محتشم احتشام
پونچھ//جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے جل جیون مشن (جے جے ایم) میں مبینہ بے ضابطگیوں، تاخیر اور مالی بدانتظامی کی شکایات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ہاؤس کمیٹی نے اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لاتے ہوئے ضلع پونچھ کے سرحدی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین حسنین مسعودی کی قیادت میں ارکان نے لائن آف کنٹرول سے متصل پنچایت سلوٹری پہنچ کر جاری کاموں کا موقع پر جائزہ لیا اور زمینی حقائق سے براہِ راست آگاہی حاصل کی۔تفصیلات کے مطابق کثیر الجماعتی ہاؤس کمیٹی نے علاقے میں جل جیون مشن کے تحت جاری منصوبوں کی رفتار، معیار اور افادیت کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس دوران پائپ لائن بچھانے کے معیار، گھریلو نل کنکشن کی فراہمی، پانی کی دستیابی اور سپلائی کے معیار جیسے اہم پہلوؤں کا خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کے افسران سے پیش رفت کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں اور مختلف مقامات پر جاری کاموں کی حالت کا مشاہدہ کیا۔
دورے کے دوران کمیٹی کے ارکان نے مقامی باشندوں، پنچایتی نمائندوں اور متعلقہ حکام سے براہِ راست بات چیت بھی کی تاکہ منصوبے کی اصل صورتِ حال سامنے آ سکے۔ مقامی لوگوں نے پانی کی غیر منظم فراہمی، کئی منصوبوں کی نامکمل حالت اور تعمیراتی کاموں میں ناقص معیار سے متعلق متعدد شکایات پیش کیں۔ کمیٹی نے ان شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی فلاح سے جڑے ایسے منصوبوں میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی اور خامیوں کے ازالے کے لیے مؤثر اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔ذرائع کے مطابق ہاؤس کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ جل جیون مشن کے لیے مختص فنڈز شفاف اور مؤثر انداز میں استعمال ہوئے یا نہیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کمیٹی اس سے قبل راجوری اور ادھم پور جیسے اضلاع کا دورہ کر چکی ہے، جبکہ اب اس کی توجہ سرحدی اور دور افتادہ علاقوں پر مرکوز ہے تاکہ وہاں اسکیم کی حقیقی صورتِ حال کو سمجھا جا سکے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہاؤس کمیٹی جلد ہی اپنی جامع رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں نہ صرف خامیوں کی نشاندہی کی جائے گی بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور جل جیون مشن کی مؤثر عمل آوری کے لیے ٹھوس سفارشات بھی شامل ہوں گی۔