل او سی کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں میں بھی نگرانی کے نظام کو مضبوط کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ جدید آلات کے ذریعے فضائی اور زمینی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایل او سی پر تعینات تمام دستوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ڈرون خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دشمن عناصر مزید ایسی کوششیں کر سکتے ہیں تاکہ سیکورٹی نظام کا جائزہ لیا جا سکے یا سرحد پار سرگرمیوں کو آسان بنایا جا سکے۔ اسی تناظر میں فورسز کو ہر قسم کی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔منگل کی شام پیش آنے والے واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے میں ایریا ڈومینیشن مشقیں بھی شروع کر دیں۔ ایل او سی سے ملحقہ دیہات اور جنگلاتی علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا مشکوک نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں علاقے پر مکمل کنٹرول قائم رکھنے اور عوام میں تحفظ کے احساس کو مضبوط کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور فورسز چوبیس گھنٹے چوکس ہیں تاکہ سرحدی پٹی میں کسی بھی مہم جوئی کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر پہلے ہی کڑی نگرانی موجود ہے، تاہم حالیہ ڈرون واقعات کے بعد اسے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔مقامی سطح پر بھی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے، تاہم سیکورٹی حکام نے یقین دلایا ہے کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ شے یا سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی پولیس یا فوجی چوکی کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔سیکورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سرحدی نگرانی کو ایک نیا چیلنج بنا دیا ہے، جس کے پیش نظر جدید آلات اور مربوط حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ اقدامات کو اسی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ایل او سی کے ساتھ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو ابتدا ہی میں ناکام بنایا جا سکے۔