معصوم مراد آبادی
جون ایلیا کی پیدائش امروہہ کے جس خاندان میں ہوئی تھی وہاں شعر وشاعری اور علم وآگہی کے دریا بہتے تھے۔ یہ اپنے آپ میں انوکھی مثال ہے کہ ان کے گھر میں پیدا ہونے والا ہر شخص شاعر تھا۔ اس طرح وہ خاندانی شاعر تو تھے ہی‘ جس ماحول میں ان کی پرورش اور پرداخت ہوئی وہ بھی ایک نہایت کشادہ اور وسیع تھا‘ جہاں تنگ نظری کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ شعر وادب کا سلسلہ ان کے یہاں کئی پشتوں سے چلا آرہا ہے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا چار بھائی تھے اور چاروں کے چاروں شاعر تھے۔ ان کے دادا سید نصیر حسن نصیر بھی شاعر تھے اور پردادا سید امیر حسن امیر اردو اور فارسی دونوں میں شعر کہتے تھے۔ بقول جون ایلیا سید امیر حسن کے داد اسید سلطان احمد، میر تقی میرؔ کے ارشد تلامذہ سیدعبدالرسول نثاراکبرآبادی کے شاگرد تھے۔ خودجون ایلیا کو بھی میر سے شدید عشق تھا۔ جون ایلیا کے قریبی دوست انیق احمد نے ان کی کیفیات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’جون ایلیا اذیت پسند، اذیت رساں اور بے چین روح کا نام تھا۔ جون ایلیا کو تاریخ، عمرانیات،مذاہب عالم، فلسفہ، شاعری اور بے شمار علوم کا شغف نہیں، ان پر عبور حاصل تھا۔ وہ شاعری کرنا نہیں،شاعری میں رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ سرتا پاشاعر تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر شخص ان سے ہمیشہ علمی اور ادبی موضوعات پر گفتگو کرے۔ وہ اس عہد سے گلہ مند تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ان سے ان کی خواہش معلوم کی جاتی تو وہ اس عہد میں پیدا ہونا ہی پسند نہ کرتے۔‘‘
جون ایلیا کو شاعری کے ساتھ فلسفہ پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اشتراکیت کے ہمنوا ہوئے۔ جون ایلیا نے اپنی زندگی میں جس قدر نشیب وفراز کا مقابلہ کیا اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا تمام ہوگیا ہوتا مگر یہ غالبا علم کا فیضان تھا کہ اس نے انہیں کبھی بالکل ٹوٹنے اور بکھرنے نہیں دیاوگرنہ وہ عمر کے ایک حصہ میں جن کیفیات سے دوچار رہے ہیں اس میں خود کو سنبھالنا اور یکجا رکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ بے مثال شاعری کرنے کے باوجودتقریباً 30سال تک اپنے شعری مجموعے کی اشاعت سے فرار اختیار کئے رہے، حالانکہ اس کاسبب بھی تھا اور وہ بھی بڑاعجیب۔ ان کے کئی عزیزوں، دوستوں اور چاہنے والوں نے ان کے مجموعہ کلام کی اشاعت کے لئے انتھک کوششیں کیں لیکن جون نے کسی کو قابو نہیں دیا اور یہ کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ انہوں نے ’’شاید‘‘ کے دیباچہ میں اس روئیداد کو کچھ اس طرح قلم بند کیا ہے۔
’’آپ سوچتے ہوں گے کہ میں نے اپنا کلام نہ چھپوانے میں آخر اتنا مبالغہ کیوں کیا۔ اس کی وجہ میرا ایک احساس جرم اور روحانی اذیت ہے …میں جس اذیت ناک حالت میں مجموعہ مرتب کرنے پرمامور ہوا تھا اس حالت میں شاید ہی کسی شاعر نے اپنا مجموعہ مرتب کیا ہو۔ میں اس حالت سے کہیں زیادہ اذیت ناک حال میں تھا اور ہوں، جس میں دسویں صدی عیسوی کے عظیم المرتبت ادیب اور مفکر ابو حیان توحیدی نے اپنے حالات سے تنگ آکر اور اس عہد کے ’’باذوق امراء‘‘ کی خوشنودی حاصل کرنے کی ناگوار مشقت سے بیزار ہوکر اپنی ناکام زندگی کے آخری لمحوں میں اپنی تصنیفات کے مسودے جلوادیئے تھے۔‘‘
جون ایلیا نے اپنی عمر کے تقریباً دس برس نہایت اذیت ناک نفسیاتی الجھنوں میں گزارے جس سے ان کے دل ودماغ پر گہرا اثر پڑا اور وہ اس عرصہ میں دنیا ومافیہا سے بے خبر ہوگئے تھے۔ انہوں نے اس کیفیت کوجس انداز میں بیان کیا ہے اسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں:
’’1986 کا ذکر ہے، میری حالت گزشتہ دس برس سے سخت ابتر تھی۔ میں ایک نیم تاریک کمرے کے اندر ایک گوشے میں سہما بیٹھا رہتا تھا۔ مجھے روشنی سے، آوازوں سے اور لوگوں سے ڈرلگتا تھا۔ ایک دن میرا عزیز بھائی سلیم جعفری مجھ سے ملنے آیا۔ وہ چند روز پہلے دبئی سے کراچی آیا تھا۔ اس نے مجھ سے کہاکہ جون بھائی، میں آپ کو فرار اور گریز کی زندگی نہیں گزارنے دوں گا۔ آپ نے مجھے لڑکپن سے انقلاب کے، عوام کی فتح مندی اور لاطبقاتی سماج کے خواب دکھائے ہیں۔ میں نے کہا۔ ’’تجھے معلوم ہے کہ میں سالہا سال سے کس عذاب میں مبتلا ہوں؟ میرا دماغ، دماغ نہیں، بھوبل ہے آنکھیں ہیں کہ زخموں کی طرح تپکتی ہیں۔ اگر پڑھنے یا لکھنے کے لئے کاغذ پر چند ثانیوں کو بھی نظر جماتا ہوں تو ایسی حالت گزرتی ہے جیسے مجھے آشوب چشم کی شکایت ہو اور ماہ تموز میں جہنم کے اندر جہنم پڑھنا پڑھ رہا ہو۔ یہ دوسری بات ہے کہ میں اب بھی اپنے خوابوں کو نہیں ہارا ہوں۔ میری آنکھیں دہکتی ہیں مگر میرے خوابوں کے خنک چشمے کی لہریں اب بھی میرے پلکوں کو چھوتی ہیں۔‘‘ (‘‘شاید صفحہ 13)
جون ایلیا نے اپنے قیمتی اشعار کے مجموعے کو چھپوانے میں 30سال کا طویل عرصہ کیوں لگایااور وہ بھی ایک ایسے زمانے میں جب کہ برائے نام شعراء نے اپنے درجنوں مجموعے چھپوا کر انعام واکرام کی بارش ہی نہیں کروائی بلکہ وہ ان مجموعوں کی ضخامت کو دیکھ کر شاعر قرار دے دیئے گئے۔ جون ایلیا نے اس کا جو سبب بیان کیا ہے وہ بھی کچھ کم کربناک نہیں ہے۔ ملاحظ ہو:
’’موسم سرما کی ایک سہ پہر تھی۔ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ بابا مجھے شمالی کمرے میں لے گئے۔ نہ جانے کیوں وہ بہت اداس تھے۔ میں بھی اداس ہوگیا۔ وہ مغربی کھڑکی کے برابر کھڑے ہوکر مجھ سے کہنے لگے کہ تم مجھ سے ایک وعدہ کرو۔ میں نے پوچھا۔ ’’بتائیے بابا! کیاوعدہ؟‘‘
انہوں نے کہا ’’یہ کہ تم بڑے ہوکر میری کتابیں ضرور چھپواؤگے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’بابا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں جب بڑا ہوجاؤں گا تو آپ کی کتابیں ضرور ضرور چھپواؤں گا۔‘‘
مگر میں بابا سے کیا ہو ایہ وعدہ پور انہیں کرسکا۔ میں بڑا نہیں ہوسکا اور میرے بابا کی تقریباً تمام تصنیفات ضائع ہوگئیں۔ بس چند متفرق مسودے رہ گئے ہی۔ یہی میراوہ احساس جرم ہے جس کے سبب میں اپنے کلام کی اشاعت سے گریزاں ہی نہیں متنفر رہا ہوں۔‘‘
جون ایلیا کی پرورش جس ماحول میں ہوئی وہاں ہر وقت علم کی گفتگو ہوتی تھی۔ علم ہیئت سے انہیں اور ان کے والد کو گہر اشغف تھا۔ بقول خود ان کے گھر میں عطارد، مریخ، زہرہ اور مشتری وغیرہ کا اتنا ذکر ہوتا تھا جیسے یہ سیارے ان کے افراد خانہ میں شامل ہوں۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا علم ہیئت کے ماہر تھے۔ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے جون ایلیا نے لکھا ہے کہ:
’’جب میں نے ہوش کی آنکھیں کھولیں تو اپنے گھر میں صبح سے شام تک شاعری، تاریخ، مذاہب عالم، علم ہیئت (Astronomy) اور فلسفہ کا دفتر کھلا دیکھا اور بحث ومباحثہ کا ہنگامہ گرم پایا۔ اس تمام سرگرمی کا مرکز ہمارے بابا علامہ سید شفیق حسن ایلیا تھا۔ وہ کئی علوم کے جامع تھے اور کئی زبانیں جانتے تھے یعنی عربی، انگریزی، فارسی، عبرانی اور سنسکرت۔ وہ صبح سے شام تک لکھتے رہتے تھے اور تقریباً اسی یقین کے ساتھ کہ ان کا لکھا ہوا چھپے گا نہیں۔‘‘
جون ایلیا کی زندگی کا سفر 8نومبر 2002 کو کراچی میں تمام ضرور ہوگیا‘ لیکن انہوں نے جوعلمی و ادبی سرمایہ بطور میراث چھوڑا ہے‘وہ ان کو دنیا ئے شعر وسخن میں تادیرزندہ رکھے گا۔ ان کی قلندرانہ ادائیں چاہنے والوںکو ہمیشہ ستاتی رہیں گی۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنے ہی اس شعر کی تعبیر بن کر دنیا سے رخصت ہوئے ؎
خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
[email protected]>