محتشم احتشام
پونچھ//حویلی حلقہ سے رکنِ قانون ساز اسمبلی، اعجاز احمد جان نے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے منسوب مبینہ حجاب واقعہ پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نہایت افسوسناک، تشویشناک اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ملک بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے اور سماج میں بے چینی و اضطراب کو جنم دیا ہے۔ایم ایل اے اعجاز جان نے کہا کہ مذہبی علامات، عقائد یا روایات کی توہین یا ان کے بارے میں غیر محتاط طرزِ عمل، ہندوستان کے آئینی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے، جو سیکولرازم، مساوات اور باہمی احترام جیسے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں حساسیت، شائستگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ حجاب محض لباس کا کوئی ٹکڑا نہیں بلکہ مسلم خواتین کیلئے ایمان، شناخت، وقار اور ذاتی انتخاب کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی شعائر کو کم تر ثابت کرنا یا ان کا مذاق اڑانا نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ سماج میں بداعتمادی اور تفریق کو بھی فروغ دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’ایسے اقدامات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور مختلف طبقات کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتے ہیں‘۔جان نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مبینہ واقعے پر مسلم برادری سے غیر مشروط عوامی معافی مانگیں۔ ان کے مطابق، حساس معاملات پر خاموشی یا تاویلیں پیش کرنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے اور عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’اعتماد کی بحالی اور سیکولر و جمہوری اقدار سے وابستگی کے اعادے کے لئے عوامی معافی ناگزیر ہے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ایسے بیانات یا حرکات سے اجتناب کریں جو فرقہ وارانہ جذبات کو مجروح یا مشتعل کر سکتے ہوں۔ انہوں نے اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ امن و امان کو برقرار رکھیں اور کسی کو سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ دیں۔ادھر اس مبینہ واقعے پر ملک کے مختلف حصوں میں ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ کمیونٹی رہنماؤں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے مذہبی آزادیوں کے احترام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملے پر بحث کے جاری رہنے کے ساتھ ہی بہار حکومت سے وضاحت اور اصلاحی اقدامات کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔