قدرت نے انسان کو بے انتہا نعمتوں سے نوازا ہے ۔یہ زمین و آسمان صرف اور صرف انسان کے لئے سجایا گیا ۔قدرت نے عرش کو چاند اور ستاروں سے سجایا ہے اور فرش کو سر سبز و شاداب جنگلات ،خوبصورت سحرائوں سے اور دلکش پانی کے جھرنوں سے سجایا ہے ۔اگر ہم ا ن تمام اسباب کا جائزہ لیں تو یہ بھی قدرتی کارنامے انسان کی خوشحالی کے لئے قدرت نے بنائے ہیں۔یہ تمام وسائل انسان ی زندگی کے لئے ازحد ضروری ہیں۔جہاں تک جنگلات کا تعلق ہے تو یہ قدرتی وسائل میں سے سب سے اہم ذریعہ ہے ،جہاں سے نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی لا محدود فواید حاصل کرتے ہیں ۔اس بات سے کون نا آشنا ہے کہ جنگلات ہماری زندگی کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں ۔جنگلوں سے ہماری ہزاروں ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔صبح سے لے کر شام تک ہم ان جنگلوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جنگلات موسمی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔جنگلات زیادہو ہوں تو بارش وقت پر ہوتی ہے۔پیر پودے ہوا کو صاف کرتے ہیں ۔پیڑ پودوں سے ہی انسانوں اور جانوروں کو آکسیجن ملتا ہے ۔کارخانوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں انسانوں اور جانوروں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لیکن جنگلات ہمیں اس ماحولیاتی االودگی سے بچاتے ہیں ۔اگر وقت پر بارش ہوتی ہے تو فصلوں میں دو گنا اضافہ ہوتا ہے اور کسانوں کے لئے فایدہ مند ثابت ہوسکتا ہے،کیونکہ ہندوستان کا ساٹھ فیصد طبقہ ابھی بھی ایگریکلچر سے جُڑا ہوا ہے۔ہم جنگلوں سے لکڑی کاٹ کر پیڑ پودوں کا صفایا کرتے ہیں اور اپنی راحت کے لئے بڑے بڑے بنگلے بناتے ہیں ۔جنگلوں میں طرح طرح کی جذی بوٹیا ں اُگتی ہیں جو دوائیاں بنانے کے کام آتی ہیں۔
موجودہ صورت حال پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہر طرف جنگلوں کو ختم کیا جارہا ہے۔انسان جنگل کا دشمن بن گیا ہے۔لوگوں نے غیر قانونی طور پر جنگلات کی اراضی پر قبضہ جمایا ہے اور اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ہمارے ملک کا تقریباً 23فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جو روز بہ روز سُکڑتا جارہا ہے ۔ناجائز طور پر درختوں کی کٹائی کا عمل جاری و ساری ہے اور کچھ نادان اور کم فہم لوگ جنگلوں کو آگ لگاکر راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ہم نے اپنے اانے والے مستقبل کو دائو پر لگادیا ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے شدید مشکلات پیدا کردی ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں انسان اپنی آسائش کے لئے جگہ جگہ سڑکیں بناتی ہیں ۔ان سڑکوں کی وجہ سے ہمارے جنگلات سُکڑ کر رہ گئے ہیں۔بڑے بڑے کارخانے بنائے گئے ،ان کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں انسانوں اور جانوروں کے لئے نقصان دہ ہے۔
انسان نے اپنی راحت کے لئے جنگلوں میں رہے والے لوکھوں اور کروڑوں جانوں کو ختم کردیا ہے۔ہم نے اپنے اانے والے مستقبل کو مشکلات میں ڈالا ہے ،اگر آج وقت پر بارش نہیں ہوتی تو اس کا سب سےبڑا سبب پیڑ پودوں کی کمی ہے۔پیڑ پودے مٹی کے کٹائو کو روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔جب تیز بارشیں ہوتی ہیں تو وہ اپنے ساتھ مٹی کو بہاکر لے جاتی ہے۔لیکن پیڑ پودے اس مٹی کو پانی میں بہہ جانے سے روکتے ہیں۔بہر حال ابھی بھی وقت ہے کہ ہمیں جنگلوں کی حفاظت کرنی چاہئے ۔زیادہ سے زیادہ درخت اُگانے چاہئے ۔جنگلات میں اضافہ ہونا چاہئے ۔جو لوگ جنگلوں کا نقصان کرتے ہیں انہیں سمجھانا چاہئے اور جو نہ سمجھے انہیں قانونی طور پر کری سے کڑے سزا ملنی چاہئے۔
جنگلات کی حفات کے لئے ہندوستانی سرکار نے 1980میں"Fores Conservation Act"بنایا ہے۔اس ایکٹ میں بنائے گئے قوانین پر ہم کو بھی عمل کرنی چاہئے۔ہم جنگلوں کی حفاظت کریں گے تو ہمارا مستقبل روشن ہوگا ۔ہماری اانے والی نسلیں بھی اارام کریں گی ۔جنگلوں کی حفاظت نہ صرف سرکار کی ذمہ داری ہے بلکہ ہرفرد کی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا غلط استعمال کرنا گناہ ِ عظیم اور جرم ِ عظیم ہے۔حکومت ِ ہند اور ریاستی سرکار کو مل کر جنگلوں کے تحفظ کے لئے اچھے اچھے اقدامات اٹانے چاہئے ۔جنگلوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہونا چاہئے۔